۱۱۴ ورلڈ ایوارڈ پیروان اہل بیت(ع) کے قرآنی فعالیتوں کو متعارف کروانے کی تحریک ہے

۱۱۴ ورلڈ ایوارڈ پیروان اہل بیت(ع) کے قرآنی فعالیتوں کو متعارف کروانے کی تحریک ہے

ڈاکٹر زارعان نے ۱۱۴ ورلڈ ایوارڈ کے ساتھ تعاون کے حوالے سے کہا: مختلف ادارے قرآنی فیلڈ میں کام کرنے کے لیے تیار ہیں اور ہم انہیں دعوت دیتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ تعاون کریں اور ہمارا تعاون قبول کریں تاکہ اہل بیت(ع) سے وابستہ معاشرے کی فعالیتوں پر مبنی ایک قابل قدر فیسٹیول منعقد کیا جائے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی ماہ مبارک رمضان کی مناسبت سے ایک بین الاقوامی فیسٹیول کی صورت میں ۱۱۴ ورلڈ ایوارڈ کہ جو قرآن کریم کے ایک سو چودہ سوروں کے نام پر رکھا گیا ہے پوری دنیا میں پیروان اہل بیت(ع) کے دینی مراکز، مبلغین اور قرآنی فعال افراد کے درمیان منعقد کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
یہ فیسٹیول تین حصوں؛ آرٹ میڈیا مصنوعات کی تیاری، آرٹ میڈیا مصنوعات کی نشر و اشاعت اور تبلیغی سرگرمیوں کی انجام دہی میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ اور ہر شرکت کرنے والا بغیر کسی قید و شرط کے اپنے آثار فیسٹیول کے کسی بھی حصے میں اس ایڈرس www.114award.ir پر ارسال کر سکتا ہے۔
فیسٹیول کی مشاورتی خدمات حاصل کرنے اور اپنی مصنوعات اندراج کرنے کی پہلی تاریخ ماہ رمضان کا آغاز ہے اور اپنی دستاویزات بھیجنے کی آخری تاریخ ۵ جون ہے ۲۲ جولائی کو انہیں فیصلہ کرنے کے لیے ریفری کے پاس بھیج دیا جائے گا ۲۳ جولائی کو ایران میں ورکشاپ کا آغاز ہو گا اور ۲۹ جولائی ۲۰۲۱ کو عید غدیر کے موقع پر فیسٹیول کی اختتامی تقریب منعقد ہو گی۔  
اس قرآنی فیسٹیول کے حوالے سے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے شعبہ بین الاقوامی امور کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین محمد جواد زارعان سے گفتگو کی ہے۔ انہوں نے اسلام اور تعلیمات اہل بیت(ع) کے فروغ کے لیے اس فیسٹیول کی طرف اشارہ کیا اور کہا: قرآن کے موضوع پر کام کرنا اس عنوان سے کہ وہ ثقلین کا حصہ ہے اور نبی مکرم (ص) نے اس کی تاکید کی ہے تمام مسلمانوں کے نزدیک بہت ضروری ہے، قرآن کریم پروردگار عالم کا کلام ہے اور رسول اسلام (ص) کا معجزہ ہے نیز انسان کے لیے کتاب ہدایت ہے لہذا ہر مسلمان، اہل بیت(ع) کے ہر پیروکار اور ہر شیعہ کے نزدیک قرآن کو اسلام کا بنیادی رکن سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: آج دشمنان اسلام کے پروپیگنڈوں میں سے ایک مسلمانوں کو مختلف فرقوں میں تقسیم کر کے انہیں قرآن کریم کی تعلیمات سے دور رکھنا ہے، اس طریقے سے کہ اہل سنت قرآن کو اختیار کر لیں اور شیعہ اہل بیت کو، جبکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے پیغمبر اکرم کی تاکید کے مطابق تمام مسلمانوں کو قرآن اور اہل بیت(ع) دونوں کا دامن تھامنا ہو گا۔
ڈاکٹر زارعان نے مزید کہا کہ خوش قسمتی سے اسلامی انقلاب اور شہداء کے خون کی برکت اور رہبر انقلاب اسلامی کی حسن تدبیر کے طفیل اسلامی جمہوریہ ایران میں قرآن کریم پر کافی کام ہوا ہے۔
قرآن کی بہار کے موسم میں فیسٹیول کا انعقاد
انہوں نے مزید کہا: ماہ رمضان قرآن کریم کی بہار کا موسم ہے، اس کی تلاوت، اس کی تفسیر اور اس پر غور و فکر کا مہینہ ہے، اسی وجہ سے ماہ رمضان کو اس فیسٹیول کے انعقاد کے لیے انتخاب کیا گیا ہے اور اس فرصت کو ہم نے غنیمت شمار کیا ہے۔ اور چونکہ پوری دنیا میں بھی پیروان اہل بیت (ع) قرآن کریم کے حوالے سے کام کر رہے ہیں ہمارا جو فی الحال اس فیسٹیول میں مقصد ہے وہ یہ ہے کہ ہم ان سرگرمیوں کو متعارف کروائیں، ان کی حمایت کریں اور انہیں منظم کریں جو پہلے سے انجام پا رہی ہیں۔ ۱۱۴ عالمی فیسٹیل اسی مقصد کے پیش نظر منعقد کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ۱۱۴ ورلڈ ایوارڈ کا دیگر فیسٹیولز کے ساتھ فرق یہ ہے کہ یہ فیسٹیول خود اہل بیت(ع) سینٹرز کے ذریعے منعقد کیا جا رہا ہے یعنی ہم مخاطبین کو فعالیت انجام دینے کی طرف دعوت نہیں دے رہے ہیں بلکہ فعالیتیں انجام پا چکی ہیں یا انجام پا رہی ہیں اور ہمیں صرف انہیں متعارف کروانا ہے۔ اس وقت تو کورونا وائرس کی وجہ سے زیادہ تر فعالیتیں آنلاین ہیں۔
ڈاکٹر زارعان نے ۱۱۴ ورلڈ ایوارڈ کے ساتھ تعاون کے حوالے سے کہا: مختلف ادارے قرآنی فیلڈ میں کام کرنے کے لیے تیار ہیں اور ہم انہیں دعوت دیتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ تعاون کریں اور ہمارا تعاون قبول کریں تاکہ اہل بیت(ع) سے وابستہ معاشرے کی فعالیتوں پر مبنی ایک قابل قدر فیسٹیول منعقد کیا جائے۔
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ فیسٹیول کا پہلا دور قرآن کریم کے آرٹ میڈیا فعالیتوں پر منحصر ہے کہا: کورونا کے سخت حالات میں کئی ویب سائٹیں اور سافٹ ویئرز بنائے گئے ہیں یا ان میں وسعت لائی گئی ہے۔
ایکنا نیوز فیسٹیول کی خبروں کو شائع کرنے کا اہم ذریعہ
ڈاکٹر زارعان نے اس قرآنی فیسٹیول کے متعلق خبروں کو شائع کرنے کے لیے ایکنا نیوز ایجنسی کو بہترین ذرائع ابلاغ میں سے قرار دیا اور کہا: تمام خبررساں ادارے اور نیوز ایجنسیاں فیسٹیول کے اعلان کو مختلف زبانوں میں شائع کر کے ہمارا تعاون کریں۔ اس بات کے پیش نظر کہ یہ فیسٹیول اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جانب سے منعقد کیا جا رہا ہے تمام فعالیتوں میں اہل بیت اطہار کو مرکزیت دی گئی ہے اور اس پہلے دور کے فیسٹیول کا ایجنڈا "اہل بیت(ع) وحی کے ترجمان" انتخاب کیا گیا ہے۔ اس معنی میں کہ رسول اسلام کے فرمان کے مطابق " انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ و عترتی" ثقل اکبر قرآن اور ثقل اصغر اہل بیت(ع) کو کلام الہی کے ترجمان کے عنوان سے فیسٹیول کا موضوع قرار دیا گیا ہے۔
حجۃ الاسلام زارعان نے قرآنی امور میں مزید تشویق و ترغیب کی خاطر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جانب سے انعامات کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اس فیسٹیول میں مختلف شعبے پائے جاتے ہیں اور بہترین کاوشوں پر انعامات دئیے جائیں گے لیکن اس فیسٹیول کو موصول ہونے والی کاوشیں اہل بیت(ع) عالمی چینل کے اراکین اور دیگر مخاطبین کی رسائی میں قرار دئیے جائیں گے یعنی فیسٹیول کا بنیادی مقصد انعامات دینا نہیں ہے بلکہ وہ لوگ جو قرآنی میدان میں فعالیت انجام دیتے ہیں وہ بالکل انعام کے چکر میں نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنے پروردگار سے انعام حاصل کرنے کی توقع رکھتے ہیں ہمارا بنیادی مقصد ان کاوشوں کو متعارف کروانا، ان کی حمایت کرنا اور انہیں منظم کرنا ہے۔
انہوں نے اس فیسٹیول میں شرکت کی دعوت کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی ایک عالمی چینل پر مشتمل ہے جس میں علماء، مولفین اور دانشور مرد و زن شامل ہیں۔ پہلی نگاہ میں تقریبا اہک ہزار افراد اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جنرل اسمبلی کے رکن ہیں جو مختلف ممالک میں مقیم ہیں اس کے ساتھ ساتھ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی مختلف ممالک میں تین ہزار مبلغین کے ساتھ رابطے میں ہے اور تقریبا ۱۵۰ ممالک میں یہ مبلغین تبلیغی فعالیتوں میں سرگرم ہیں اور ان کے ایمیل ایڈرس اور فون نمبر ہمارے پاس موجود ہیں۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے شعبہ بین الاقوامی امور کے سربراہ نے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے ساتھ دیگر اداروں کے تعاون کی طرف اشارہ کیا اور کہا: سازمان فرہنگ و ارتباطات، مجمع تقریب مذاہب، جامعۃ المصطفیٰ، ایکنا نیوز ایجنسی اور دیگر بین الاقوامی سطح پر فعالیت کرنے والے ادارے اس فیسٹیول میں ہمارے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔

...........

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*