?>

ویڈیوکلیپ/ داعش کو شکست دے کر شہید قاسم سلیمانی اور ابومہدی المہندس جشن مناتے ہوئے

عالمی سامراج بالخصوص امریکی، صیہونی اور تکفیری دہشتگردی کے خلاف محاذ آرائی کا آئندہ جب کبھی ذکر ہوگا، تو قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس ضرور یاد آئیں گے۔


اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بظاہر الگ الگ سرزمینوں سے تعلق رکھنے والے دو مجاہد اسلام مگر ایک روح کے حامل دو ٹکروں میں بٹے ایک پیکر معلوم ہوتے تھے۔ سردارانِ لشکرِ اسلام شہید قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس نے نہ صرف عالم اسلام بلکہ پوری دنیا وہ خدمت کی جس کو تاریخ کبھی بھلا نہیں پائے گی۔

سامراج کا پروردہ خونخوار تکفیری عفریت داعش کہ جسکی حیوانت و بہیمیت کے قصے، سننے والوں کے بدن پر لرزہ طاری کر دیتے تھے، اس کے سر کو قاسم و ابو مہدی نے ایسے کچلا کہ پھر کبھی وہ دوبارہ باضابطہ طور پر کہیں بھی اپنا سر نہ اٹھا سکا۔

ایران کی سپاہ قدس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی خطے بالخصوص عراق، شام، لبنان، فلسطین اور یمن میں سرگرم عمل امریکی سامراج مخالف محاذ کے اہم ترین کمانڈر تھے جو علاقے کو امریکی و صیہونی سازشوں سے محفوظ بنائے رکھا۔ اسی مہم کے تحت شہید قاسم نے عراق میں اُس وقت اپنا نمایاں کردار پیش کیا جب تکفیری جرثومے داعش نے وہاں اپنا سر اٹھانا چاہا اور وقت کی حساسیت و نزاکت کو سمجھتے ہوئے عراق کے مرجع عالیقدر آیت اللہ العظمیٰ سیستانی نے فرمان جاری کر کے رضاکار فورس الحشد الشعبی کو وجود بخشا۔ اس مہم میں مذکورہ فورس کے ڈپٹی کمانڈر شہید ابو مہدی المہندس جنرل قاسم کے شانہ بشانہ رہے اور داعش کے خلاف بر سر پیکار بہت سے محاذوں پر ایک ساتھ حاضر رہتے۔

دنیا کو اگر آج داعش کے وجود سے راحت ملی ہے اور وہ اس خونخوار ٹولے کے شر سے خود کو کسی حد تک محفوظ سمجھتی ہے، تو یہ گرانقدر تحفہ شہید جنرل قاسم سلیمانی اور شہید ابو مہدی المہندس جیسے انکے عزیز ساتھوں کی دین ہے جنہوں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دنیا بالخصوص عالم اسلام کے لئے ناسور بن چکے سرطانی پھوڑے داعش کا قلع قمع کیا۔

قاسم و ابو مہدی نے ایک اور اہم حقیقت کو دنیا والوں پر واضح کیا کہ دشمن کی تمام تر سازشوں اور مسموم ہتھکنڈوں کے باوجود علاقائی ممالک کی اقوام اور بالخصوص ایران و عراق کے درمیان ’فراق‘ ممکن نہیں۔

ان دونوں شخصیتوں کی ذاتی خصوصیات پر بھی اگر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اخلاق و کردار کے لحاظ سے دونوں میں خوب اشتراکات پائے جاتے تھے۔ خوش اخلاقی، مہربانی، پاکیزگی نفس، خلوص، سادگی، خاکساری، بلا تفریق مذہب و ملت سب کی بے لوث خدمت کرنے کا جذبہ، اپنی راہ اور مقصد پر مکمل ایمان، آہنی عزم و حوصلہ، اپنے رہبر کی مکمل اطاعت، شوق شہادت اور سب سے بڑھ کر اپنے معبود کے ساتھ ساتھ خاندان نبوت و عصمت سے گہرا تعلق خاطر، یہ وہ عناصر تھے جنہوں نے مل کر ان شخصیتوں کو دنیا کے کروڑوں حریت پسندوں کے دلوں میں زندۂ جاوید بنا دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

مغربی ممالک میں پیغمبر اکرم (ص) کی توہین کی مذمّت
ویژه‌نامه ارتحال آیت‌الله تسخیری
پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی