بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ایران کے خلاف امریکہ کی ہمہ جہت جنگ، امریکہ کے اندرونی بحرانوں کا آئینہ دار بن گئی ہے یہاں تک کہ کچھ سیاسی مبصرین اس جنگ کو ٹرمپ کی سب سے بڑی اسٹراٹیجک غلطی قرار دیتے ہیں برسوں سے شدید پابندیوں کے تحت رہنے والا ملک [ایران] امریکہ کو فرسودگی سے دوچار کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔
لبنان یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات اور قانون کی پروفیسر لیلیٰ نقولا، نے ایک مضمون میں اس بحران کے پوشیدہ پہلوؤں اور بین الاقوامی نظام کے مستقبل پر اس کے اثرات پر روشنی ڈالی جو المیادین ویب سائٹ پر شائع ہوئی ہے۔
امریکی قومی انٹیلیجنس کی ڈائریکٹر "تلسی گیبارڈ" (Tulsi Gabbard) کا استعفیٰ، ایک بار پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اندر بڑھتی ہوئی تفریق و تقسیم کی طرف توجہ مبذول کراتا ہے۔ یہ استعفیٰ انتظامیہ، سیکیورٹی اور فوجی اداروں میں دیگر متعدد استعفاؤں اور اہلکاروں کی برطرفیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
ایران کے ساتھ جنگ نے امریکی انتظامیہ کے اندر ایران کے خطرے کی تشخیص اور طاقت کے استعمال کی حدود پر بنیادی اختلافات پیدا کر دیئے ہیں اور یہ امریکی سیاسی نظام کے اندر تعلقات کی ازسرنو تعمیر اور اندرون و بیرون ملک امریکی پالیسی کی سمت کو نئے سرے سے متعین کرنے کے لئے کا محور بن گئی ہے۔
امریکہ کی اندرونی سطح پر
انتظامیہ متعدد استعفاؤں کا سامنا کر رہی ہے۔ وزیر جنگ پِیٹ ہیگستھ نے بھی امریکی فوج کے متعدد افسران، بشمول چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کو برطرف کر دیا ہے۔ متعدد امریکی رپورٹس بتاتی ہیں کہ یہ برطرفیاں ایران کے ساتھ جنگ کے انتظام، خاص طور پر ممکنہ زمینی جنگ کے یا تنازع کے پھیلاؤ کے اندیشوں پر اختلافات کا نتیجہ ہیں۔ نیز کچھ رپورٹس اشارہ کرتی ہیں کہ ٹرمپ فوجی قیادت کو اپنے نقطہ نظر اور سمت کے ہم آہنگ بنانے کی کوشش میں تھا جس کی وجہ سے اختلاف پیدا ہؤا اور یہ واقعات رونما ہوئے۔
ریپبلکن پارٹی کے اندر، 'امریکہ فرسٹ' کے حامیوں اور روایتی مداخلت پسند دائیں بازو یعنی 'نیو کنزرویٹوز' کے درمیان پرانی تفریق مزید گہری ہو گئی ہے۔ نیز ٹرمپ کے سماجی اڈے [ووٹ بینک] میں ایک رجحان تشکیل پایا ہے جس کا ماننا ہے کہ 'اسرائیل' نے امریکہ کو ایسی جنگ میں گھسیٹ لیا ہے جو اس [امریکہ] کے مفاد میں نہیں ہے۔
اس کے علاوہ، ایران کے ساتھ مقابلے میں فوجی انجام کی غیر یقینی صورت حال کے ساتھ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، اس جنگ کے مخالفین کی تعداد میں اضافے اور ٹرمپ کی مقبولیت کو نچلی سطح تک گرانے کا باعث بنا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹ: فتانہ غلامی
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ