پہلی یورپی پارلیمان جس نے صہیونی ریاست کو نسل پرست (Apartheid) قرار دیا

پہلی یورپی پارلیمان جس نے صہیونی ریاست کو نسل پرست (Apartheid) قرار دیا

ایک یورپی قانون ساز ادارے نے ایک قرارداد منظور کرکے مقبوضہ فلسطین میں صہیونی ریاست کے اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور نسل پرستی (Apartheid) کا عملی نمونہ قرار دیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ادھر اسرائیل کے خلاف “مقاطعہ، عدم سرمایہ کاری اور پابندیوں” (Boycott, Divestment and Sanctions [BDS]) کی تحریک (بائیکاٹ تحریک) – جو صہیونی ریاست کو تنہا کرنے کی بین الاقوامی تحریک ہے – نے اپنے ایک بیان میں اس قرارداد کی منظوری پر کاتالونیا کی پارلیمان کی حمایت کرتے ہوئے مذکورہ پارلیمان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
بائیکاٹ تحریک نے اپنے بیان میں کہا ہے: “اس قرارداد کے بدولت کاتالونیا کی پارلیمان پہلی یورپی پارلیمان کی حیثیت سے جانی جائے گی جس نے تسلیم کیا ہے کہ فلسطین کی مقبوضہ سرزمین کے مقابلے میں اسرائیلی نظام بین الاقوامی قوانین کے خلاف اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کے منشور کے آرٹیکل 7/2 کے مطابق نسل پرستی اور اپارتھائیڈ کے جرم کا عینی مصداق ہے”۔
بائیکاٹ اسرائیل تحریک نے توقع ظاہر کی ہے کہ کاتالونیا کی پارلیمان کا یہ دلیرانہ فیصلہ ہسپانیہ کی دوسری علاقائی پارلیمانوں کے لئے نمونہ عمل بنے اور وہ بھی اسی راستے پر گامزن ہو جائیں۔
کاتالونیا کی پارلیمان کی قرارداد میں کاتالونیا اور ہسپانیہ کی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ تمام سفارتی اور سیاسی وسائل کو بروئے کار لا کر اسرائیلی حکام کو ایمنسٹی انٹرنیشل اور ہیومین رائٹس واچ کی سفارشات پر عملدرآمد پر آمادہ کریں۔
اس قرارداد میں اسرائیلی اداروں کے ساتھ دو طرفہ معاہدوں اور مفاہمت ناموں میں انسانی حقوق کے مسائل کو ترجیح دینے پر زور دیا گیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشل نے اس سال (مورخہ 20 اپریل 2022ع‍ کو) نے صہیونی ریاست کو اپارتھائڈ نظام قرار دے کر اعتراف کیا کہ اس ریاست کے ہاتھوں فلسطینیوں کا قتل عام اور ان پر صہیونیوں کا تشدد اور ان کے حقوق سلب کرنا، “انسانیت کے خلاف جرم” ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل 20 اپریل کو اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا: “اپارتھائڈ ریاست محض ماضی کا حصہ [اور جنوبی افریقہ کے سابق نظام حکومت تک محدود] نہیں ہے، بلکہ یہ ایسی تلخ حقیقت ہے جس کو اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں کئی ملین فلسطینیوں نے جھیل لیا ہے اور یہ آج بھی جاری ہے”۔
مذکورہ بین الاقوامی ادارے نے مزید بیان کیا ہے کہ وہ غیر قانونی قتلوں، خودسرانہ حراستوں، تشدد اور اجتماعی سزاؤں سے متعلق رپورٹوں کو دیکھ رہا ہے اور ان مسائل کی نگرانی کر رہا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشل نے اپنی رپورٹ کے آخر میں لکھا ہے: “اپارتھائڈ نظام ایک گروہ کی جانوں کو دوسرے گروہ سے زیادہ اہم سمجھتا ہے اور اسرائیل اپنی اپارتھائڈ ریاست کو فلسطینیوں کے قتل عام، ان کے حقوق سلب کرنے [اور چھین لینے] کے سہارے قائم رکھتا ہے اور انسانیت کے خلاف جرائم کے سہارے اسے تحفظ فراہم کرتا ہے؛ یہ انسانیت کے خلاف جرم ہے جس کو فوری طور پر ختم ہونا چاہئے”۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*