?>

یمن کی جنگ اور سعودی عرب کیلئے امریکہ کی فوجی امداد

یمن کی جنگ اور سعودی عرب کیلئے امریکہ کی فوجی امداد

امریکہ اور سعودی عرب میں تعلقات کا ایک پہلو سعودی عرب کی سربراہی میں عرب اتحاد پر اس کے اثرات پر مبنی ہے۔ جو بائیڈن کی جانب سے سعودی عرب کو اسلحہ فراہمی روک دینے کا فیصلہ بعض مغربی ممالک کی مرضی کے مطابق ہے، لیکن برطانیہ اس کی مخالفت کر رہا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکہ کے نئے صدر جو بائیڈن نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ یمن کی جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں، لہذا سعودی عرب کو فراہم کی جانے والی فوجی امداد روکنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جو بائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت روک دی گئی ہے، کیونکہ یہ اسلحہ یمن کی جنگ میں استعمال ہو رہا ہے۔ امریکی حکومت کی جانب سے سعودی عرب کو اسلحہ فراہم کرنے اور اس کی فوجی امداد کے بارے میں اظہار خیال کئی پہلووں پر مشتمل ہے۔ اس بارے میں چند اہم پہلو درج ذیل ہیں:

1)۔ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات دوسری عالمی جنگ کے بعد حکمفرما ہونے والے ورلڈ آرڈر کا ایک اہم حصہ شمار کئے جاتے ہیں۔ امریکہ اور سعودی عرب میں انتہائی قریبی اور اسٹریٹجک تعلقات کا آغاز ستر سال پہلے امریکی صدر روزویلٹ اور سعودی حکمران ملک عبدالعزیز آل سعود کے درمیان ملاقات سے ہوا۔ یہ اسٹریٹجک تعلقات اب تک جاری ہیں اور امریکہ کی مسلمہ خارجہ پالیسی کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ سرد جنگ کے دوران امریکہ سے تعلقات اس بات کا باعث بنے کہ سعودی عرب، عرب دنیا کے سربراہ کے طور پر سامنے نہ آسکے۔ دوسری طرف ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد امریکہ کی نظر میں سعودی عرب کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے سعودی عرب پر اپنی توجہ مرکوز کر لی۔ یہ اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی، جب سعودی عرب میں خام تیل کے ذخائر دریافت ہوئے۔ اس زمانے میں برطانیہ میں مارگریٹ تھیچر کی حکومت تھی۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ تاریخ کا سب سے بڑا فوجی سودا انجام دیا۔ برطانیہ نے سعودی عرب کے ساتھ 80 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ فروخت کرنے کا معاہدہ انجام دیا تھا۔

2)۔ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کا دوسرا پہلو سرد جنگ کے دوران عالمی نظام پر ان کے اثرات پر مشتمل ہے۔ خلیج فارس میں سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک نے ہمیشہ سابق سوویت یونین کی سربراہی میں مشرقی بلاک کے مقابلے میں مغربی بلاک کی حمایت اور مدد کی تھی۔ یوں عرب دنیا دو حصوں میں تقسیم ہوچکی تھی۔ اسی مسئلے کے باعث عرب دنیا میں جنم لینے والی عوامی تحریکوں پر کمیونزم اور نیشنل ازم کا رنگ غالب رہا۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد اسلامی دنیا سمیت دنیا بھر میں اسلامی تحریکوں کے کردار میں اضافہ ہوا۔ عالمی سطح پر موجود صف بندی کے تناظر میں امریکہ کیلئے سعودی عرب کی اہمیت بڑھ گئی اور امریکہ نے سعودی عرب کو بے تحاشہ اسلحہ فراہم کرنا شروع کر دیا۔ امریکہ خطے میں خاص طور پر عرب ممالک میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے شدید خوفزدہ تھا۔ لہذا امریکی حکومت نے سعودی عرب کو غیر مشروط طور پر فوجی امداد فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

3)۔ امریکہ اور سعودی عرب میں تعلقات کا تیسرا پہلو سعودی عرب کی سربراہی میں عرب اتحاد پر اس کے اثرات پر مبنی ہے۔ جو بائیڈن کی جانب سے سعودی عرب کو اسلحہ فراہمی روک دینے کا فیصلہ بعض مغربی ممالک کی مرضی کے مطابق ہے، لیکن برطانیہ اس کی مخالفت کر رہا ہے۔ برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ کے اس فیصلے کی پیروی نہیں کرے گا اور سعودی عرب کو اسلحہ کی فراہمی جاری رکھے گا۔ یورپ کے عوام مشرق وسطیٰ کے حالات سے اچھی طرح آگاہ ہیں اور وہ خاص طور پر یمن میں جاری جنگ کے حقائق سے بھی بخوبی واقف ہیں۔ لہذا برطانوی حکومت کی جانب سے سعودی عرب کو اسلحہ فراہمی جاری رکھنے کی پالیسی اور سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ اتحاد وسیع کرنے کی خواہش مستقبل قریب میں برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کے درمیان خلیج مزید گہری ہو جانے کا باعث بنے گی۔ برطانیہ سعودی عرب کی سربراہی میں عرب اتحاد کو ایران کا مقابلہ کرنے اور ایران پر دباو بڑھانے کا ایک اچھا ذریعہ سمجھتا ہے۔

4)۔ امریکہ اور سعودی عرب میں تعلقات کا چوتھا پہلو چین اور روس کے مقابلے میں طاقت کے توازن سے مربوط ہے۔ سعودی عرب چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو امریکہ پر دباو ڈالنے کیلئے استعمال کرے گا۔ اس بات کا امکان موجود ہے کہ جو بائیڈن اپنی خارجہ سیاست خاص طور پر جمہوریت اور انسانی حقوق سے متعلق پالیسیوں پر نظرثانی کریں گے۔ سعودی عرب چین سے مطمئن نہیں ہے۔ اس کی ایک وجہ ایران کے ساتھ چین کے مضبوط تعلقات ہیں۔ دوسری طرف امریکہ اور چین میں سیاسی اور اقتصادی میدان میں مقابلہ بازی میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ خلیج فارس خطے میں موجود ممالک کی جانب سے خام تیل کی پیداوار پر انحصار کم ہوتا جا رہا ہے، جس کے باعث امریکہ اور برطانیہ کی نظر میں اس خطے کی اہمیت کم اور چین اور روس کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ چین اور روس کے خلاف بھی سعودی عرب امریکہ کا اہم اتحادی تصور کیا جاتا ہے۔

تحریر: سعید الشھابی
(کالم نگار اخبار القدس العربی)

.............

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

مغربی ممالک میں پیغمبر اکرم (ص) کی توہین کی مذمّت
ویژه‌نامه ارتحال آیت‌الله تسخیری
پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی