9 جون 2026 - 22:19
حصۂ سوئم | دشمن کے مقابلے میں ڈٹ جاؤ، قدرت مطلق اللہ ہے

خدائے متعال سورۂ فصلت (یا سورہ حم سجدہ) میں صابر مؤمنوں سے ارشاد فرماتا ہے کہ وہ اس کے سوا کسی بھی طاقت سے نہ گھبرائیں اور انہیں یہ بشارت دی جاتی ہے کہ "أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا" ۔ یہ آیات بتاتی ہیں کہ دشمن کے سامنے ڈٹے رہنے کا راز اللہ کی مطلق قدرت پر بھروسہ کرنا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ قرآن کریم کی سورۂ فصلت کی آیات 30 تا 38، حق و باطل کی جنگی کشمکش میں اہل ایمان کی حیثیت کی واضح تصویر پیش کرتی ہیں۔ یہ آیات ایک طرف ثابت قدم مؤمنین کے زبردست اجر کو بیان کرتی ہیں اور دوسری طرف دشمنیوں، وسوسوں اور محاذِ باطل کی شر پسندیوں اور شر انگیزیوں سے نمٹنے کا طریقہ سکھاتی ہیں۔

حصۂ سوئم:

دشمن کے وسوسے سے بچنے کے لئے خدا کی پناہ مانگنا

باطل محاذ کے خلاف جنگ کے راستے میں صرف بیرونی دشمن ہی خطرہ نہیں پیدا کرتا، شیطانی وسوسے بھی انسان کو حق کے راستے سے ہٹا سکتے ہیں۔ اسی لئے خدائے متعال ارشاد فرماتا ہے:

"وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ؛

اور اگر شیطان کا ورغلانا آپ کو منحرف کرنا چاہے تو اللہ سے پناہ مانگو۔"

یہ آیت بتاتی ہے کہ مؤمن کو برائیوں اور دشمنیوں کا سامنا کرتے وقت بھی تقویٰ کے دائرے سے باہر نہیں نکلنا چاہئے۔ اگر اس کے دل میں غصہ، انتقام یا کوئی شیطانی وسوسہ پیدا ہو جائے تو اسے فوراً خدا کی پناہ لینی چاہئے، کیونکہ صرف خدا ہی بہت سننے والا اور بڑا جاننے والا ہے اور انسان کو بہک جانے اور لغزش سے دوچار ہونے، سے بچا سکتا ہے۔

اس حصے کی آخری آیات اللہ کی قدرت کی نشانیوں کی یاددہانی کراتے ہوئے غیراللہ کی پرستش سے باز رکھتی ہیں۔ خدائے متعال نے سورج اور چاند کی طرف اشارہ کرنے کے بعد ارشاد فرمایا:

"لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ؛

تم نہ تو سورج کو سجدہ کرو اور نہ ہی چاند کو، بلکہ اللہ کو سجدہ کرو۔"

المیزان کے مطابق، یہ آیات کریمہ در حقیقت توحید اور یکتا پرستی پر تاکید کرتی ہیں، یہ وہ اصول ہے جو محاذِ حق کی تمام فتوحات کی بنیاد ہے۔ جب بھی انسان ظاہری طاقتوں سے دل لگا لیتا ہے تو وہ کمزوری اور شکست کا شکار ہو جاتا ہے، لیکن اگر وہ صرف خدا کو اپنا معبود اور سہارا سمجھے تو وہ قدرت اور نصرت کے ایک ختم نہ ہونے والے سرچشمے سے فیض یاب ہو گا۔

خلاصہ:

سورۂ فصلت کی آیات 30 تا 38 محاذِ حق کے لئے ایک واضح پیغام کی حامل ہیں، کہ ایمان استقامت کے بغیر ثمرآور نہیں ہوتا، استقامت توکل کے بغیر قائم نہیں رہتی، اور فتح اللہ کی بندگی کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔

خداوند نے اہل ایمان سے وعدہ کیا ہے کہ وہ دنیا اور آخرت میں ان کی مدد کرے گا، خوف اور غم کو ان کے دلوں سے دور کر دے گا، اور ان کے لئے کرامت و سعادت سے مالامال انجام رقم کرے گا۔ یہ الٰہی وعدہ، حق کے راستے میں دشمنوں اور مشکلات کا سامنا کرتے وقت مؤمنین کا سب سے بڑا سہارا ہے۔

قرآن کریم کے صفحہ 480 پر ان آیات کی تلاوت دیکھیں اور سنیں جو قرآن کریم کے صفحہ ۴۸۰ پر واقع ہیں۔ سورۂ فصلت کی آیت ۳۷ سجدہ واجب رکھتی ہے۔

سورہ فصلت کی آیت 37 واجب سجدے کی حامل ہے۔

اختتام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: مہدی احمدی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha