9 جون 2026 - 19:25
حصۂ اول | دشمن کے مقابلے میں ڈٹ جاؤ، قدرت مطلق اللہ ہے

خدائے متعال سورۂ فصلت (یا سورہ حم سجدہ) میں صابر مؤمنوں سے ارشاد فرماتا ہے کہ وہ اس کے سوا کسی بھی طاقت سے نہ گھبرائیں اور انہیں یہ بشارت دی جاتی ہے کہ "أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا" ۔ یہ آیات بتاتی ہیں کہ دشمن کے سامنے ڈٹے رہنے کا راز اللہ کی مطلق قدرت پر بھروسہ کرنا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ قرآن کریم کی سورۂ فصلت کی آیات 30 تا 38، حق و باطل کی جنگی کشمکش میں اہل ایمان کی حیثیت کی واضح تصویر پیش کرتی ہیں۔ یہ آیات ایک طرف ثابت قدم مؤمنین کے زبردست اجر کو بیان کرتی ہیں اور دوسری طرف دشمنیوں، وسوسوں اور محاذِ باطل کی شر پسندیوں اور شر انگیزیوں سے نمٹنے کا طریقہ سکھاتی ہیں۔

علامہ طباطبائی اپنی تفسیر "المیزان" میں سورۂ فصلت کے اس حصے کو مؤمنین کی حمایت اور محاذِ حق کی حتمی کامیابی میں خدا کی جاری سنت کا مظہر قرار دیتے ہیں، یہ وہ سنت ہے جو ایمان، استقامت اور خدا کی بندگی کے محور پر تشکیل پاتی ہے۔

"رَبُّنَا اللَّهُ" استقامت کے راستے کا آغاز ہے

آیات اس بڑی بشارت سے شروع ہوتی ہیں:

"إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا؛

وہ جنہوں نے کہا ہمارا مالک اللہ ہے اور پھر مضبوطی کے ساتھ جمے رہے، ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ افسوس کرو۔"

یعنی صرف ایمان کا دعویٰ کافی نہیں، جو چیز انسان کو اللہ کے اولیاء میں شامل کرتی ہے وہ اس ایمان کے تقاضوں پر ثابت قدم رہنا ہے۔ استقامت یعنی انسان عقیدے، عمل، اخلاق اور زندگی کے راستے میں اللہ کے راستے سے نہ ہٹے اور دشمنوں کے دباؤ اور دھمکیوں سے، ڈر کر، پسپا نہ ہو۔

"ثُمَّ اسْتَقَامُوا" توحید کے راستے میں پر استواری اور استحکام کو ظاہر کرتا ہے۔ حقیقی مؤمن وہ ہے جو زندگی کے اتار چڑھاؤ میں اللہ کی ربوبیت کو قبول کرے اور اس عقیدے پر ثابت قدم رہے۔ ایسا ایمان اللہ کی امداد کے نزول کا سبب بنتا ہے۔

فرشتے، سکون اور نصرتِ الٰہی کے پیامبر

استقامت کا ثمرہ اللہ کے فرشتوں کا نزول ہے،

"تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا۔"

یہ نزول صرف موت کے لمحے تک محدود نہیں، بلکہ مؤمن کی زندگی کے تمام حساس مراحل پر مشتمل ہے، جہاں بھی انسان کو راہ حق میں حوصلہ افزائی اور اطمینان کی ضرورت ہو۔

آیت 37 واجب سجدے کی حامل ہے۔

فرشتے اہل ایمان کے لئے تین اہم پیغامات لاتے ہیں، کہ تم خوفزدہ نہ ہو، غمگین نہ ہو اور اس جنت کی بشارت پاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ یہ پیغامات بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ محاذِ حق کو انتہائی سخت حالات میں بھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ جب دشمن دھمکی، نفسیاتی دباؤ اور طاقت کے مظاہرے کے ساتھ میدان میں آتا ہے، تو اللہ کی نصرت مؤمنوں کے دلوں میں سکون اور اطمینان پیدا کر دیتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: مہدی احمدی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha