اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، برطانوی روزنامہ The Guardian کے سینئر بین الاقوامی امور کے نامہ نگار جولین بورگر نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ حالیہ دنوں میں ایران اور اسرائیل کے درمیان میزائل حملوں کے تبادلے نے ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو کے پیچیدہ تعلقات کا ایک اور امتحان پیش کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں رہنما ماضی میں ایران کے خلاف بعض معاملات میں مشترکہ مؤقف رکھتے تھے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ان کے سیاسی اور تزویراتی مفادات میں واضح فرق پیدا ہو گیا ہے۔ ٹرمپ کی کوشش رہی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے معاملات میں فیصلہ کن کردار واشنگٹن کے ہاتھ میں رہے اور امریکہ خود کو بحرانوں کا مرکزی منتظم ثابت کرے۔
گارڈین نے ان اطلاعات کا بھی حوالہ دیا جن میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ایک سخت ٹیلیفونک گفتگو کا ذکر کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو ایسے اقدامات پر تنقید کا نشانہ بنایا جو خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی بیروت کے علاقے الضاحیہ پر اسرائیلی حملے، جسے ایران نے سرخ لکیر عبور کرنے کے مترادف قرار دیا، نے یہ ظاہر کر دیا کہ اسرائیلی حکومت کے فیصلوں پر واشنگٹن کا اثر و رسوخ محدود ہے۔ اس حملے کے بعد ایران کی جانب سے میزائل ردعمل سامنے آیا جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
گارڈین کے مطابق امریکہ کی مداخلت کے نتیجے میں اگرچہ وقتی طور پر حالات کو قابو میں لایا گیا، تاہم خطہ اب بھی "نہ جنگ، نہ امن" کی کیفیت سے دوچار ہے، جہاں کوئی بھی محدود واقعہ وسیع تر تصادم کا سبب بن سکتا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان مفادات کا اختلاف اور ایران کے خلاف اپنے اہداف کے حصول میں اسرائیل کی ناکامی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ موجودہ استحکام انتہائی کمزور اور عارضی نوعیت کا ہے۔
ادھر ایران نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی بیروت اور جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں اس نے اسرائیل کے بعض فوجی اہداف، جن میں رامات ڈیوڈ ایئر بیس بھی شامل ہے، کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ تہران نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیلی حملے جاری رہے تو اس کا جواب پہلے سے زیادہ شدید اور فیصلہ کن ہوگا۔
آپ کا تبصرہ