ٹرمپ: ڈیموکریٹ ایک ٹوٹتی ہوئی قوم کا بیانیہ بدلنا چاہتے ہیں

ٹرمپ: ڈیموکریٹ ایک ٹوٹتی ہوئی قوم کا بیانیہ بدلنا چاہتے ہیں

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ درمیانی مدت کے انتخابات قریب آ رہے ہیں اور اسی اثناء میں بدعنوان ڈیموکریٹ حالات کو مزید خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں بکہ امریکی عوام ایک حقیقی فضا میں جی رہی ہیں اور وطن پرستوں کو بدعنوان انتظامیہ کی جگہ بٹھانے کے لئے پر عزم ہیں، ایسے وطن پرستوں کو لانے چاہتے ہیں جو ہماری آزادیوں کے لئے جدوجہد کریں کے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سابق امریکی صدر نے سماعتی جلسوں کے اعلان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: ریاست ہائے متحدہ امریکہ حیرت زدگی سے دوچار ہے حالانکہ موجودہ تمام مسائل ڈیموکریٹ جماعت نے پیدا کئے ہیں۔
سابق امریکی صدر ٹرمپ نے کل (منگل 14 جون 2022ع‍) بارہ صفحات پر مشتمل ایک بیان جاری کرکے کیپیٹل ہل پر ہونے والے 6 جنوری 2021ع‍ کے حملے کا جائزہ لینے والی کمپٹی کے شواہد اور ثبوتوں کو مسترد کیا۔
ٹرمپ نے الزام لگایا کہ ڈیموکریٹس امریکہ کو کچھ درپیش بعض اہم اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے کوشاں ہیں اور وہ برسراقتدار ہونے کے باوجود لوگوں کے مسائل حل کرنے سے عاجز ہیں۔
"ہل" ویب گاہ کی رپورٹ ٹرمپ نے کہا ہے: 17 مہینے قبل چھ جنوری کے واقعے کے بعد سے اب تک ڈیموکریٹ مسائل حل کرنے سے عاجز ہیں وہ ایک شکست کھاتی ہوئی قوم کا بیانیہ تبدیل کرنا چاہتے ہیں اور انتہاپسند بائیں بازو کی حکمرانی سے جنم لینے والی موت اور تباہ کاریوں کی طرف اشارہ تک نہیں کرتے۔
سابق امریکی صدر نے کہا: "غلطی میں نہ پڑنا، وہ حکومت پر قابض ہیں، وہ اس تباہی کے باعث و بانی ہیں، انہیں امید ہے کہ اس طرح کے [سماعت کے] اجلاس ان کی شکست کا منظر بدل دین گے"۔
ہل ویب گاہ کے مطابق، ٹرمپ کی شائع کردہ 12 صفحاتی دستاویز سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ابھی تک 2020ع‍ کے صدارتی "انتخابات میں دھاندلی" کے جھوٹے دعوے سے دستبردار نہیں ہوئے ہیں، اور اپنے مستردہ شدہ دعؤوں میں سے کچھ کو ہنوز دہرا رہے ہیں کہ انتخابات کا نتیجہ ان سے چرا لیا گیا ہے اور ڈیموکریٹ جماعت کے حق میں دھاندلی ہوئی ہے۔
کیپٹل ہل پر ٹرمپ کے حامیوں کے حملے کا جائزہ لینے والی کمیٹی نے اب تک سماعت کے دو اجلاس منعقد کیے ہیں اور اب تک یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ٹرمپ کے معاونین نے انہیں مطلع کیا تھا کہ انتخابات میں دھاندلی نہیں ہوئی ہے لیکن انھوں نے وقوعہ کے دن تک اپنا دعویٰ جاری رکھا۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ درمیانی مدت کے انتخابات قریب آ رہے ہیں اور اسی اثناء میں بدعنوان ڈیموکریٹ حالات کو مزید خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں بکہ امریکی عوام ایک حقیقی فضا میں جی رہی ہیں اور وطن پرستوں کو بدعنوان انتظامیہ کی جگہ بٹھانے کے لئے پر عزم ہیں، ایسے وطن پرستوں کو لانے چاہتے ہیں جو ہماری آزادیوں کے لئے جدوجہد کریں کے۔
ان کا کہنا تھا: موجودہ [امریکی] انتظامیہ اقتدار کو قابو میں لانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں لیکن اقتدار ان کے چنگل سے پھسل رہا ہے۔ ہمارا ملک ایک عجیب حیرت اور سرگردانی اور مخمصے میں الجھا ہؤا ہے۔ امریکی پیٹرول کی ٹینکی بھرنا چاہتے ہیں، اپنے بچوں کا پیٹ بھر دیں، اپنے بچوں کی تعلیم کا انتظام کریں، ملازمین کی بھرتی ہو، کھانے پینے کی اشیاء کی سفارش دیں، ہماری سرحدوں کی حفاظت کریں، اور بے شمار المیوں کا ازالہ کریں جنہیں ڈیموکریٹوں نے پیدا کیا ہے اور انتخابات میں دھاندلی کرکے اقتدار کو پہنچے ہیں۔ ہمارے عوام غضبناک بھی ہیں اور غمگین بھی۔
اس سے قبل نیویارک ٹائمز نے ٹرمپ کو "ناتراشیدہ ہیولا" کا لقب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اب بھی اپنے ناشائستہ اقدامات اور جھوٹے دعؤوں سے دستبردار ہونے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
گذشتہ روز جمعہ 6 جنوری کے واقعے کا جائزہ لینے کی منتخب کمیٹی نے ایک طویل اور متنازعہ جلسۂ سماعت میں اپنی تحقیقات کو پہلی بار شائع کیا اور اس جلسے میں ٹرمپ کے داماد اور مشیر جرڈ کوشنر سمیت ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں کے ریکارڈ شدہ بیانات کو بھی نشر کیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*