24 مئی 2026 - 22:59
حصۂ سوئم | 7 اپریل 2026ع‍ کو ایرانی تہذیب کی بربادی کی ٹرمپی دھمکی / امریکہ کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کا عالمی رجحان + نکتہ

ڈونلڈ ٹرمپ نے 7 اکتوبر سنہ 2026ع‍ اس دھمکی کے بعد کہ "اگر ایران معاہدے پر آمادہ نہ ہؤا تو آج رات ایک پوری تہذیب مر جائے گی"، جس کی وجہ سے یورپی دارالحکومتوں سمیت دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر گھبراہٹ اور ہراسانی کی لہر دوڑ گئی اور امریکی محکمہ خارجہ کے حکام نے بھی یورپی سفارت کاروں کی پیروی کے جواب میں ٹرمپ کے کی دھمکی کی نوعیت اور اس کے اگلے عزائم سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق؛ ڈونلڈ ٹرمپ نے 7 اکتوبر سنہ 2026ع‍ اس دھمکی کے بعد کہ "اگر ایران معاہدے پر آمادہ نہ ہؤا تو آج رات ایک پوری تہذیب مر جائے گی"، جس کی وجہ سے یورپی دارالحکومتوں سمیت دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر گھبراہٹ اور ہراسانی کی لہر دوڑ گئی اور امریکی محکمہ خارجہ کے حکام نے بھی یورپی سفارت کاروں کی پیروی کے جواب میں ٹرمپ کے کی دھمکی کی نوعیت اور اس کے اگلے عزائم سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔

حصۂ سوئم

دنیا خود کو نئے سرے سے ترتیب دے رہی ہے

ٹرمپ نے ایران جیسے دشمنوں اور ڈنمارک، کینیڈا اور نیٹو جیسے اتحادیوں کے خلاف دھمکیوں کے امتداد کے ذریعے، سفارتی اصولوں کو توڑ دیا ہے۔ حکومتیں یہ جانچنے پر مجبور ہو گئی ہیں کہ آیا اعلانیہ ردعمل کشیدگی کو کم کرے گا یا اسے بدتر کرے گا۔

یہی واقعہ اپریل 2026ع‍ کے اوائل میں ایران کی تمدن کی تباہی کے بارے میں ٹرمپ کی دھمکی کے بعد رونما ہؤا۔ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے حکام نے ایک مشترکہ بیان تیار کیا جسے ایک یورپی سفارت کار نے "تند و تیز" قرار دیا؛ لیکن آخر کار اسے جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس سفارت کار نے جو متن کی تیاری میں شامل تھا، کہا: "آخر کار ہم نے سوچا کہ جب بھی وہ اس طرح شور مچاتا [بھونکتا] ہے، تو وہ کاٹتا نہیں ہے۔"

یورپی حکام کا ماننا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی ممکن ہے اور انہیں خدشہ تھا کہ ان کی طرف سے امریکی صدر کی اعلانیہ سرزنش ٹرمپ کو بمباری جاری رکھنے پر اکسا سکتی ہے؛ چنانچہ انہوں نے خاموشی اختیار کر لی۔ اسی دن کے آخر تک، ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کیا۔

اس واقعے نے امریکہ کے بہت سے اتحادیوں کے لئے اس سبق کو پختہ تر کر دیا کہ: خاموشی - ٹرمپ کی انتہائی دھمکیوں پر ـ سب سے محفوظ ردعمل ہو سکتی ہے۔

کچھ یورپی سفارت کار اسے "انجیلا میرکل (Angela Merkel) کی روش" کہتے ہیں۔ یہ ٹرمپ کی پہلی مدت کے دوران جرمنی کی سابق چانسلر آنجیلا میرکل پُرسکون ردعمل کی طرف اشارہ ہے: "اشتعال انگیزی کو اعلانیہ ردعمل کے بغیر، خاموشی سے، برداشت کرنا، اور اسی اثناء میں قومی مفادات کا پرزور دفاع کرنا۔" امریکہ کے چند اتحادیوں، بشمول آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ، نے ایران پر ٹرمپ کے بیانات پر تنقید کی؛ جبکہ دیگر، بشمول جاپان، نے خاموشی اختیار کر لی۔

جاپان کی حکمران جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے سیاست دان اور سابق وزیر خارجہ، تاکیشی ایوایا (Takeshi Iwaya)، نے کہا: "صدر ٹرمپ کے بیانات مسلسل بدلتے رہتے تھے، اس لئے وقت گذرنے کے ساتھ ہم نے ان میں سے ہر ایک پر ردعمل دینا چھوڑ دیا۔ ردعمل دینا، صرف غیر ضروری جوابات کو بھڑکا سکتا ہے۔"

نکتہ:

یہ وہ شخص ہے جسے امریکیوں نے اپنا مالک بنا دیا ہے، ایک سائیکوپیک ایپسٹینی پاگل، جو اپنے ملکی اداروں کو بھی ہیچ سمجھتا ہے اور پاگلوں کی طرح تہذیبوں کی بربادی کی دھمکیاں دیتا ہے اور کوئی نہیں ہے امریکہ میں، جو کم از کم اپنے ملک کے تحفظ کی خاطر، اس سے بازپرس کرسکے، اور اس کے ناجائز اختیارات سلب کر لے، نہ دنیا میں کوئی ایسا ملک ہے جو اس کی من مانیوں کی مخالفت کرنے کی ہمت ہے؛ سوا اسلامی جمہوریہ ایران کے جس نے اس کو جنگ بندی، اور امن مذاکرات کا سہارا لینے پر مجبور کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha