وہ آدمی بڑے عزم و یقین والا تھا

وہ آدمی بڑے عزم و یقین والا تھا

18 شعبان کی تاریخ ہم کیسے بھول سکتے ہیں جب ہم سے وہ محسن ملت بچھڑ گیا جس نے لادینیت کی چلتی سیاہ آندھیوں کے درمیان تحریک دینداری کا لازوال چراغ روشن کیا پیش نظر تحریر اسی عظیم شخصیت کی خدمت میں ایک خراج عقیدت ہے جسے آپ کے ساتھ ایک بار پھر شئیر کر رہا ہوں ۔ تمام احباب و قارئین سے خطیب اعظم طاب ثراہ کے لئے ایک سورہ فاتحہ کی گزارش ہے ۔

بقلم سید نجیب الحسن زیدی

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریالیزم اور رجعت پسندی کی قینچی سے ہمیشہ ہی شاہین حقیقت کے پروں کو کترا جاتا رہا ہے، یہ اور بات ہے کہ شاہین کی اڑان پروں کے کترے جانے کے باوجود اتنی بلند ہوتی ہے کہ سامراجی کرگسوں کی رسائی اس تک ممکن نہیں ہو پاتی ۔

آپ تاریخ اٹھا کر دیکھیں امریالیزم و رجعت پسند عناصر ہمیشہ "حریت فکر" کے خلاف محاذ آرا نظر آئیں گے انکے ساتھ کچھ ایسے مفاد پرست لوگ بھی ہونگے جنکی دال روٹی کبھی پس پردہ کبھی بے پردہ اسی پر موقوف ہے کہ وہ ہرقدر کا سودا کریں ،ہر تحریک کا گلا گھونٹنے کے در پے رہیں ہر طرح کی بیداری کو اپنے لئے موت کا پیغام سمجھیں ۔
یہ مفاد پرست افراد ہمیشہ رجعت پسندانہ نظریات رکھنے والے افراد کے ساتھ امپریالیزم کے دیو کی آنکھوں کا تارا رہے ہیں انکے ساتھ ایک اور طبقہ کھڑا نظر آتا ہے جو مصلحت پسندوں کا ہے مصلحت پسندوں نے امپریالیزم و رجعت پسندی کے ساتھ ابن الوقتوں کو ہمیشہ تحفظ فراہم کیا ہے۔
اور انہیں کے تحفظ کی بنا پر دین میں بدعتوں کا رواج عام ہوا اور دین ہی کے نام پر دین کا چہرہ بگاڑا جاتا رہا جبکہ دین میں غیر دینی باتوں کی شمولیت کا فائدہ کہیں نہ کہیں انہیں رجعت پسندوں اور امپریالزم کے نمائندوں مفاد، پرستوں اور ابن الوقتوں کو ملتا رہا جو دین کے نام پر لوگوں کو بے وقوف بنا کر اپنا الو سیدھا کرتے رہے جبکہ مصلحت پسند افراد انہیں تحفظ فراہم کرتے گئے ۔رجعت پسندی ہو یا امریالیزم کے چرنوں میں عقیدت کے پھول نچھاور کرنے والے صنادید و اصنام اور دینی غلاف میں لپٹے ہوئی الحادی رسومات کے بت ان پر سب سے کاری ضرب برصغیر میں تحریک دینداری کی صورت میں لگی جو ایک انقلابی لہر کی صورت ذہن و دل و دماغ کوجھنجھوڑتے ہوئے آگے بڑھتی گئی اور اس منزل پر پہونچی کہ بڑے بڑے بتوں کی ٹوٹنے کی آوازیں قوم نے اپنے کانوں سے سنیں۔
یہ انقلاب کوئی کم نہ تھا " بچے عمل میں باپ سے آگے نکل گئے ''
بچے عمل میں باپ سے آگے نکل گئے اب ایک نعرہ نہیں ایسی حقیقت ہے جسے ہر صاحب وجدان اپنے علاقے ، محلے اور گاوں دیہتات سے لیکر شہروں تک میں محسوس کر سکتا ہے ۔حال ہی میں تنظیم المکاتب کی جانب سے ہونے والی دینی تعلیمی کانفرنس میں جس طرح ایک بچی نے حفظ قرآن کا مظاہرہ کیا اسے دیکھ کر ہر صاحب احساس کی آنکھیں چھلک اٹھیں اور سر فخر سے بلند ہو گیا کہ خطیب اعظم رح جاتے جاتے ہمیں اس دینداری کی ڈگر پر موڑ گئے جہاں صرف کنیزان زہرا ہونے کے دعوے نہیں کئے جاتے بلکہ عملی طور پر بھی خطیب اعظم طاب ثراہ کی بتائی ڈگر پر چلتے ہوئے ہمارے بچے اسی اسلوب کو اختیار کر رہے ہیں جو کسی زمانے میں جناب فضہ کا ہوا کرتا تھا ، انکی زندگی میں قرآن ہے انکی گفتگو میں قرآن ہے ۔جو لوگ کہتے ہیں کہ تحریک دیندای میں اب کیا ہے جو کچھ تھا وہ پہلے تھانہ اب پہلے جیسے لوگ رہے نہ پہلے جیسا جذبہ وہ بھول جاتے ہیں عصر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کیا عصر پیغمبر ص جیسے لوگ اب ہیں یا ویسا جذبہ کیا کسی کے اندر پایا جاتا ہے جو حیدر کرار کا تھا جو بوذر و سلماں کا تھا ۔ جذبوں کی پرکھ کا ہمارے پاس یوں تو کوئی پیمانہ نہیں لیکن اتنا یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ آج بھی نقش سلمان و بوذر کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بنانے والی شخصیتیں موجود ہیں کہیں رہبر انقلاب حفظہ اللہ کی صورت کہیں آیت اللہ سیستانی حفظہ اللہ و سید حسن نصر اللہ دامت برکاتہ کی صورت اور کچھ ان گمنام سپاہیوں کی صورت جو عصر حضور سے عصر غیبت تک باطل کے سامنے ویسے ہی ڈٹے ہیں جیسے انکا نبی انکے اعمال کو دیکھ رہا ہو ۔
حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ۲۳ سالہ تبلیغی زندگی میں اگر وہ رنگ پیدا ہو سکتا ہے کہ چودہ سو سال میں اٹھنے والے ہزاروں طوفان اسے پھینکا نہ کر سکیں تو شک نہیں انہیں کی تبلیغی کاوشوں کو لوگوں تک پہنچانے والے خطیب اعظم رح کے خلوص کا رنگ بھی اتنا ہلکا نہیں جو چند آندھیوں کے آنے یا چند ستونوں کے منہدم ہونے سے پھیکا پڑ جائے یہی وجہ ہے کہ تحریک دینداری نے جس طرح کل رجعت پسندی اور امپریالیزم ، خاندانی انا یا بقول علامہ غلام عسکری طاب ثراہ '' شاہی '' کو رسوا کیا اسی طرح آج بھی اس تحریک میں وہ دم خم ہے کہ موجودہ دور کے فکری اور نام نہاد قومی بتوں کو تیشہ توحیدی سے مسمار کر سکتی ہے لیکن اسکے لئے ابراہیمی نظر کی ضرورت ہے جسکا پیدا کرنا مشکل ضرور لیکن ہوائے نفس پر لگام ہو تو کسی حد تک ناممکن بھی نہیں ۔
ابراہیمی نظر پیدا بڑی مشکل سے ہوتی ہے--ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں ۔
اللہ!... کیسی ابراہیمی نظر تھی اس صدی کی عظیم ترین شخصیت کی جو نہ صرف سماج میں بنتے ہوئے خود ساختہ بتوں کو توڑ رہا تھا بلکہ ایسے بت شکنوں کی تربیت کی فکر بھی اسے تھی جو ہمیشہ ابراہیمی عزم و حوصلہ کے ساتھ ''توحید '' کو بچانے کے لئے ہر نمرود کے سامنے کھڑے ہو کر فتح حق کے ضامن بن جائیں گے ۔
یہی وجہ ہے کہ آج بھی استعمار کو مدارس سے خطرہ محسوس ہو رہا ہے اور مدارس کو لیکر انکی ریشہ دوانیاں اب بھی جاری ہیں مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے افاضل و طلاب چاہے جس خطہ ، رنگ یا نسل کے کیوں نہ ہوں آج اسی لئے استعمار اور استکبار کے نشانے پر ہیں کہ انہیں صرف تعلیم نہیں دی جاتی ہے بلکہ تعلیم کے ساتھ ساتھ انہیں بتوں کو توڑنے کا ہنر بھی سکھایا جاتا ہے جو کہ خود اسی تعلیم کا ایک جز ہے ۔
تاریخ گواہ ہے جب بھی کوئی بت شکن عزم و ہمت کے ساتھ سامنے آیا ہے بتوں کی پناہ میں خود کو منوانے والوں نے اسے آگ میں پھینکنے کی کوشش کی ہے یہ اور بات ہے کہ خدا کی سنت یہ ہے کہ اگر تم اسکی راہ میں بتوں کو توڑو گے تو ہزاروں ٹن جلتی ہوئی لکڑیوں کی آگ کو بھی وہ گلزار بنا دیگا ۔
شعلہ نمرود ہے روشن زمانہ میں تو کیا-شمع خود را می گزارد درمیان انجمن
شاید یہی وجہ تھی کہ فرسودہ رسموں کے بتوں کو توڑنے کے لئے جب یہ فرزندِابراہیم آگے بڑھا تو ہر طرف سے ایسے طعن و تشنع کا بازار گرم ہو گیا جو دہکتی آگ سے کم نہیں تھا لیکن ایمانِ پروردگار نے اسے گلزار بنا دیا اور الزام تراشیوں ، تہمتوں ، اور بھبتیوں کے بازار سے خطیب اعظم مسکراتے ہوئے گزر گئے نہ صرف انکے عزم و ہمت میں کوئی کمی نہ آئی بلکہ عزم مصمم تر ہوتا گیا اور ہرآگے بڑھنے والا قدم پہلے سے مظبوطی کے ساتھ آگے بڑھا؛
شکست کھا نہ سکا وقت کے خدائوں سے-وہ آدمی بڑے عزم و یقین والا تھا
اپنے آہنی عزم و ارادہ کے بل پر ہی خطیب اعظم نے اشاعت علوم آل محمد کا بیڑہ اپنے سر اٹھایا خدا پر بھروسہ کیا اور کام شروع کر دیا جس کا کام تھا اس نے مدد کی نتیجہ یہ ہے کہ آج پہلے سے زیادہ دینی بیداری پائی جاتی ہے دوست تو دوست انکے دشمن بھی اس کام کی افادیت کے منکر نہ ہو سکے-
خطیب اعظم کی اس سے بڑی کامیابی کیا ہوگی کہ جو تحریک انہوں نے چھیڑی تھی آج ہر بیدار ضمیر اس کا حصہ بنا ہوا ہے
دینی تعلیم کی بنیاد پر مردہ ضمیر
بیدار ہو رہے ہیں اور آج نہ صرف مدارس میں رونق ہے بلکہ انکی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے مذہبی لٹریجر کا استقبال بھی پہلے سے زیادہ ہو رہا ہے وہ خدمات جو کل خطیب اعظم یا انکے رفقاء کار کر رہے تھے آج ہرذی شعور انہیں انجام دیتا نظر آ رہا ہے۔
قوم و ملت کی خدمت آج ہر دینی شعور رکھنے والے انسان کا مشغلہ ہے تحریک دیندادی سے پہلے اور بعد کے مدارس کی صورت حال اس بات کی دلیل ہے کہ تحریک لوگوں کے دلوں میں گھر کئے ہوئے ہے جن مدارس کی تعداد تحریک دینداری سے قبل انگلیوں پر گنی جا سکتی تھی آج ماشاء اللہ انکی تعداد سیکڑوں پر تجاوز کر چکی ہے اسکا مطلب یہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ تحریک زندہ ہے بلکہ تحریک پوری قوم کو زندہ رکھے ہوئے ہے آپ کوئی مشن ،کوئی نیک کام ، کوئی سماجی اور قومی تحریک یا ادارہ نہیں دکھا سکتے جہاں خطیب اعظم طاب ثراہ کی تحریک سے جڑے افراد با واسطہ یا بلاواسطہ طور پر موجود نہ ہوں یہ تحریک کے زندہ ہونے کی دلیل نہیں تو کیا ہے؟۔۔ ،اگرحالات و شرائط کے پیش نظر الگ الگ جگہوں پر شمعیں روشن ہو جائیں اور ہر شمع اپنا کام کر رہی ہو تب بھی اس اصلی چراغ کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے جسکی لو سے شمع جل کر اپنے اطراف میں اجالا کر رہی ہے ۔
خطیب اعظم کی یاد کو تازہ کرنا انکے افکار پر نظر ڈالنا محض ایک خراج تحسین نہیں ہے بلکہ ہمارے لئے ایک لمحہ فکریہ بھی ہے کہ ہم اس مرد مجاہد کے افکار کی روشنی میں یہ جانیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ؟ اور ہمیں کہاں ہونا چاہیے ؟
آج بھی ہم اپنے اس محسن و معلم کی طرف دیکھیں گے تو تمام تر مشکلات کے بعد اسکی یہی آواز آئے گی چھوڑو مشکلات کو مشکلات تو ہوتی ہی اس لئے ہیں کہ تمہارے جوہر وجودی کو نکھارا جا سکے
آج بھی انا و خود محوری کے نقارخانوں کی آوازوں کو دباتی ہوئی للہیت میں ڈوبی ایک درد بھری آواز ضرور سنائی دے گی جو ہمیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دے رہی ہے ۔
اٹھ کہ خورشید کا سامان سفر تازہ کریں- نفس سوختہ شام و سحر تازہ کریں-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*