اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،امریکہ میں قومی انٹیلی جنس کے قائم مقام سربراہ کے طور پر بل پالٹ کی تقرری پر شدید سیاسی اختلافات سامنے آ گئے ہیں، جس کے باعث واشنگٹن ایک نئے سکیورٹی بحران کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی نے واضح کر دیا ہے کہ وہ غیر ملکی نگرانی کے متنازع قانون “فارن انٹیلی جنس سرویلنس ایکٹ” کی شق 702 کی توسیع اسی صورت میں منظور کرے گی جب بل پالٹ کو عہدے سے ہٹایا جائے، کیونکہ ان کے پاس قومی سلامتی یا انٹیلی جنس اداروں کا کوئی مؤثر تجربہ نہیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق چند اہم ریپبلکن رہنما بھی اس معاملے پر ڈیموکریٹس کے مؤقف سے اتفاق کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ سینیٹر چک گراسلی نے کہا کہ صدر کو جلد از جلد کسی موزوں اور قابل امیدوار کو نامزد کرنا چاہیے، جبکہ جان تھون نے کہا کہ ایسا شخص سامنے لایا جائے جسے کم از کم کچھ ڈیموکریٹس کی حمایت حاصل ہو تاکہ حساس نگرانی پروگرام کی توسیع ممکن بنائی جا سکے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے بل پالٹ کی حمایت جاری رکھتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک بہترین انتخاب ہیں اور امریکی عوام کے مفاد میں مؤثر طریقے سے کام کریں گے۔ امریکی انتظامیہ نے ڈیموکریٹس پر الزام عائد کیا کہ وہ سیاسی مقاصد کے لیے قومی سلامتی کو یرغمال بنا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق امریکی ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن کی صدر ٹرمپ سے ہونے والی ملاقات میں بھی بل پالٹ کی تقرری ایک اہم موضوع ہوگی۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے ایک سیاسی وفادار شخصیت کو اس حساس عہدے پر برقرار رکھنے کی ضد نے قومی سلامتی کے اہم نظام کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ موجودہ انتظامیہ میں تجربے سے زیادہ سیاسی وفاداری کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
بل پالٹ کو تقریباً دو ہفتے قبل اُس وقت قائم مقام انٹیلی جنس سربراہ مقرر کیا گیا تھا جب ٹلسی گیبارڈ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق گیبارڈ نے ایران کے خلاف امریکی پالیسی اور جنگی مؤقف سے اختلاف کے باعث استعفیٰ دیا تھا۔
اسی دوران امریکی سینیٹ نے “شق 702” کی توسیع سے متعلق ووٹنگ مؤخر کر دی، جسے بل پالٹ کی تقرری پر بڑھتے ہوئے خدشات سے جوڑا جا رہا ہے۔ اس ووٹنگ میں سات ریپبلکن سینیٹرز نے بھی ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر مخالفت کی، جسے ٹرمپ کی اپنی جماعت کے اندر بڑھتی بے چینی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریپبلکن اکثریتی رہنما جان تھون نے کہا کہ اگلے ہفتے اس معاملے پر دوبارہ ووٹنگ ہوگی، تاہم اس کی منظوری کے بارے میں اب بھی شکوک موجود ہیں۔
یہ قانون امریکی انٹیلی جنس اداروں کو اجازت دیتا ہے کہ وہ بیرونِ ملک موجود غیر ملکی افراد کی ای میلز اور دیگر مواصلاتی رابطوں کی عدالتی اجازت کے بغیر نگرانی کر سکیں۔
امریکی جریدے اٹلانٹک نے بھی اپنی رپورٹ میں بل پالٹ کی تقرری کو متنازع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس انٹیلی جنس یا قومی سلامتی کے اداروں کی قیادت کا کوئی واضح تجربہ نہیں ہے، جس سے سیاسی اور سکیورٹی دونوں سطحوں پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔
کانگریس کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سینئر ڈیموکریٹ رکن جم ہائمز نے کہا کہ بل پالٹ کی تقرری ٹرمپ کی “سب سے خطرناک اور بدترین تقرری” ثابت ہو سکتی ہے۔
امریکی قانون کے مطابق بل پالٹ زیادہ سے زیادہ 210 دن تک عارضی طور پر اس عہدے پر خدمات انجام دے سکتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ