پیغمبر اکرم (ص) امیر المومنین حضرت علی (ع) کے کلام میں

پیغمبر اکرم (ص) امیر المومنین حضرت علی (ع) کے کلام میں

میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ص) اس کے بندہ اور رسول ہیں۔ اس نے انہیں اس وقت بھیجا ہے جب ہدایت کے نشانات مٹ چکے تھے۔ اور دین کے راستے بے نشان ہوچکے تھے۔انہوں نے حق کا واشگاف انداز سے اظہار کیا۔ لوگوں کو ہدایت دی اورسیدھے راستہ پر لگا کر میانہ روی کا قانون بتا دیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ہر کسی نے پیغمبر اکرم (ص) کے فضائل و کمالات کا تذکرہ کیا ہے اور اپنے اپنے علم و رسول اکرم کے تئین معرفت کے اعتبار سے آپ (ص) کی توصیف کی ہے لیکن آئیے دیکھیے اس ہستی نے کیسے رسول اکرم کی توصیف بیان کی جو آغوش رسالت میں پلا ہے اور جس نے رسالت کی زبان چوس کر علم لدنی حاصل کیا ہے۔
مولائے کائنات نہج البلاغہ میں جابجا رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے فضائل و کمالات کا تذکرہ کرتے اور آپ کی توصیف و تعریف بیان کرتے ہیں۔ یہاں پر چند ایک جملات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
آپ نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر ۲۶ میں فرماتے ہیں:
''إِنَّ اللهَ تَعَالَى بَعَثَ مُحَمَّداً نَذِيراً لِلْعَالَمِينَ وَ أَمِيناً عَلَى‏ التَّنْزِيلِ‏ وَ أَنْتُمْ مَعْشَرَ الْعَرَبِ عَلَى شَرِّ دِينٍ وَ فِي شَرِّ دَارٍ مُنِيخُونَ بَيْنَ حِجَارَةٍ خُشْنٍ وَ حَيَّاتٍ صُمٍّ تَشْرَبُونَ الْكَدِرَ وَ تَأْكُلُونَ الْجَشِبَ وَ تَسْفِكُونَ دِمَاءَكُمْ وَ تَقْطَعُونَ أَرْحَامَكُمْ الْأَصْنَامُ فِيكُمْ مَنْصُوبَةٌ وَ الْآثَامُ بِكُمْ مَعْصُوبَة''
یقینا اللہ نے حضرت محمد (ص) کو عالمین کے لئے عذاب الٰہی سے ڈرانے والا اور تنزیل کا امانت دار بنا کر اس وقت بھیجا ہے جب تم گروہ عرب بد ترین دین کے مالک اور بد ترین علاقہ کے رہنے والے تھے۔ نا ہموار پتھروں او زہریلے سانپوں کے درمیان بود باش رکھتے تھے۔ گندہ پانی پیتے تھے اور غلیظ غذا استعمال کرتے تھے۔ آپس میں ایک دوسرے کا خون بہاتے تھے اور قرابتداروں سے بے تعلقی رکھتے تھے۔ بت تمہارے درمیان نصب تھے اور گناہ تمہیں گھیرے ہوئے تھے۔۔۔

یا دوسرے مقام پر خطبہ نمبر 195 میں فرماتے ہیں:
«أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ أَرْسَلَهُ وَ أَعْلَامُ الْهُدَى دَارِسَةٌ وَ مَنَاهِجُ الدِّينِ طَامِسَةٌ فَصَدَعَ بِالْحَقِّ وَ نَصَحَ لِلْخَلْقِ‏ وَ هَدَى إِلَى‏ الرُّشْدِ وَ أَمَرَ بِالْقَصْدِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ سَلَّم‏.»
میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ص) اس کے بندہ اور رسول ہیں۔ اس نے انہیں اس وقت بھیجا ہے جب ہدایت کے نشانات مٹ چکے تھے۔ اور دین کے راستے بے نشان ہوچکے تھے۔انہوں نے حق کا واشگاف انداز سے اظہار کیا۔ لوگوں کو ہدایت دی اورسیدھے راستہ پر لگا کر میانہ روی کا قانون بتا دیا۔

اسی طرح مولائے کائنات معروف خطبہ قاصعہ میں پیغمبر اکرم (ص) اس معجزے کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو مورخین نے بھی نقل کیا ہے۔
ایک مورخ لکھتے ہیں کہ مجھے اس معجزے کے وقوع میں ذرہ برابر بھی شک نہیں ہے اس لیے کہ امیر المومنین نے یہ معجزہ اپنے خطبے میں اس وقت بیان کیا جب رسول اکرم کے زمانے کے لوگ ابھی زندہ تھے اور آپ کے مخاطب تھے اور سب جانتے تھے کہ یہ معجزہ رونما ہوا ہے تبھی مولائے کائنات ان لوگوں کو اس معجزے کی یاد دہانی کروا کر انہیں کفار و مشرکین کی مثال دے رہے تھے۔
آپ خطبہ قاصعہ میں فرماتے ہیں: «لَقَدْ كُنْتُ مَعَهُ لَمَّا أَتَاهُ الْمَلَأُ مِنْ قُرَيْشٍ. فَقَالُوا لَهُ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ قَدِ ادَّعَيْتَ‏ عَظِيماً لَمْ يَدَّعِهِ آبَاؤُكَ وَ لَا أَحَدٌ مِنْ بَيْتِكَ وَ نَحْنُ نَسْأَلُكَ أَمْراً إِنْ أَنْتَ أَجَبْتَنَا إِلَيْهِ وَ أَرَيْتَنَاهُ عَلِمْنَا أَنَّكَ نَبِيٌّ وَ رَسُولٌ وَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ عَلِمْنَا أَنَّكَ سَاحِرٌ كَذَّابٌ»
«فَقَالَ: وَ مَا تَسْأَلُونَ؟ قَالُوا: تَدْعُو لَنَا هَذِهِ الشَّجَرَةَ حَتَّى تَنْقَلِعَ بِعُرُوقِهَا وَ تَقِفَ بَيْنَ يَدَيْكَ فَقَالَ: إِنَّ اللهَ عَلى‏ كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَدِيرٌ. فَإِنْ فَعَلَ اللهُ لَكُمْ ذَلِكَ أَ تُؤْمِنُونَ وَ تَشْهَدُونَ بِالْحَقِّ؟ قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: فَإِنِّي سَأُرِيكُمْ مَا تَطْلُبُونَ وَ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكُمْ لَا تَفِيئُونَ إِلَى خَيْرٍ وَ إِنَّ فِيكُمْ مَنْ يُطْرَحُ فِي الْقَلِيبِ وَ مَنْ يُحَزِّبُ الْأَحْزَابَ. ثُمَّ قَالَ: يَا أَيَّتُهَا الشَّجَرَةُ إِنْ كُنْتِ تُؤْمِنِينَ بِاللهِ وَ الْيَوْمِ الْآخِرِ وَ تَعْلَمِينَ أَنِّي رَسُولُ الله فَانْقَلِعِي بِعُرُوقِكِ حَتَّى تَقِفِي بَيْنَ يَدَيَّ بِإِذْنِ اللهِ»
«فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ لَانْقَلَعَتْ‏ بِعُرُوقِهَا وَ جَاءَتْ وَ لَهَا دَوِيٌّ شَدِيدٌ وَ قَصْفٌ كَقَصْفِ أَجْنِحَةِ الطَّيْرِ حَتَّى وَقَفَتْ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ مُرَفْرِفَةً وَ أَلْقَتْ بِغُصْنِهَا الْأَعْلَى عَلَى رَسُولِ اللهِ وَ بِبَعْضِ أَغْصَانِهَا عَلَى مَنْكِبِي وَ كُنْتُ عَنْ يَمِينِهِ. فَلَمَّا نَظَرَ الْقَوْمُ إِلَى ذَلِكَ قَالُوا: عُلُوّاً وَ اسْتِكْبَاراً فَمُرْهَا فَلْيَأْتِكَ نِصْفُهَا وَ يَبْقَى نِصْفُهَا.
فَأَمَرَهَا بِذَلِكَ. فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ نِصْفُهَا كَأَعْجَبِ إِقْبَالٍ وَ أَشَدِّهِ دَوِيّاً فَكَادَتْ تَلْتَفُّ بِرَسُولِ اللهِ. فَقَالُوا: كُفْراً وَ عُتُوّاً. فَمُرْ هَذَا النِّصْفَ فَلْيَرْجِعْ إِلَى نِصْفِهِ كَمَا كَانَ. فَأَمَرَهُ فَرَجَعَ»
«فَقُلْتُ: أَنَا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ إِنِّي أَوَّلُ مُؤْمِنٍ بِكَ يَا رَسُولَ اللهِ وَ أَوَّلُ مَنْ أَقَرَّ بِأَنَّ الشَّجَرَةَ فَعَلَتْ مَا فَعَلَتْ بِأَمْرِ اللهِ تَعَالَى تَصْدِيقاً بِنُبُوَّتِكَ وَ إِجْلَالًا لِكَلِمَتِكَ» ۔۔۔
"میں اس وقت بھی حضرت کے ساتھ تھا جب قریش کے سرداروں نے آکر کہا تھا کہ محمد (ص) ! تم نے بہت بڑی بات کا دعویٰ کیا ہے جو تمہارے گھر والوں میں کسی نے نہیں کیا تھا۔اب ہم تم سے ایک بات کا سوال کر رہے ہیں۔اگر تم نے صحیح جواب دے دیا اور ہمیں ہمارے مدعا کو دکھلا دیا تو ہم سمجھ لیں گے کہ تم نبی خدا اور رسول خدا ہو ورنہ اگر ایسا نہ کر سکے تو ہمیں یقین ہو جائے گا کہ تم جادو گر اور جھوٹے ہو۔تو آپ نے فرمایا تھا۔کہ تمہارا سوال کیا ہے ؟ ان لوگوں نے کہا کہ آپ اس درخت کو دعوت دیں کہ وہ جڑ سے اکھڑ کر آجائے اور آپ کے سامنے کھڑا ہو جائے ؟ آپ نے فرمایا کہ پروردگار ہر شے پر قادر ہے۔ اگر اس نے ایسا کردیا تو کیا تم لوگ ایمان لے آئو گے؟ اور حق کی گواہی دے دو گے! ان لوگوں نے کہا ۔ بیشک آپ نے فرمایا کہ میں عنقریب یہ منظر دکھلا دوں گا لیکن مجھے معلوم ہے کہ تم کبھی خیر کی طرف پلٹ کر آنے والے نہیں ہو۔ تم میں وہ شخص بھی موجود ہے جو کنویں میں پھینکا جائے گا اور وہ بھی ہے جو احزاب قائم کرے گا۔ یہ کہہ کر آپ نے درخت کو آواز دی کہ اگر تیرا ایمان اللہ اور روز آخرت پر ہے اور تجھے یقین ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو جڑ سے اکھڑ کر میرے سامنے آجا اور اذن خدا سے کھڑا ہو جا۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے انہیں حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے کہ درخت جڑ سے اکھڑ گیا اور اس عالم میں حضور کے سامنے آگیا کہ اس میں سخت کھڑ کھڑاہٹ تھی اور پرندوں کے پروں کی آوازوں جیسی پھڑپھڑاہٹ بھی تھی۔ اس نے ایک شاخ سرکار کے سر پر سایہ فگن کردی اور ایک میرے کاندھے پر۔جب کہ میں آپ کے داہنے پہلو میں تھا۔

ان لوگوں نے جیسے ہی یہ منظردیکھا نہایت درجہ سر کشی اور غرور کے ساتھ کہنے لگے کہ اچھا اب حکم دیجئے کہ آدھا حصہ آپ کے پاس آجائے اورآدھا رک جائے۔آپ نے یہ بھی کردیا اورآدھا حصہ نہایت درجہ حیرت کے ساتھ اور سخت ترین کھڑکھڑاہٹ کے ساتھ آگیا اور آپ کا حصار کرلیا۔ ان لوگوں نے پھر بر بنائے کفر و سر کشی یہ مطالبہ کیا کہ اچھا اب اس سے کہیے کہ واپس جا کر دوسرے نصف حصہ سے مل جائے۔آپ نے یہ بھی کرکے دکھلا دیا تو میں نے آواز دی کہ میں توحید الٰہی کا پہلا اقرار کرنے والا اور اس حقیقت کا پہلا اعتراف کرنے والا ہوں کہ درخت نے امر الٰہی سے آپ کی نبوت کی تصدیق اور آپ کے کلام کی بلندی کے لیے آپ کے حکم کی مکمل اطاعت کردی۔
لیکن ساری قوم نے آپ کو جھوٹا اور جادوگر قرار دے دیا کہ ان کا جادو عجیب بھی ہے اورباریک بھی ہے اورایسی باتوں کی تصدیق ایسے ہی افراد کرسکتے ہیں ہم لوگ نہیں کر سکتے ہیں۔ لیکن میں بہر حال اس قوم میں شمار ہوتا ہوں جنہیں خدا کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں ہوتی ہے۔جن کی نشانیاں صدیقین جیسی ہیں اور جنکا کلام نیک کردار افراد جیسا۔ یہ راتوں کو آباد رکھنے والے اور دونوں کے منارے ہیں۔ قرآن کی رسی سے متمسک ہیں اور خدا اور رسول کی سنت کو زندہ رکھنے والے ہیں۔ان کے یہاں نہ غرور ہے اور نہ سر کشی ' نہ خیانت ہے اور نہ فساد۔ان کے دل جنت میں لگے ہوئے ہیں اور ان کے جسم عمل میں مصروف ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*