کینیڈا کے بعد اب امریکہ میں بھی بچوں کی اجتماعی قبروں کا انکشاف ہوا

کینیڈا کے بعد اب امریکہ میں بھی بچوں کی اجتماعی قبروں کا انکشاف ہوا

امریکی ریاست نبراسکا کے ایک اسکول میں مقامی قبائل سے تعلق رکھنے والے ۱۰۰ بچوں کی اجتماعی قبر کا انکشاف ہوا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ رشا ٹوڈے کے مطابق امریکی ریاست نبراسکا میں انیسویں صدی آخری اور بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں کچھ ایسے اسکول تھے جن میں مقامی قبائل کے بچوں کو پڑھانے لکھانے کے نام پر رکھا جاتا ہے اور اجتماعی قبر میں ملنے والے جنازے انہیں بچوں کے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان بچوں کی موت متعدد وجوہات کی بنا پر ہوئی جن میں بعض بیماریوں کی وجہ سے جبکہ بعض پانی میں ڈوبنے کے سبب اور بعض گولیوں کا نشانہ بننے کے بعد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

بعض ایسے بچوں کے جنازے بھی قبر میں تھے کہ جن کی موت کے اسباب ابھی واضح نہیں ہو سکے ہیں اور اس بارے میں تحقیقات بدستور جاری ہیں۔ رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ جس اسکول میں یہ بچے پڑھا کرتے تھے، اس کا بانی امریکی فوج کا ایک جنرل تھا۔

ایسے ثبوت و قرائن موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی حکومت تاسکیگی میں ہوئے مقامی لوگوں کے قتل عام کی طرح اس موضوع پر بھی پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

نبراسکا یونیورسٹی کے پروفیسر مارگراٹ جیکب کا کہنا ہے کہ یہ بظاہر تعلیمی مراکز اسکول نہیں تھے بلکہ ان میں مقامی قبائل کے بچوں کو انکے والدین اور انکی سرزمین سے الگ تھلگ کرنے کے لئے (جبری طور پر) رکھا جاتا تھا۔

مذکورہ امریکی دانشور کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد مقامی قبائل کو انکی زبان، ثقافت اور تہذیب سے جدا کرنا تھا اور یہاں بچوں کو جنسی و نفسیاتی زیادتیوں اور تشدد و انتہا پسندی پر مبنی اقدامات اور بہیمانہ رویے کا بھی سامنا کرنا پڑتا تھا۔

یاد رہے کہ مغربی دنیا میں مقامی قبائل کے بچوں کے قتل عام یا انکی اجتماعی قبروں کا معاملہ صرف امریکہ سے ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ اس سے قبل کینیڈا میں بھی ۱۲۰۰ سے زائد بچوں کی اجتماعی قبروں کا انکشاف ہو چکا ہے جنہیں مغربی دنیا کی نام نہاد تعلیم و تہذیب کے نام پر زبردستی انکے والدین سے جدا کر کے بظاہر اسکولوں جیسی عمارتوں میں قید کر دیا جاتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*