اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جانب سے؛

کینیا کے نامور شیعہ عالم دین شیخ عبداللہی ناصر کی یاد میں سیمینار کے انعقاد کا اعلان

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جنرل اسمبلی کے رکن مرحوم الحاج شیخ عبد اللہی ناصر کی یاد میں ایک سیمینار کا انعقاد عمل میں لایا جا رہا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مشرقی افریقہ میں قرآن و اہل بیت(ع) کی تعلیمات کے مبلغ، عالم ربانی، اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جنرل اسمبلی کے رکن مرحوم الحاج شیخ عبد اللہی ناصر کی یاد میں ایک سیمینار کا انعقاد عمل میں لایا جا رہا ہے۔
یہ سیمینار جس کو فیزیکلی انعقاد کے ساتھ ساتھ آنلاین براہ راست نشر بھی کیا جائے گا اس کو اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رمضانی اور اسمبلی کی مجلس اعلیٰ کے رکن علامہ مرتضیٰ العاملی، مرحوم شیخ عبداللہی ناصر کے شاگرد شیخ علی سعید ساموجا، جامعۃ المصطفیٰ (ص) العالمیہ کے نمائندہ ڈاکٹر سید محمد شاہدی اور مرحوم کے بیٹے عبدالقادر ناصر خطاب کریں گے۔
حوزہ علمیہ قم میں زیر تعلیم افریقہ کے طلاب اس سیمینار کے دوسرے حصے میں اپنے مقالات بھی پیش کریں گے۔
یہ سیمینار 18 جنوری 2022 بروز منگل کو تہران کے وقت کے مطابق 19 بچے قم اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے دفتر میں منعقد ہو گا۔
یہ پروگرام عبرات ویب سائٹ اور اہل بیت(ع) خبررساں ایجنسی ابنا کے انسٹاگرام پیج پر براہ راست نشر کیا جائے گا۔

مرحوم حاج شیخ عبداللہی ناصر جمعہ کی مختصر سوانح عمری

عبداللہی ناصر جمعہ 1932 میں، کینیا کے شہر ممباسا میں پیدا ہوئے۔ وہ جس گھرانے میں پیدا ہوئے وہ علماء، شاعروں اور اساتذہ کا گہوارہ کہلاتا تھا۔
دینی شعبے میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے ایک مبلغ اور استاد کی حیثیت سے اسلامی علم کو فروغ دیا اور ساتھ ہی ساتھ وہ ادبی، میڈیا اور سیاسی سرگرمیوں میں بھی مصروف رہے۔
عبداللہی 1957 سے 1963 تک جب کینیا برطانیہ کے زیر تسلط تھا، کینیا کی تحریک آزادی کا رکن تھے اور جب یہ تحریک نتیجہ خیز ثابت ہوئے تو لندن میں ملک کے تاریخی آئین کانفرنس کا رکن بن گئے جو سلطنت برطانیہ سے آزادی کے لیے تشکیل دی گئی تھی۔
1965 سے 1973 تک انہوں نے نیروبی میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے ساتھ سواحلی زبان کے ایڈیٹر کے طور پر کام کیا، اور 1974 سے 1977 تک وہ مشرقی افریقہ میں اس مشہور پریس کے ڈائریکٹر جنرل رہے۔
شیخ عبداللہی ناصر، جو کینیا میں اہم سنی مبلغین اور علماء میں شمار ہوتے تھے 1975 میں انہوں نے شیعہ مذہب اختیار کر لیا۔ انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں اپنے شیعہ ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا: میں امیر المومنین علی علیہ السلام کے فضائل سے آشنا ہوا اور آہستہ آہستہ محسوس کیا کہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام رسول خدا کے بعد سب سے افضل ہیں۔ کچھ عرصہ بعد علامہ مرحوم امینی کی کتاب " الغدیر " مجھے ملی۔ جب میں نے اس کی پہلی جلد پڑھی تو مجھے شیعوں کی حقانیت کا احساس ہوا۔ پھر میں شیعہ مسجد میں گیا، اور وہاں سے کچھ اور کتابیں لیں اور ان کا مطالعہ کیا اور آخر کار میں شیعہ ہو گیا"۔
شیعہ مذہب اختیار کرنے کے بعد حاج عبداللہی ناصر نے شیعہ مذہب پر کتابیں اور پمفلٹ لکھ کر کینیا اور دیگر افریقی ممالک میں لوگوں کی رہنمائی میں بہت اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے اپنے علاقے میں " حوزہ علمیہ امام علی (ع)" کا قیام عمل میں لایا اور اس حوزہ میں سینکڑوں ہمسایہ اور مہاجر طلباء کو علم دین اور شیعہ مذہب کے اعلیٰ درجے کی تعلیم سے روشناس کیا تاکہ وہ اسلامی اور شیعی تعلیمات کو اپنی قوم میں لے جا کر تبلیغ کریں۔
اس نامور عالم نے تاریخ اسلام اور شیعہ عقائد کے اصولوں کے بارے میں اپنے وسیع علم کے ساتھ کینیا کے وہابی علماء کے ساتھ متعدد مناظرے بھی کیے اور نصف صدی تک مکتب اہل بیت (ع) کا دفاع کیا ۔
مرحوم عبداللہی ناصر نے اسلام اور شیعہ مذہب کے بارے میں سواحلی زبان میں 25 سے زیادہ کتابیں اور مقالے لکھے، جن میں سے کچھ کا انگریزی اور روانڈا میں ترجمہ شائع کیا گیا ہے۔ انہوں نے شیعہ عقائد پر جو گراں قدر کتابیں لکھیں ان میں سے بعض درج ذیل ہیں:
ــ الشیعة والقرآن
ــ الشیعة والحدیث
ــ الشیعة والصحابة
ــ الشیعة والتقیة
ــ الشیعة والإمامة

کتاب " شیعہ اور تقیہ " ان کی اہم ترین تصانیف میں سے ایک ہے جو انہوں نے محب الدین خطیب کی عربی میں "جنرل لائنز" کے عنوان سے شائع ہونے والی کتاب کے جواب میں لکھی اور پھر "شیعہ مذہب کی جڑیں" کے عنوان سے اسے سواحلی زبان میں شائع کیا۔ اس کتاب نے افریقی خطے کے مسلمانوں میں شکوک و شبہات کو جنم دیا۔ مرحوم نے اس کتاب میں شیعہ نقطہ نظر سے تقیہ کے تصور کو بیان کیا ہے۔ انھوں نے اس کتاب کے بارے میں کہا: "افریقہ میں تقیہ کے مسئلہ کے بارے میں جو شبہات پیدا ہوئے ہیں، ان کے پیش نظر میں نے ضروری سمجھا کہ اس کتاب کو تیار کیا جائے اور اسے عوام کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ پہلے تو تقیہ کے سلسلے میں پانے جانے والے شبہات کا ازالہ کیا جا سکے دوسرے یہ کہ افریقہ کے عوام تقیہ کے مسئلے سے آشنا ہو سکیں۔"

کتاب "شیعہ اور تقیہ" کے چار ابواب کے عناوین یہ ہیں:
1. تقیہ کیا ہے؟
2. بنی امیہ اور بنی عباس کے دور میں شیعوں کے مسائل؛
3. اہل سنت کے نزدیک تقیہ؛
4. شیعہ نقطہ نظر سے تقیہ۔

شیخ عبداللہی ناصر کی تقریروں کا سلسلہ ٹیپ اور آڈیو اور ویڈیو فائلوں کی صورت میں آج بھی اس ملک کے مسلمانوں میں، خاص طور پر بحر ہند کے خطے میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ یہ تقریریں افریقہ کے باشندوں کو مذہب اہل بیت (ع) کی طرف متوجہ ہونے اور انتہا پسندی اور تکفیری افکار سے دور رکھنے کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
ان سالوں میں وہابیوں اور ان سے وابستہ مراکز نے ان کے خلاف بہت سی سازشیں کیں اور رشوت اور دھمکیوں کے ذریعے انہیں شیعیت سے دور کرنے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے۔
مرحوم عبداللہی ناصر ایک وقت تک پارلیمنٹ میں ممباسا کے عوام کے نمائندے بھی تھے اور اس وجہ سے لوگوں میں کافی مقبولیت بھی رکھتے تھے۔
مرحوم نیز اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی جو ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم ہے اس کی جنرل اسمبلی کا رکن بھی تھے۔ وہ مختلف قومی اور علاقائی اجلاسوں اور کنفرنسوں میں شرکت کر کے مشرقی افریقہ کے ممالک کے دانشوروں اور علماء کو متاثر کرتے تھے۔
طبیعت میں متانت، وقار، کردار کی عظمت ، میانہ روی اور اخلاقی خوبیوں نے اس عالمی ربانی کو نوجوانوں کے لیے ایک روحانی آئیڈیل میں تبدیل کر دیا۔
اپنی زندگی کے آخری سالوں تک وہ قرآن کریم کے سواحلی زبان میں ترجمہ و تفسیر میں مصروف رہے، آخر کار ایک عمر تلاش و کوشش اور تعلیمات ثقلین کو ترویج کے بعد ۱۱ جنوری بروز پیر اس دنیا سے رخصت ہو گئے اور اپنے معبود حقیقی سے جا ملے۔

..........

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*