بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے 7 اکتوبر سنہ 2026ع اس دھمکی کے بعد کہ "اگر ایران معاہدے پر آمادہ نہ ہؤا تو آج رات ایک پوری تہذیب مر جائے گی"، جس کی وجہ سے یورپی دارالحکومتوں سمیت دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر گھبراہٹ اور ہراسانی کی لہر دوڑ گئی اور امریکی محکمہ خارجہ کے حکام نے بھی یورپی سفارت کاروں کی پیروی کے جواب میں ٹرمپ کے کی دھمکی کی نوعیت اور اس کے اگلے عزائم سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔
حصۂ دوئم:
"سفارتی افراتفری" کی ایک روداد
یہ واقعہ، جس کی اس سے پہلے رپورٹنگ نہیں ہوئی تھی، امریکی سفارت کاری میں ایک تاریخی زوال کا شاخسانہ ہے۔ اس وقت جب ایک انتہائی غیرمتوقعہ امریکی صدر اپنے ڈرامائی بیانات سے منڈیوں اور دارالحکومتوں کو ہلا کر رکھ دیتا ہے، دنیا بھر کی حکومتیں واضح صورتحال کی خبر حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کر تی ہیں، لیکن وہ دیکھتی ہیں کہ ان کے معمول کے رابطے، امریکی سفارت خانوں میں یا واشنگٹن کے اندر، غائب، خاموش یا نہیں، بلکہ بالکل بے خبر ہیں! ستم ظریفی یہ کہ اب دنیا بھر میں امریکہ کی 195 سفارتی آسامیوں میں سے کم از کم نصف خالی پڑی ہیں۔
آکسفورڈ یونیورسٹی میں بین الاقوامی تاریخ کی پروفیسر مارگریٹ میک ملن (Margaret MacMillan)، نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ اس دنیا کو سمجھنے کی امریکی صلاحیت کو برباد کر رہی ہے؛ میں وہ رہ رہی ہے، جس سے عالمی عدم استحکام کے خطرے میں اضافہ ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا: "ہم اب پہلے کی طرح سفارت کاری کو استعمال نہیں کر پائیں گے: تعلقات استوار کرنے، باہمی مفید معاہدوں تک پہنچنے اور جنگوں کو روکنے یا ختم کرنے کے لئے۔"
ٹرمپ انتظامیہ اس تصور کو مسترد کرتی ہے کہ کوئی زوال رونما ہو رہا ہے، اور دعویٰ کرتی ہے اس کی کی گئی تبدیلیوں نے امریکی سفارت کاری کو مضبوط بنایا ہے! اور فیصلہ سازی کے عمل کو زیادہ مؤثر بنا لیا ہے۔ امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان ٹومی پگوٹ (Tommy Pigott) نے کہا: "صدر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ یہ تعین کرے کہ کون، پوری دنیا میں، امریکی عوام اور مفادات کی ترجمانی کرے!"
امریکی سفارتی افراتفری کی یہ روداد 50 سے زائد سینئر سفارت کاروں، وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار اور حال ہی میں ریٹائر ہونے والے ایک سفیر کے علاوہ یورپ اور ایشیا میں درجنوں غیرملکی حکام، سفارت کاروں اور قانون سازوں کے انٹرویوز کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے جو بہت تفصیلی ہے اور یہاں اسے مختصر کیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ