114 قرآنی ورلڈ ایوارڈ کے انعقاد کے سلسلے میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کا پیغام

114 قرآنی ورلڈ ایوارڈ کے انعقاد کے سلسلے میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کا پیغام

عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رمضانی نے 114 پہلے قرآنی ورلڈ ایوارڈ کے انعقاد کی مناسبت سے اپنے بیان میں کہا: تمام مبلغین، اسمبلی کے قابل قدر اراکین، تمام کارکنان اور محترم ملازمین سے گزارش ہے کہ اس قرآنی مقابلے کے انعقاد میں بھرپور تعاون فرما کر دنیا میں پیروان اہل بیت(ع) کے درمیان قرآنی ثقافت کو رواج دینے میں بہترین پلیٹ فارم مہیا کریں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رمضانی نے 114 پہلے قرآنی ورلڈ ایوارڈ کے انعقاد کی مناسبت سے اپنے بیان میں کہا: تمام مبلغین، اسمبلی کے قابل قدر اراکین، تمام کارکنان اور محترم ملازمین سے گزارش ہے کہ اس قرآنی مقابلے کے انعقاد میں بھرپور تعاون فرما کر دنیا میں پیروان اہل بیت(ع) کے درمیان قرآنی ثقافت کو رواج دینے میں بہترین پلیٹ فارم مہیا کریں۔   
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کے پیغام کا ترجمہ حسب ذیل ہے:
بسم الله الرحمن الرحیم
الحمدُ للَّه و سُبحانَکَ؛ اللَّهُمَّ صلِّ علی محمدٍ و آلهِ مظاهر جمالِک و جلالِک و خزائنِ اسرارِ کتابِکَ الذی تجلّی فیه الأَحدیّةُ بِجمیعِ أسمائکَ حتّی المُسْتَأْثَرِ منها الّذی لا یَعْلَمُهُ غَیرُک؛
قالَ رسولُ اللَّه صلَّی اللَّه علیه و آله و سلَّم: *انّی تارکٌ فیکُمُ الثّقلَیْنِ کتابَ اللَّهِ و عترتی أهلَ بیتی؛ فإِنَّهُما لَنْ یَفْتَرِقا حَتّی‏ یَرِدَا عَلَیَّ الْحَوضَ. پیغمبر اکرم (ص) نے اپنی مبارک زندگی کے دوران اور خصوصا اپنی عمر کے آخری ایام میں مسلمانوں کو دو عظیم چیزوں کی طرف متوجہ کیا اور انہیں قرآن کریم اور اپنی عترت (اہل بیت) سے متمسک رہنے کی خاص سفارش کی اور فرمایا کہ انسان کی نجات کا واحد راستہ یہ ہے کہ انسان ان دونوں کی پیروی میں رہے۔
آج ایسے دور میں جب دین اسلام کے احیاء کا دور ہے اسلام دشمن عناصر مسلمانوں کو قرآن اور عترت سے دور کرنے یا ان کے مابین تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور عالمی سطح پر مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں ایسے دور میں ان دوگرانقدر چیزوں یعنی قرآن اور اہل بیت(ع) سے تمسک کرنا انتہائی اہم اور ضروری ہے جس کی خود رسول اسلام نے بھی وصیت فرمائی ہے۔
امت اسلامیہ کی پرنشیب و فراز تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے ختمی مرتبت کی اس وصیت پر عمل کرتے ہوئے ان دوگرانقدر چیزوں سے تمسک کیا اور انہیں اپنا مشعل راہ بنایا تو انہیں علمی، ثقافتی، سماجی، اقتصادی، سیاسی ہر میدان میں فتوحات حاصل ہوئیں اور جب ان سے غفلت کا شکار ہوئے اور ان دو قیمتی چیزوں کو رہا کیا تو سوائے پشیمانی، جمود، ظلم کا غلبہ، غربت اور بدحالی کے کچھ نصیب نہیں ہوا۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کو فخر ہے کہ اس نے ائمہ طاہرین علیہم السلام کہ جو کلام خدا کے حقیقی مفسر اور ترجمان ہیں اور انی تارک فیکم الثقلین کی صدا پر لبیک کہتے ہوئے انہوں نے قرآن کریم کی بقا کے لیے اپنی قربانیاں پیش کیں ان کے نورانی راستے کا اتباع کرتے ہوئے پیروان اہل بیت(ع) کے درمیان قرآنی اقدار کو احیاء کرنے اور الہی تعلیمات کو عام کرنے میں بھرپور جدو جہد کر رہی ہے۔
لہذا ماہ مبارک رمضان کہ جو قرآن کی بہار ہے اس میں حقیقی معنی میں قرآنی ثقافت کو دنیا کے کونے کونے میں پیروان اہل بیت(ع) کے درمیان عام ہونا چاہیے قرآن کریم کے حوالے سے متنوع اور دلچسپ پروگرام کی منصوبہ بندی کی جانا چاہیے تعلیم قرآن اور تحقیق سے لے کر مختلف قرآنی پروگراموں کو جوانوں اور نوجوانوں کے لیے پرکشش شکلوں میں قرآنی ثقافت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ جیسے آرٹ اور میڈیا پروڈکٹس کی تیاری، گھر اور معاشرے میں قرآنی حلقوں کا قیام، قرآن خوانی اور تلاوت کے جلسات کا انعقاد، مختلف مقابلے، قرآن پر مبنی تقاریر اور لکچرز وغیرہ، گھروں، مساجد، امام بارگاہوں، سوشل میڈیا اور دیگر اجتماعات میں انجام پانا چاہیے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی 114 ورلڈ ایوارڈ کہ پندرہ شعبان منجی عالم بشریت امام زمانہ (عج) کے یوم ولادت کے موقع پر جس کے آغاز کا اعلان کیا گیا اور عید غدیر پر اختتام پذیر ہو گا، اس کا اصلی مقصد دینی مراکز میں قرآنی فعالیتوں اور قرآنی مبلغین کی حمایت ہے تاکہ یہ نورانی اور قیمتی تحریک رونق پائے۔
معزز مبلغین، اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے جملہ اراکین، نیز تمام کارکنان اور محترم ملازمین سے امید ہے کہ اس حماسہ قرآنی میں شرکت کر کے قرآنی ثقافت کو پیروان اہل بیت(ع) کے درمیان عام کرنے کے لیے بہترین پلیٹ فارم مہیا کریں تاکہ اس جد و جہد کے نتیجے میں پروردگار عالم اور ثقلین کی خشنودی حاصل ہو اور دنیا و آخرت میں سعادتمندی نصیب ہو۔
والسلام علیکم و رحمه الله و برکاته
رضا رمضانی
سیکرٹری جنرل اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*