کیا اسرائیل یہودیوں کے ہاتھوں تباہ ہو رہا ہے؟

کیا اسرائیل یہودیوں کے ہاتھوں تباہ ہو رہا ہے؟

صہیونی ریاست کے سابق وزیر اعظم ایہود بارک نے اس ریاست کو درپیش بیرونی خطرات - بشمول فلسطینی مقاومت، حماس اور حزب اللہ کے میزائلوں اور راکٹوں نیز ایران کی جوہری طاقت - کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تمام خطرے بہت سنجیدہ ہیں مگر ان میں سے کوئی بھی اسرائیل کے وجود کے لئے خطرہ نہیں ہے اور جو واحد خطرہ اس ریاست کے وجود کو خطرے میں ڈال رہا ہے یہودیوں کا اندرونی بحران اور ان میں پائی جانے والی دراڑیں ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایہود بارک – جو یاسر عرفات کے ساتھ اسرائیلیوں کے مذاکرات نیز 2006ع‍ کی 33 روزہ جنگ میں یہودی ریاست کا وزیر اعظم تھا – نے یدیعوت اخرونوت (Yedioth Ahronoth) میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں لکھا: ہمیں کھلی آنکھوں اور فیصلہ کن انداز سے، کسی غفلت کے بغیر میانہ روی اور ضبط نفس کے ساتھ خطروں کا مقابلہ کرنا پڑے گا اور آخرکار – اگر ممکن ہؤا تو – اسرائیلی-فلسطینی مسئلے کے حل کی طرف جانا ہو گا۔
ایہود بارک – جس نے سنہ 2000ع‍ میں کیمپ ڈیویڈ کے مقام پر اسرائیلی اور تنظیم آزادی فلسطین (PLO) کے راہنما یاسر عرفات کی بات چیت کے بعد کہا تھا: “فلسطین نامی کوئی شریک (پارٹنر) کا کوئی وجود نہیں ہے” – ظاہراً دو عشرے قبل کی نسبت زیادہ بہتر طریقے سے حالات کو دیکھ رہا ہے اور کہتا ہے: “ہم ایک حل کی طرف آگے بڑھتے ہیں لیکن سست روی کے ساتھ، اور اس تیزرفتاری کے ساتھ نہیں جو ہم چاہتے ہیں، اور بالآخر، ہمیں اپنے سلامتی اور اہم مفادات کو نقصان نہیں پہنچانا چاہئے”۔
ایہود بارک نے دعوی کیا ہے کہ “اسرائیل آج عسکری، تزویراتی، فنی اور معاشی طور پر دشمنوں کی طرف کے تمام خطروں سے زیادہ طاقتور ہے اور ہمیں پوری طاقت اور خوداعتمادی کے ساتھ اپنے اہداف کے حصول کے لئے کوشاں رہنا چاہئے اور ہمیں اور ہمارے شہریوں کو کسی بھی تشویش اور خوف کا سامنا نہیں ہے!!! (مقبوضہ فلسطین سے اپنے آبائی ممالک کی طرف بھاگنے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور حفاظتی سرنگوں میں کابینہ کے اجلاسوں کا انعقاد البتہ ایہود کے اس دعوے کی عملی تردید کرتا ہے)۔
اس کا کہنا تھا کہ صہیونی ریاست کی سلامتی کو درپیش پہلے درجے کا خطرہ – جس سے اس ریاست کو آخر پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھنا چاہئے – فلسطینی دہشت گردی (یعنی فلسطین کی مقاومت) ہے، اگرچہ یہ مقاومت دردناک ہے مگر اسرائیل کے وجود کے لئے خطرہ نہیں ہے۔ [ایہود بارک 2006ع‍ میں حزب اللہ سے عظیم شکست کھا کر اچھی طرح جانتا ہے کہ آج اصل خطرہ بیرونی نہیں ہے بلکہ فلسطین کے اصل باشندوں کا خطرہ ہے جس نے اسرائیلی ریاست کو کھوکھلا کر دیا ہے اور فلسطینیوں کو کچل کر آگے بڑھنا اب یہودی ریاست کے بس کی بات نہیں ہے اور وہ تجاہل عارفانہ سے کام لے رہا ہے، مگر چلئے “دل خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے]۔
غاصب ریاست کے اس سابق وزیر اعظم نے مزید لکھا ہے: تیسرا خطرہ ایران کی جوہری طاقت ہے؛ اگر ایران ایک جوہری ملک میں بدل جائے، تو سب کچھ بدل جائے گا اور اسرائیل کو اس خطرے سے نمٹنے کے لئے اصولی طور پر امریکہ کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے اور اگر امریکہ اور اسرائیل کے پاس ایران کی کوششوں سے نمٹنے کا کوئی منصوبہ نہ ہو تو انہیں ایک تاریخی شکست سے دوچار ہونا پڑے گا جس کی اصلاح بہت دشوار ہوگی۔
غاصب ریاست کے سابق وزیر اعظم نے لکھا ہے: میری اس بات کا، اسرائیل کے خلاف ایران کی طرف سے جوہری ہتھیار استعمال کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ ایران کے پاس اپنے دلائل ہیں جن کی وجہ وہ اس مسئلے کے بارے میں نہیں سوچیں گے، ایران میں ایٹمی ہتھیاروں کا پھیلاؤ شمالی کوریا کی ہتھیاروں سے مماثلٹ رکھتا ہے اور ان ہتھیاروں تک رسائی تسدیدی حیثیت رکھتی ہے اور اس کا مقصد نظام کا تحفظ ہے، نہ یہ کہ ان ہتھیاروں کو پڑوسیوں کے خلاف استعمال کریں۔ چنانچہ یہ مسئلہ بھی اسرائیل کے وجود کے لئے خطرہ شمار نہیں ہوگا۔ [جو ریاست ایران اور خطے میں موجود محاذ مقاومت کے اتحاد سے ہی، لڑے بغیر، ٹوٹ سکتی ہے اسے شکست دینے کے لئے جوہری ہتھیاروں کا استعمال ضرورت نہيں رکھتا]۔
اور پھر بارک نے خود ہی لکھا ہے کہ: تاریخی تجربے کی رو سے، جو مسئلہ اسرائیل کے وجود کو خطرے میں ڈآلتا ہے وہ “اندرونی بحران اور یہودیوں کے درمیاں اندرونی دراڑیں اور منافرتیں ہیں”۔ [جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ریاست عنقریب خود ہی ٹوٹنے والی ہے]۔
بارک اوباما صہیونی ریاست کے اندر کے اشتعال انگیز اقدامات، نیز وسیع پیمانے پر اختلافات – جو ہر روز وسیع سے وسیع تر ہو رہے ہیں – کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حال ہی میں سینماؤں میں دکھائی جانے والی صہیونی فلم “تباہی کا افسانہ” (Legend of Destruction) کی طرف اشارہ کرتا ہے اور لکھتا ہے: جو کردار اس فلم میں کام کرتے ہیں وہ سب یہودی ورثے، یہودی متون اور کتب سے ماخوذ ہیں اور یہ فلم آج کے اسرائیلی معاشرے سے مکمل طور پر مطابقت رکھتی ہے۔
ایہود بارک نے مزید لکھا ہے: آج ہمیں اندرونی سطح پر ہمیں ایک فوجداری ملزم (بنیامین نیتن یاہو) کی سرکردگی میں جرائم پیشہ مجرموں اور کالے مذہبی تعصب کے علمبردار انتہا پسندوں کے اتحاد کا سامنا ہے۔ نیتن یاہو اور اس کے حامی مفاہمت عامہ کی فضا میں زہر اگلنے کے لئے کوشاں ہیں اور وہ نیتن یاہو پر چلنے والے مقدمے کا رخ موڑنا چاہتے ہیں اور عدالتی نظام اور حکمرانوں پر [غاصب] یہودی آبادی کا اعتماد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت نیتن یاہو کے اتحاد اور [کنیست (Knesset) کے شدت پسند رکن] ایتامار بن گویر (Itamar Ben-Gvir) اور اس جیسے دوسروں، کے درمیان اتحاد قائم ہؤا ہے؛ یہ وہ لوگ ہیں جنہيں اس سے قبل تمام جماعتوں نے مار بھگایا تھا لیکن اب انہیں قانونی حیثیت دی گئی ہے۔
بارک نے لکھا ہے: یہ یہودی اور عیسائی انجمنیں، سیکورٹی افواج کی حمایت کے بجائے [مقاومت کی] کاروائیوں کے ہلاک شدگان کی لاشوں پر رقص کرتی ہیں۔ اور لگتا ہے کہ یہ لوگ اور حماس کے راہنما باہمی ہم آہنگی کے ساتھ اسرائیلی-فلسطینی کشمکش کو [مقبوضہ فلسطین کی] حدود سے نکال کر اسرائیل اور اسلام کے درمیان جنگ میں بدلنے کی کوشش کرنے ہیں۔
ایہود بارک نے مضمون کے آخر میں لکھا ہے: “جو بھی سمجھتا ہے کہ اردن اور مصر کے ساتھ تعلقات اور ابراہام معاہدہ اس طرح کے جنگ کے مقابلے میں مؤثر طور پر جاری رکھ سکتا ہے، وہ ہمیں خطرے میں ڈال رہا ہے”۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*