کیا سعودی عرب میں کسی روح اللہ خمینی جیسے انقلاب آفریں شخص کے اٹھ کھڑا ہونے کا امکان ہے؟

کیا سعودی عرب میں کسی روح اللہ خمینی جیسے انقلاب آفریں شخص کے اٹھ کھڑا ہونے کا امکان ہے؟

بعض لوگ یہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا بن سلمان کے یہ حالیہ اقدامات اس بات کا سبب نہیں بنیں گے کہ ولی عہد کے خلاف ایک خاص گروہ وجود میں آ جائے یا کوئی تحریک جنم لے لے ، اس بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ بہت ہی کم تعداد میں ایسے لوگ ہیں جنکا ماننا ہے کہ دینی رہنما اور علماء ہمیشہ خاموش رہیں گے بعض یہ پوچھ رہے ہیں کیا ممکن ہے کہ ایران کی طرح کوئی خمینی اسی طرح سعودی عرب میں اٹھ کھڑا ہو جس طرح شاہ کے مقابل ایران میں امام خمینی اٹھ کھڑے ہوئے تھے ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ فاران تجزیاتی ویب سائٹ کے مطابق انگریزی زبان میں شائع ہونے والے ہفت روزہ جریدے دےاکنامسٹ The Economist نے اپنی ایک رپورٹ میں محمد بن سلمان کے ولی عہدی کے بعد سے سعودی عرب میں ہونے والی معاشرتی اور سماجی تبدیلیوں کے سلسلہ سے تجزیہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اب سعودی عرب کے حکام ” امر بالمنکر و نہی عن المعروف ” پر آ گئے ہیں اس رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ کم سے کم سعودی عرب معاشرے کے تین حصے ایسے ہیں جو محمد بن سلمان کی جانب سے کی جانے والی جدید تبدیلیوں سے برہم ہیں اور محض ڈر اور خوف اور بری طرح کچل دئے جانے کا دھڑکا ہے جو اس بات کے سامنے رکاوٹ بن رہا ہے کہ سعودی عرب کے حالات کو دوبارہ پرانی حالت پر ڈالے جانے کے سلسلہ سے کوئی شورش بپا ہو یا یہ لوگ حالات کو پھیرنے کے لئے کچھ کھل کر سامنے آ سکیں ۔
۲۰۱۷ ء میں بن سلمان کو جب سعودی عرب کا ولی عہد قرار دیا گیا تو بن سلمان نے عہدہ سنبھالتے ہی بہت سی معاشرتی ، معیشتی اور ثقافتی تبدیلیوں کا آغاز کر دیا جن میں سب سے زیادہ نمایاں عام جگہوں پر خواتین و مردوں کا ساتھ اکھٹے ہونا ہے جسے ہم مکس گیدرنگ کہتے ہیں ، خواتین و مردوں کے ساتھ ساتھ اٹھنے بیٹھنے کے علاوہ خواتین کو گاڑیاں چلانے کی اجازت دینا اور آرٹ ہنرو کھیل کود کے میدانوں میں ان کی شراکت یہ وہ چیزیں ہیں جنہوں نے ہر ایک کا ذہن سعودی عرب میں ہونے والی تبدیلیوں کو طرف کھینچ لیا ، اقتصاد کے میدان میں بھی بن سلمان کی کوشش ہے کہ سعودی عرب کی آمدنی اس طرح مختلف ذرائع سے ہو کہ تیل پر انحصار نہ رہے اور اسی بنا پر متعدد جاہ طلبانہ پروجیکٹس کی سنگ بنیاد ڈالی گئی۔
لیکن محمد بن سلمان کی کوششوں کے باوجود جس میں اس بات پر توجہ مرکوز ہے کہ ان تبدیلیوں کے ذریعہ سعودی عرب کے چہرے کو دنیا میں بہتر بنا کر پیش کیا جائے ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ معترضین کی آواز کو دبا دینا اور حقوق نسواں کے لئے جدو جہد کرنے والے متحرک افراد کو گرفتار کرنے جیسے اقدامات وہ ہیں جنہوں نے بن سلمان کی سعودی عرب میں تبدیلیوں کی پالیسیوں کو تحت الشعاع میں قرار دے دیا ہے ۔
دی اکنامیسٹ جریدے نے آگے لکھا ہے کہ سعودی عرب کے اہلکاروں نے گزشتہ سال ۳۰ دسمبر کو مکہ اور مدینہ کی مساجد میں ایسے اعلانات و پوسٹرز چسپاں کئے جنکے بموجب لوگوں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ لوگ ۲ میٹر کے فاصلے کی رعایت کریں اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ مکہ اور مدینہ کے علاوہ بن سلمان کو دیگر مقامات پر اس طرح کے فاصلوں کی رعایت پر بہت زیادہ اصرار نہیں ہے گزشتہ مہینے تقریبا 7 لاکھ جوان چار دن کے اند ر اندر ایک موسیقی کے کنسرٹ میں شریک ہوتے ہیں اور کوئی انہیں روکنے والا نہیں ہے دوسری طرف کرونا کی وبا کے پیش نظر مساجد میں اکھٹے ہونے کو اور بھیڑ لگنے کو ممنوع قرار دیا گیا تھا ۔
اس سلسلہ سے ایک سعودی عرب ہی کے استاد نے دی اکنامیسٹ سے کہا کہ سعودی اہلکار “امر باالمنکر و نہی عن المعروف” کرتے نظر آ رہے ہیں ۔ سعودی عرب میں سروے کرنا اور مختلف چیزوں کا جائزہ لیکر آنکڑوں میں بیان کرنا ایک بہت ہی نادر کام ہے اور بہت مشکل سے کسی بھی امر کے بارے میں لوگوں کی رائے جانی جا سکتی ہے بہت مشکل ہے کہ وہاں پر یہ پتہ لگایا جائے کہ کون محمد بن سلمان کی جانب سے لئے گئے فیصلوں سے راضی ہے کون نہیں، اسکے باوجود دی اکنامیسٹَ جریدے نے لکھا ہے کہ کم از کم سعودی عرب میں تین ایسے گروہ ہیں جو بن سلمان کی جانب سے اٹھائے گئے اصلاحی قدموں سے نالاں اور غصے میں ہیں گرچہ یہ وہ قدم ہیں جنکو اصلاح کا نام دیا گیا ہے لیکن تین گروہ اس سے سخت ناراض ہیں پہلا گروہ سلفیوں کا ہے یہ وہ لوگ ہیں جنکا اسلام کے سلسلہ سے ایک خاص نظریہ ہے اور اسلام کو لیکر خاص سوچ رکھتے ہیں دوسرے بعض شاہزادے ہیں جو ان تمام اصلاحات کے مخالف ہیں جو بن سلمان کی جانب سے ہو رہی ہیں تیسرے وہ عام لوگ ہیں جو سلفی دینی رہنماؤں کے پیرو ہیں ، اب یہاں پر بھی بہت ساری چیزیں ہیں اعتراضات کا بعض حصہ سلفیوں کے اختیارات کے کم ہو جانے کی طرف پلٹتا ہے خاص طور پر امر بہ معروف و نہی عن المنکر کمیٹی کے اختیارات کا شدت کے ساتھ کم ہو جانا جو سعودی عرب میں دینی پولیس کے طور پر جانی جاتی تھی اور اسے بہت کچھ اختیار حاصل تھا چنانچہ یہی سب وہ باتیں جنکے سبب اب اذان کے موقع پر زبردستی دوکانوں کو بند نہیں کرایا جا رہا ہے نہ ہی زبردستی کسی دوکان کے شٹر کو گرایا جا رہا ہے ، اب مرد وعورت ایک ساتھ ایک مقام پر اکھٹے ہو سکتے ہیں جمعہ کی نماز میں بھی جو ضروری ہے وہ خطبہ ہے اس میں بھی ادھر ادھر کی باتیں نہیں ہیں خطیب و علماء کے لئے ضروری ہے کہ اپنے خطبے میں بس سعودی عرب کے بادشاہ کی تعریف کی جائے کسی کو کسی بات پر اعتراض و تنقید کا حق نہیں ہے ، دی اکنامیسٹ کی رپورٹ کے مطابق بہت سے وہ لوگ جو سلفیوں کے پیرو ہیں جدہ اور ریاض میں تفریح وموج مستی کے نام پر ہونے والے اجتماعات کے مخالف ہیں اور ان پروگراموں پر تنقید کر رہے ہیں ،یہ پروگرامز وہ ہیں جن میں مغربی کلچر کے رواج کو دیکھا جا سکتا ہے چاہے شراب پینا ہو یا مغربی مغنیوں اور سنگرز کو دعوت دینا اور انکی تال پر ناچنا ہو ۔
معاشرتی سطح پر بھی ہونے والی تبدیلیوں نے مختلف دھڑوں کو ناراض کر رکھا ہے ایک رٹائرڈ پولیس آفیسر کا کہنا ہے اس سے قبل اگر کوئی لڑکی گھر سے بھاگ جاتی تھی تو پولیس کوحق حاصل تھا کہ اسے گرفتار کر کے اس کے گھر والوں تک پہنچا دے لیکن اب یہ زمانہ لد گیا ہے اب تو الٹا یہ ہو گیا ہے اب بھاگنے والی لڑکی پولیس کے خلاف ہی شکایت درج کرا سکتی ہے اور پولیس کو ہی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈلوا سکتی ہے ، بعض سعودی عرب کے باشندوں کا ماننا ہے کہ محمد بن سلمان کے یہ اقدامات شدت پسندانہ طریقہ کار سے اعتدال کی طرف پلٹنے سے عبارت نہیں ہیں بلکہ یہ ایک کوشش ہے کہ سماج اور معاشرے سے مکمل طور پر دین ہی کو ختم کر دیا جائے اور دین کی جڑیں ہی سعودی معاشرے سے اکھاڑ پھینکی جائیں۔
سعودی عرب کے ولی عہد پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ولی عہد نے پوری طرح ملک کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے اور لوگوں کی زندگی پر خود کو مسلط کر دیا ہے اگر کوئی تنقید کرتا ہے تو علنی طور پر بیان کرنے کی اجازت نہیں ہے اس سلسلہ سے ایک سلفی مفتی نے اکنامیسٹ سے کہا کہ “شاہزادہ مخالفین کے منھ کو بند کر سکتا ہے لیکن انکا گلا نہیں گھونٹ سکتا”۔
ان حالات میں بہت سے ایسے شاہزادے بھی ہیں جو محمد بن سلمان کے اقدامات سے راضی نہِیں ہیں اور وہ روایتی آریسٹوکراسی کے مقابل کھڑے ہیں { ہرچند خود ایک نیا طبقہ بننے کی کگار پر ہے }
انہیں وجوہات کے سبب ۲۰۱۷ میں بہت سے شاہزادوں اور معروف تاجروں کو محبوس کر دیا گیا اور پھر ان سے خوب خوب وصولی کی گئی بے حساب پیسہ انکی جیبوں سے نکلوایا گیا کچھ شاہزادے وہ ہیں جنہیں پچھلی ملنے والی رعایتوں کو ختم کر دیا تو وہ اسے لیکر نالاں ہیں منجملہ مفت فلائٹس کی سہولت ، فری میڈیکل ، حکومت کی جانب سے نیلامی میں جیت یہ ساری وہ چیزیں ہیں جنہیں اب ختم کر دیا گیا ہے اسکی وجہ سے وہ دھڑا ناراض ہے جسے یہ سہولتیں فراہم تھیں اور اب نہیں ہیں ۔ان لوگوں کا کہنا ہے کہ محمد بن سلمان نے اس سسٹم کو ختم کر دیا جو ایک اجتماعی صورت میں ایک ایک دوسرے کی منظوری و توافق سے چل رہا تھا اب ہر چیز پر بس وہ خود ہی مسلط ہے۔
ایسے تاجر و بزنس مین جو نجی کمپنیوں کو چلا رہے تھے وہ بھی موجودہ حالات سے ناراض ہیں چونکہ انکی نجی کمپنیوں کا بیڑا غرق ہو چکا ہے حکومتی سسٹم انکی نجی کمپنیوں کے لئے ایک بڑی رکاوٹ ہے لہذا انکو اس بات کا گلا ہے کہ سب کچھ حکومتی ہوتا جا رہا ہے انکا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے کمپنیز کو دی جانے والی رعایتیں اب کم ہو گئی ہیں اور ٹیکس کی مقدار کئی برابر ہو گئی ہے۔

کیا سعودی عرب میں بھی کوِئی روح اللہ خمینی جیسا فرد سامنے آئے گا ؟
ان تمام حالات کے ساتھ ساتھ جو مرکزی حکومت ہے وہ گزشتہ سالوں کے بالمقابل بہت کم جوابدہ ہے پچھلے دور میں بادشاہوں کا یہ طریقہ کار تھا کہ وہ صاحب نظر افراد کے ساتھ مشورے کی بیٹھکوں میں بیٹھتے اور انکی باتوں کو سنتے تھے لیکن اب موجودہ بادشاہ و ولی عہد نے اس رسم کو بھی بالائے طاق رکھ دیا ہے۔ دی اکنامسٹ ہفتہ نامے نے آگے لکھا ہے ” بعض لوگ یہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا بن سلمان کے یہ حالیہ اقدامات اس بات کا سبب نہیں بنیں گے کہ ولی عہد کے خلاف ایک خاص گروہ وجود میں آ جائے یا کوئی تحریک جنم لے لے ، اس بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ بہت ہی کم تعداد میں ایسے لوگ ہیں جنکا ماننا ہے کہ دینی رہنما اور علماء ہمیشہ خاموش رہیں گے بعض یہ پوچھ رہے ہیں کیا ممکن ہے کہ ایران کی طرح کوئی خمینی اسی طرح سعودی عرب میں اٹھ کھڑا ہو جس طرح شاہ کے مقابل ایران میں امام خمینی اٹھ کھڑے ہوئے تھے ۔
دی اکنامسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سعودی عرب کے عالیرتبہ سابق افسر نے ملک فیصل کے اپنے بھتیجے کے ہاتھوں ۱۹۷۵ میں قتل کئے جانے کے واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا کہ محمد بن سلمان کو پتہ ہے کہ شاہی خاندان اس کے ساتھ کیا کچھ کر سکتا ہے۔
ان تمام باتوں کے ساتھ بعض یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ امریکی صدر جمہوریہ بائڈن محمد بن سلمان کے بادشاہ بننے کی راہ میں رکاوٹ بن جائیں۔
دی اکنامسٹ نے آگے لکھا ہے ” محمد بن سلمان کے ہٹنے کے بعد ولی عہد کی جانب سے لئے گئے فیصلے بھی ختم ہو جائیں گے تمام قدم جو بن سلمان نے اٹھائے ہیں سب پر پانی پھر جائے گا اس لئے کہ یہ سارے فیصلے اوپر سے لئے گئے ہیں انکا کوئی اجتماعی مرکز نہیں ہے اور انکا عوامی اعتبار نہیں ہے لیکن مجموعی طور پر جو کچھ بیان ہوا اس سناریو کے محقق ہونے کی امید کم ہی ہے۔
جو مخالف شہزادے ہیں انہیں مجبوری کی زندگی گزارنا پڑ رہی ہے ، ہزاروں دینی رہنما جیسے سلمان العودہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنے دن گن رہے ہیں حتی سعودی عرب سے باہر بن سلمان پر تنقید کرنے والے ناقدین بھی اس ڈر سے کہ جمال خاشقجی کے انجام سےدوچار نہ ہوں یہ سوچ کر خوف وہراس میں جی رہے ہیں یوں ہر ایک کی جان پر بنی ہے کسی کو کچھ پتہ نہیں کیا ہو جائے
اس رپورٹ کے آخر میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ سعودی عرب ایک ایسے ملک کی صورت ڈھل گیا ہے جس کی عوام کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے جاسوسی کے نت نئے آلات اور خفیہ ایجنسیز کی ترقی یافتہ ٹکنالوجی کے پیش نظر اب بہت مشکل ہے کہ کوئی انقلاب رونما ہو یا کوئی تختہ پلٹ تحرک سر اٹھائے، ہر چیز حاکمان وقت کے ہاتھوں میں ہے اورسب پر حکومت نظریں رکھے ہوئے ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*