اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،لبنانی سیاسی تجزیہ نگار محمد علوش نے اپنے تازہ تجزیے میں کہا ہے کہ ایران کے حالیہ میزائل ردعمل نے نہ صرف اسرائیل کے علاقائی حسابات کو درہم برہم کر دیا بلکہ امریکہ پر بھی ایک نئی سیاسی و عسکری حقیقت مسلط کر دی ہے۔
انہوں نے لکھا کہ چند روز پہلے تک بیشتر علاقائی دارالحکومتوں اور تحقیقی اداروں میں یہ خیال پایا جاتا تھا کہ ایران براہِ راست اسرائیل کے خلاف کارروائی نہیں کرے گا، حتیٰ کہ اگر بیروت یا الضاحیہ پر حملہ بھی کیا جائے۔ بعض حلقوں کا خیال تھا کہ تہران داخلی اور خارجی دباؤ کے باعث کھلی جنگ کا خطرہ مول لینے سے گریز کرے گا۔
تاہم ایران کے فوری اور براہِ راست ردعمل نے یہ تمام اندازے غلط ثابت کر دیے۔ تجزیہ نگار کے مطابق ایران کا حملہ نہ صرف علامتی تھا اور نہ ہی مکمل جنگ کا اعلان، بلکہ اس کا مقصد ایک نئی “مساوات” قائم کرنا تھا، جس کے تحت اگر اسرائیل اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرے گا اور ایران کی سرخ لکیروں کو عبور کرے گا تو تہران خود میدان میں اترے گا۔
محمد علوش کے مطابق ایران کے میزائل حملوں نے اسرائیل اور امریکہ دونوں کو واضح پیغام دیا۔ اسرائیل کو یہ باور کرایا گیا کہ اب اس کی کارروائیوں کی آزادی محدود ہو چکی ہے اور ہر حملے کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی، جبکہ امریکہ کو یہ پیغام دیا گیا کہ خطے میں طاقت کے ذریعے نئی حقیقتیں مسلط کرنے کی کوشش پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل سکتی ہے جسے کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
تجزیے میں کہا گیا کہ حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایسے اشارے دیے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن کشیدگی کو محدود دائرے میں رکھنا چاہتا ہے۔ لیکن جب اسرائیل نے ایران کے مختلف علاقوں پر جوابی حملے کیے تو یہ سوال مزید اہم ہو گیا کہ آیا نیتن یاہو امریکی خواہشات سے ہٹ کر فیصلے کر رہے ہیں یا نہیں۔
مصنف کے مطابق اگرچہ نیتن یاہو ماضی میں بھی کئی بار امریکہ کو مشکل صورتحال میں ڈال چکے ہیں، مگر موجودہ حالات پہلے سے مختلف ہیں کیونکہ اسرائیل کی عسکری اور سیاسی گنجائش پہلے کی نسبت بہت کم ہو چکی ہے۔ اسی لیے یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ اسرائیل نے بیروت یا ایران پر حملے مکمل امریکی رضامندی کے بغیر کیے ہوں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ حالیہ صورتحال نے خطے کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے، جہاں “کنٹرولڈ حملوں کے تبادلے” کا ماڈل سامنے آیا ہے۔ اس کے تحت اسرائیل حملہ کرتا ہے، ایران جواب دیتا ہے اور پھر علاقائی و عالمی ثالث کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
محمد علوش کے مطابق ایران نے اب واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی سرخ لکیروں کی خلاف ورزی مزید برداشت نہیں کرے گا، جبکہ اسرائیل یہ سمجھ چکا ہے کہ اب وہ صرف طاقت کے ذریعے اپنی شرائط مسلط نہیں کر سکتا۔
تجزیے کے اختتام پر کہا گیا کہ امریکہ فی الحال کشیدگی کو محدود رکھنے اور ایک ممکنہ معاہدے کی امید میں وقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن خطہ اب پہلے جیسا نہیں رہا اور ایران کی نئی حکمت عملی نے طاقت کا توازن تبدیل کر دیا ہے۔
آپ کا تبصرہ