جناب ابوطالب (ع) سیمینار کو آیت اللہ نوری ہمدانی کا پیغام

ہجرت کا واقعہ ابوطالب کی وفات کے بعد رسول اکرم (ص) کے اکیلے رہ جانے کی وجہ سے رونما ہوا

 ہجرت کا واقعہ ابوطالب کی وفات کے بعد رسول اکرم (ص) کے اکیلے رہ جانے کی وجہ سے رونما ہوا

شیعوں کے مرجع تقلید نے کہا: جناب ابوطالب کی ایک خصوصیت پیغمبر اکرم کے دفاع میں شجاعت کا مظاہرہ تھی، اور یہ خصوصیت شعب ابی طالب میں خاص طور پر نمایاں ہوئی، شعب ابی طالب میں پیغمبر اکرم کی جان کو اس قدر خطرہ زیادہ تھا کہ آپ مسلسل پیغمبر کا بستر بدلتے رہتے تھے اور ان کی جگہ اپنے بچوں کو سلاتے تھے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جناب ابوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار کی اختتامی تقریب جمعرات کے روز ۱۱ مارچ ۲۰۲۱ کو قم کے مدرسہ امام خمینی (رہ) میں منعقد ہوئی۔
جناب ابوطالب(ع) سیمینار کی اختتامی تقریب کو آیت اللہ العظمیٰ نوری ہمدانی نے ایک پیغام ارسال کرتے ہوئے بیان کیا: جناب ابوطالب ایک اہم شخصیت کے مالک ہیں، اس لیے کہ جناب عبد المطلب نے اپنی وفات کے موقع پر وصیت کی کہ جناب ابوطالب حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کی سرپرستی کو سنبھالیں گے۔
انہوں نے مزید کہا: جناب ابوطالب بزرگ اور عظیم شخصیت کے مالک ہیں اور عربوں کے درمیان ایک خاص مقام کے حامل تھے۔ آپ کو شیخ البطحاء کا لقب دیا گیا تھا آپ شعری ذوق بھی رکھتے تھے اس وجہ سے پیغمبر اکرم کی شان میں انہوں نے ایک طولانی قصیدہ بھی کہا۔
شیعوں کے مرجع تقلید نے کہا: جناب ابوطالب کی ایک خصوصیت پیغمبر اکرم کے دفاع میں شجاعت کا مظاہرہ تھی، اور یہ خصوصیت شعب ابی طالب میں خاص طور پر نمایاں ہوئی، شعب ابی طالب میں پیغمبر اکرم کی جان کو اس قدر خطرہ زیادہ تھا کہ آپ مسلسل پیغمبر کا بستر بدلتے رہتے تھے اور ان کی جگہ اپنے بچوں کو سلاتے تھے۔
آیت اللہ نوری ہمدانی نے جناب ابوطالب کی وفات پر رسول اکرم (ص) کا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: پیغمبر اکرم جناب ابوطالب کی وفات سے اس قدر غمزدہ ہوئے کہ اس سال کو عام الحزن کا نام دیا اور وفات کے بعد مکہ میں ان کے لیے رہنا دشوار ہو گیا لہذا مدینے کی طرف ہجرت کی۔ ہجرت کا واقعہ رسول اکرم کے تنہا رہ جانے کی وجہ سے رونما ہوا کہ اس واقعے میں بہت سارے نکات پائے جاتے ہیں۔
انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا: جناب ابوطالب کے ایمان کے بارے میں اصول کافی میں ذکر ہوا ہے کہ جناب ابوطالب کی مثال اصحاب کہف کی مثال ہے اور اصحاب کہف نے اپنا ایمان مخفی رکھا جناب ابوطالب نے بھی پیغمبر اکرم کی حمایت کی خاطر اور اسلام کے تازہ پودے کے تحفظ کی خاطر اپنا ایمان مخفی رکھا، اگر انسان پوری شجاعت کے ساتھ تقیہ کر سکے تو اس کے دو ثواب ہیں۔
مرجع تقلید نے کہا: عبد اللہ الخنیزی نے ایک کتاب "ابوطالب، مومن قریش" کے نام سے لکھی اس میں جناب ابوطالب کے ایمان کے بارے میں لکھا ہے تو وہابی اس کتاب کے مولف کو قتل کرنے پر تل گئے۔
انہوں نے سیمینار کے منعقد کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: آپ نے جو اس راہ میں قدم اٹھایا دنیا میں ظلم و ستم کو رواج دینے میں صہیونیت کے کردار کو فراموش نہ کریں اور لوگوں کو اس صہیونیت کے کردار سے آگاہ کریں اگر یہ کام انجام نہ پائے تو مشرق وسطیٰ میں امن برقرار نہیں ہو گا ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ اسی صہیونی جماعت نے ابتدائے اسلام میں رسول اکرم کو زہر دے کر شہید کیا۔
آیت اللہ العظمیٰ نوری ہمدانی نے اس تقریب کو اسلامی انقلاب کا ایک مقصد قرار دیا اور واضح کیا: جناب ابوطالب (ع) سیمینار کے ذریعے اہل سنت بھائیوں کو آگاہ کریں کہ اس سیمینار کا مقصد وحدت کے عنصر کو قوی کرنا تھا اور یہ ایک عظیم کام ہے۔

................

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*