یمن کا تنازع ختم کرنے کے لیے ایران سعودی عرب کے ساتھ سنجیدہ نہیں ہے: امریکہ

یمن کا تنازع ختم کرنے کے لیے ایران سعودی عرب کے ساتھ سنجیدہ نہیں ہے: امریکہ

یمن کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب یمن میں تنازع کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے، لیکن ایران کی طرف سے کوئی سنجیدگی نظر نہیں آرہی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔  فارس نیوز کے بین الاقوامی ڈیسک کے مطابق "یمن کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی "تیموتھی لنڈرکنگ" نے کہا ہے کہ سعودی عرب یمن میں تنازع کے خاتمے، جنگ بندی اور صدارتی کونسل کی تشکیل جیسی حالیہ پیش رفت پر انحصار کرنے میں سنجیدہ ہے۔ "الحرہ" کو انٹرویو دیتے ہوئے لنڈرکنگ نے کہا کہ 2014ء میں یمن تنازع کے آغاز کے بعد پہلی بار یمن کو امن کے لیے ایک غیر معمولی موقعے کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ تنازع کو بحران سے دوچار کرنے کے لئے ایران کا رویہ جیسا جنگ بندی سے پہلے تھا، اب بھی ویسا ہی ہے اور یمن تنازعہ کے پرامن خاتمے کے لئے ایران سعودی عرب کی طرح سنجیدہ نہیں ہے۔

بدقسمتی سے ایران نے جنگ بندی سے پہلے تنازعے کو شدید تر کر دیا تھا اور اب بھی اس کے رویئے میں یمن تنازعے کے پرامن خاتمے کے حوالے سے کوئی تبدیلی نہیں دیکھی جا رہی۔ الخلیج آن لائن ویب سائٹ کے رپورٹ کے مطابق، انصاراللہ یمن کا نام دوبارہ دہشتگرد گروہوں کی فہرست میں شامل کرنے کے احتمال کے بارے میں سوال کے جواب میں لنڈرکنگ نے کہا، ’’ہم فریقین کے رویئے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، لیکن ہماری موجودہ توجہ یقینی طور پر جنگ بندی پر ہے اور ہمیں امید ہے کہ یہ جنگ بندی 2 جون تک جاری رہے گی۔ اس کے بعد امریکہ جنگ بندی میں توسیع اور مستقل جنگ بندی کے لیے صورتحال کا جائزہ لے گا۔" انہوں نے سعودی عرب میں امن و امان کے قیام اور اس کے دفاع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تاکید کی اور کہا کہ "70,000 امریکی سعودی عرب میں اور 60,000 متحدہ عرب امارات میں رہتے ہیں، یوں ان ممالک میں امن و مان اور استحکام کی صورتحال کا تعلق براہ راست امریکہ سے ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*