اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ریلوے لائن کے قریب ہونے والے شدید دھماکے میں 30 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 80 سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق دھماکہ کوئٹہ کے علاقے چمن پھاٹک کے قریب پیش آیا، جس کے نتیجے میں ایک مسافر ٹرین اور اطراف میں موجود کم از کم 10 گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور زور دار آواز دور دور تک سنی گئی۔
واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔ زخمیوں کو فوری طور پر مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جبکہ کوئٹہ کے سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔
پاکستان ریلوے حکام کے مطابق "جعفر ایکسپریس" جو پشاور جارہی تھی، دھماکے کے بعد کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر روک دی گئی، جبکہ علاقے میں ریلوے سروس بھی متاثر ہوئی ہے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کی نوعیت اور ذمہ دار عناصر کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔
ادھر بلوچ علیحدگی پسند تنظیم "بلوچستان لبریشن آرمی" نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں ایک ایسی ٹرین کو نشانہ بنایا گیا جس میں سیکیورٹی اہلکار موجود تھے۔ تنظیم نے مزید تفصیلات بعد میں جاری کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
آپ کا تبصرہ