ولایت فقیہ کی پیروی؛ بے چینوں کی چھاؤنی میں ظہور کی مشق

ولایت فقیہ کی پیروی؛ بے چینوں کی چھاؤنی میں ظہور کی مشق

ہم نے اسلامی انقلاب کے نشیب و فراز میں دیکھا، بہت سے بَرومند جوانوں کو اور حیرت زدہ ہوئے کہ وہ کس طرح اپنے زمانے کے امام زمانہ (عَجَّلَ اللہُ تَعَالیٰ فَرَجَہُ الشَّرِیفَ) کے نائب کی اطاعت اور ان کے لئے جانفشانی کر رہے ہیں!

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ہم نے اسلامی انقلاب کے نشیب و فراز میں دیکھا، بہت سے بَرومند جوانوں کو اور حیرت زدہ ہوئے کہ وہ کس طرح اپنے زمانے کے امام زمانہ (عَجَّلَ اللہُ تَعَالیٰ فَرَجَہُ الشَّرِیفَ) کے نائب کی اطاعت اور ان کے لئے جانفشانی کر رہے ہیں! خدا ہی جانتا ہے کہ جو نوجوان امام (عَجَّلَ اللہُ تَعَالیٰ فَرَجَہُ الشَّرِیفَ) کے نائب کے لئے اتنے بے چین و بے قرار ہوجاتے ہیں، وہ ہمارے مولا (عَجَّلَ اللہُ تَعَالیٰ فَرَجَہُ الشَّرِیفَ) کے لئے کیا جانفشانیاں کریں گے۔
پرکھے ہوئے دلوں کی ضرورت
دیانت کی حقیقت اور ولایت کی راہ میں استقامت، بہت دشوار ہے۔ امیرالمؤمنین علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں:
"إِنَّ أَمْرَنَا صَعْبٌ مُسْتَصْعَبٌ لَا يَحْمِلُهُ إِلَّا عَبْدٌ مُؤْمِنٌ امْتَحَنَ اللَّهُ قَلْبَهُ لِلْإِيمَانِ وَلَا يَعِي حَدِيثَنَا إِلَّا صُدُورٌ أَمِينَةٌ وَأَحْلَامٌ رَزِينَةٌ؛ (1)
یقینا ہمارا معاملہ ایک مشکل اور [لوگوں کے لئے بہت ہی دشوار] امر ہے؛ جس کا متحمل صرف وہی مؤمن ہوگا کہ جس کے دل کو اللہ نے ایمان کے لئے پرکھ لیا ہو اور ہمارے قول و حدیث کو صرف امانت دار سینے اور مستحکم عقلیں ہی سیکھ سکتی ہیں [محفوظ رکھ سکتی ہیں]"۔
دلوں کا اتحاد چاہئے
امیرالمؤمنین (علیہ السلام) ، اپنے بے وفا فوجیوں سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں:
"إِنَّهُ لَا غَنَاءَ فِي كَثْرَةِ عَدَدِكُمْ مَعَ قِلَّةِ اجْتِمَاعِ قُلُوبِكُمْ؛ (2)
جب تک تمہارے قلوب [و افکار] بھکرے ہوئے ہونگے، تمہاری تعداد کی کثرت بے نیازی کا سبب نہیں بن سکتی"۔
اگر اصل پیروکاروں کی تعداد 17 تک پہنچتی تو ۔۔۔
"سُدَیر بن حُکَیم صیرفی کہتے ہیں کہ میں امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہؤا اور عرض کیا کہ "خدا کی قسم! جائز نہیں ہے کہ آپ بیٹھے ہیں اور قیام نہیں کر رہے ہیں۔
امام نے فرمایا: کیوں؟
میں نے عرض کیا: اس لئے کہ آپ کے انصار و اعوان بہت زیادہ ہیں، خدا کی قسم! اگر امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کے اتنے اصحاب و انصار ہوتے تو یقینا بنی تیم اور بنی عدی آپ کی طرف آنے کی جرات نہ کرتے۔
فرمایا: تم کیا سمجھتے ہو کہ میرے انصار و اعوان کی تعداد کتنی ہے؟
عرض کیا: ایک لاکھ۔
فرمایا: ایک لاکھ؟
عرض کیا: بلکہ دو لاکھ؟
فرمایا: دو لاکھ؟
عرض کیا: جی ہاں، بلکہ اس سے بھی زیادہ، آدھی دنیا آپ کے ساتھ ہے۔
امام (علیہ السلام) خاموش ہوئے اور فرمایا: میرے ساتھ یَنبُع (کے علاقے) تک آ جاؤ۔
سدیر کہتے ہیں: امام مجھے ایک ایسے علاقے میں لے گئے جس کی مٹی سرخ رنگ کی تھی اور ایک نوجوان گڈریا وہاں کچھ بزغالے (3) چرانے کے لئے لایا تھا۔
امام صادق (علیہ السلام) نے گڈریے اور ریوڑ کی طرف دیکھا اور مجھ سے ارشاد کیا: اے سدیر! خدا کی قسم اگر میرے پاس اس ریوڑ جتنے [با وفا] اصحاب اور شیعہ ہوتے تو جائز نہ ہوتا کہ ظلم و جبر کی حکومت کے سامنے لمحہ بھر چین سے بیٹھتا اور اپنا حق لینے کے لئے قیام نہ کرتا۔
سدیر کہتے ہیں کہ بعدازاں ہم اپنی سواریوں سے اترے اور نماز ادا کی اور میں نے نماز کے بعد بزغالوں کو گِنا تو ان کی تعداد صرف 17 تھی"۔ (4)

شیعہ کہلوانے والو! کیا تنور میں اترنے کی ہمت ہے؟
خراسان کا ایک شخص سہل بن حسن سفر کی تمام تکالیف برداشت کرکے کئی مہینوں تک چل کر مدینہ میں امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہؤا اور کچھ اموال بطور خمس پیش کئے اور عرض کیا: "آپ قیام کیوں نہیں کرتے حالانکہ صرف خراسان میں ایک لاکھ افراد آپ کے رکاب میں لڑنے کے لئے تیار ہیں اور یہ ان ہی خمس و زکوۃ ہے"۔
امام (علیہ السلام) خاموش ہوئے اور پھر اپنے اصحاب کو ہدایت کی کہ لکڑیاں جمع کرکے تنور کو گرم کرو۔ تنور سے جب شعلے اٹھنے لگے تو آپ نے سہل بن حسن کو بھڑکتے تنور میں اترنے کا حکم دیا؛
سہل بہت زیادہ پریشان ہؤا اور عرض کیا: "اے میرے مولا! مجھ سے درگذر فرمایئے۔۔ امام نے عذر قبول کیا۔ اتنے میں آپ کے صحابی جناب "ہارون مکی" داخل ہوئے اور سلام کیا۔ امام (علیہ السلام) نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا:
اے ہارون! اس تنور میں کود جاؤ۔
آگ بھڑک رہی تھی مگر ہارون نے پروا کئے بغیر اطاعت کی اور فورا تنور میں کود گئے۔
امام نے سہل بن حسن سے فرمایا: تو اب خراسان کی خبریں سناؤ، ہمارے شیعہ کیا کرتے ہیں؟ یوں امام مختلف سوالات پوچھتے رہے اور سہل جواب دیتا رہا لیکن اس کی سوچ ہارون کے ساتھ تھی ۔۔۔ امام صادق (علیہ السلام) فرمایا: اٹھو اور تنور کو دیکھو۔۔۔ سہل نے اٹھ کر تنور کا ڈھکن اٹھایا تو کیا دیکھتا ہے کہ ہارون صحیح و سالم آگ کے وسط میں سکون کے ساتھ بیٹھے ذکر اللہ میں مصروف ہیں۔۔۔
امام (علیہ السلام) نے فرمایا: اے سہل! تم جو مجھے قیام کے لئے کہہ رہے ہو، بتاؤ کہ خراسان میں کتنے شیعہ اس انداز سے ہماری اطاعت کرتے ہیں؟
سہل نے سر جھکا کر عرض کیا: حتّیٰ ایک فرد بھی ایسا نہیں ہے۔۔۔"۔ (5)
وفائے عہد کشائش و آسائش کی شرط
امام عصر (عَجَّلَ اللہُ تَعَالیٰ فَرَجَہُ الشَّرِیفَ) نے اپنی توقیع شریف میں "ظہور کی تعجیل میں شیعیان اہل بیت(ع) کی یکجہتی کے کردار" کے بارے میں فرمایا:
"وَلَوْ انَّ أَشْيَاعَنَا وَفِّقْهُمْ اللَّهِ لِطَاعَتِهِ عَلَى اجْتِمَاعِ مِنَ الْقُلُوبِ فِي الْوَفَاءُ بِالْعَهْدِ عَلَيْهِمْ لِمَا تَأَخَّرَ عَنْهُمْ الْيَمَنِ بِلِقَائِنَا وَلَتَعَجَّلَتْ لَهُمْ السَّعَادَةِ بِمُشَاهَدَتِنَا عَلَى حَقِّ الْمَعْرِفَةِ وَصِدْقِهَا مِنْهُمْ بِنَا...؛ (6)
اگر ہمارے شیعہ - جنہیں اللہ تعالیٰ اپنی طاعت و بندگی کی توفیق عطا فرمائے - اپنے اس عہد کی تکمیل کے لئے آپس میں ہم دلی اور یکجہتی رکھتے، جو ان پر واجب ہے، تو ہمارا دیدار مؤخر نہ ہوتا اور یقینا ہماری ملاقات کی سعادت ان کی طرف کے حق معرفت و شناخت و صداقت کے ساتھ، جلد از جلد انہیں فراہم ہوتی"۔
چھانے جاؤگے تو تب ہی کشائش ہوگی
چھانے جانے کی خاصیت، آخرالزمان کے مہدوی انقلاب کی دائمی خاصیت ہے۔ آخرالزمان کا انقلاب بہت سارے نشیبوں اور فرازوں سے گذرے گا۔ محمد بن منصور نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
"رُوِيَ عَنْ جَابِرٍ اَلْجُعْفِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ عَلَيْهِ السَّلاَمُ مَتَى يَكُونُ فَرَجُكُمْ فَقَالَ هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ لاَ يَكُونُ فَرَجُنَا حَتَّى تُغَرْبَلُوا ثُمَّ تُغَرْبَلُوا ثُمَّ تُغَرْبَلُوا يَقُولُهَا ثَلاَثاً حَتَّى يُذْهِبَ [اَللَّهُ تَعَالَى] اَلْكَدِرَ وَيُبْقِيَ اَلصَّفْوَ؛ (7)
جابر جعفی کہتے ہیں: میں نے امام محمد باقر (علیہ السلام) سے عرض کیا: آپ کی کشائش و آسائش کب ہوگی؟ تو امام (علیہ السلام) نے فرمایا: بعید ہے بعید ہے، ہماری کشائش و آسائش حاصل نہیں ہوگی یہاں تک کہ تم چھانے جاؤ، پھر چھانے جاؤ اور پھر چھانے جاؤ ۔۔۔ امام (علیہ السلام) نے جملہ تین مرتبہ دہرایا؛ یہاں تک کہ اللہ تعالی تمہارا گدلاپن تم سے دور کردے اور تمہارے خلوص کو بحال کر دے"۔

"عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ اَلصَّيْقَلِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَاَلْحَارِثُ بْنُ اَلْمُغِيرَةِ وَجَمَاعَةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا جُلُوساً وَأَبُو عَبْدِ اَللَّهِ (عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ) يَسْمَعُ كَلاَمَنَا فَقَالَ لَنَا فِي أَيِّ شَيْءٍ أَنْتُمْ؟ هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ لاَ وَاَللَّهِ لاَ يَكُونُ مَا تَمُدُّونَ إِلَيْهِ أَعْيُنَكُمْ حَتَّى تُغَرْبَلُوا لاَ وَاَللَّهِ لاَ يَكُونُ مَا تَمُدُّونَ إِلَيْهِ أَعْيُنَكُمْ حَتَّى تُمَحَّصُوا لاَ وَاَللَّهِ لاَ يَكُونُ مَا تَمُدُّونَ إِلَيْهِ أَعْيُنَكُمْ حَتَّى تُمَيَّزُوا لاَ وَاَللَّهِ مَا يَكُونُ مَا تَمُدُّونَ إِلَيْهِ أَعْيُنَكُمْ إِلاَّ بَعْدَ إِيَاسٍ لاَ وَاَللَّهِ لاَ يَكُونُ مَا تَمُدُّونَ إِلَيْهِ أَعْيُنَكُمْ حَتَّى يَشْقَى مَنْ يَشْقَى وَيَسْعَدَ مَنْ يَسْعَدُ؛ (8)
محمد بن منصور الصیقل نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا: میں اور حارث بن مغیرہ اور ہمارے بزرگوں کی جماعت، بیٹھے تھے اور امام جعفر صادق (علیہ السلام) ہمارا کلام سن رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: تم کس چیز کی بات کر رہے ہو؟ بعید بعید ہے، نہیں اللہ کی قسم! وہ چیز آشکار نہیں ہوگی جس پر تم نظریں جمائے ہوئے ہو، حتّیٰ کہ تمہیں چھان لیا جائے؛ نہیں خدا کی قسم! جس پر تم نظریں جمائے ہوئے ہو وہ نہیں آئے گا حتّیٰ کہ تمہیں نقائص وعیوب سے پاک کیا جائے؛ نہیں اللہ کی قسم! تم وہ کچھ ہرگز نہیں ہوگا جس کا تم انتظار کر رہے ہو حتّیٰ کہ تمہیں چھانٹ کر ممتاز کیا جائے۔ نہیں خدا کی قسم! وہ کچھ رونما نہیں ہوگا مگر ناامیدی کے بعد؛ نہیں خدا کی قسم! وقوع پذیر نہیں ہوگا وہ جس کے منتظر ہو حتّیٰ کہ جسے شقی و بدبخت ہوجائے وہ جسے بدبخت ہونا ہے اور سعید و خوش بخت ہوجائے وہ جسے خوشبخت و سعادتمند ہونا"۔
عاشقان جہاد و شہادت، امام عصر (عج) کے منتظر
ہم نے اسلامی انقلاب کے نشیب و فراز میں دیکھا، بہت سے با اثر افراد کو جو عروج سے حضیض کی طرف لڑھک گئے اور بے شمار بَرومند جوانوں کو دیکھ کر حیرت زدہ ہوئے کہ وہ کس طرح اپنے زمانے کے امام زمانہ (عَجَّلَ اللہُ تَعَالیٰ فَرَجَہُ الشَّرِیفَ) کے نائب کی اطاعت اور ان کے لئے جانفشانی کر رہے ہیں! خدا ہی جانتا ہے کہ جو نوجوان امام (عَجَّلَ اللہُ تَعَالیٰ فَرَجَہُ الشَّرِیفَ) کے نائب کے لئے اتنے بے چین و بے قرار ہوجاتے ہیں، وہ ہمارے مولا (عَجَّلَ اللہُ تَعَالیٰ فَرَجَہُ الشَّرِیفَ) کے لئے کیا جانفشانیاں کریں گے!
ہم سب کا یقین وہی ہے جو سیدالشہدائے اہلِ قلم شہید سید مرتضیٰ آوینی نے جان سے بھی زیادہ عزیز رہبر و مقتدیٰ امام سید علی خامنہ ای (ادام اللہ ظلہ علیٰ رؤس المسلمین) کے نام اپنے خط میں تحریر کیا؛ شہید آوینی لکھتے ہیں:
"ہم نے حضرت عالی کے ساتھ امام خمینی (قَدَّسَ اللہُ نَفسَہُ الزَّکِیَّۃَ) کے وصی و جانشین کے طور پر اپنی بیعت کی تجدید کی ہے اور جان کی قربانی دینے تک آپ کے فرامین کی تعمیل کے لئے جم کر کھڑے ہیں؛ جس طرح کہ اس سے پہلے امام خمینی (قَدَّسَ اللہُ نَفسَہُ الزَّکِیَّۃَ) کے لئے بھی ایسے ہی تھے؛ اور بہت ہیں ابھی ایسے جوان جو عشقِ اسلام اور رضوانِ رب کے شوق کے بدولت میدانِ انقلاب میں جمے کھڑے ہیں؛ اپنے پہلے جیسے حوصلے اور جذبے کے ساتھ۔ خدا گواہ ہے کہ یہ الفاظ کمال اور سچائی اور ان نوجوانوں کے دلوں کی گہرائیوں سے جاری ہؤا ہے جنہوں نے ان آٹھ سالوں کے دوران جنگ کا بوجھ اپنے مضبوط کندھوں پر اٹھائے رکھا۔ ہم جہاد فی سبیل اللہ سے محبت کرتے ہیں اور یہ حقیقت ایک خشک اور بے روح فرض شناسی سے بہت بڑھ کر ہے۔ یہ ایک فرد کی بات نہیں ہے یہ [مؤمنوں کی] ایک عظیم جمعیت کے ہاتھ ہیں جو آپ کی طرف بڑھے ہوئے ہیں اور عشق و محبت کے ساتھ بیعت کرنا چاہتے ہیں۔ بہت ہیں ایسے لوگ جو جانتے ہیں کہ حق کی فتح کی خاطر آپ کے رکاب میں شمشیر زنی کا اجر اللہ کی بارگاہ میں عینا وہی ہے جو حضرت حجت (علیہ السلام) کی راہ میں جنگ کا ہے؛ اور وہ نہ صرف تیار ہیں بلکہ مشتاق ہیں کہ اپنی جان کی بازی لگا دیں۔
ہمارا سر اور آپ کا فرمان۔
آپ کا کم ترین اطاعت گذار
سید مرتضی آوینی
۔۔۔
عاشقان را سر شوریده به پیکر عجب است
دادن سر نه عجب داشتن سر عجب است
تن بی‌سر عجبی نیست رود گر بر خاک
سر سرباز ره عشق به پیکر عجب است (10)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عاشقوں کا بےچین سر جسم پر ہونا، عجیب ہے
سر دینا نہیں عجیب، سر رکھنا عجیب ہے
جسمِ بے سر کا زمین پر گرنا عجیب نہیں ہے
راہ عشق کے سپاہی کا سر جسم پر ہو، عجیب ہے


بےشک ولایت فقیہ کی پیروی عصر غیبت کا ایک عظیم مشن اور آخر الزمان کی مشق ہے، یہ مشن ہمارے تاریخی نعرے یعنی "إنّی سِلمٌ لِمَن سالَمَکُم وَ حربٌ لِمَن حارَبَکُم" کی تصدیق کرتا اور ظہور کے لئے تیاری کا عینی ثبوت ہے۔
تو جب تک جان میں جان ہے، جب تک کچھ کرنے کی صلاحیت و استعداد ہے، فرض پر عمل اور مستقبل کی حسرتوں سے نجات کی واحد راہ یہ ہے کہ اس مشن پر کاربند رہیں؛ اور اس مشن پر عمل درآمد کا ایک پہلو یہ ہے کہ ہم سب مل کر ولایت فقیہ کی فرمانبرداری کے ذریعے پیشہ ور منافقوں اور ریاکاروں کی منافقانہ تماشا کاریوں پر غلبہ پائیں اور مؤمنین کے جذبات سے کھیل کر لفافے لینے والوں کو سبکدوش کریں، کہ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو یہ ظہور امام زمانہ (عَجَّلَ اللہُ تَعَالیٰ فَرَجَہُ الشَّرِیفَ) کی سب سے بڑی خوشخبری ہوگی۔ ان شاء اللہ و من اللہ التوفیق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ نہج البلاغہ، خطبہ نمبر 189۔
2۔ نہج البلاغہ، خطبہ نمبر 119۔
3۔ بزغالہ = میمنا - بکری کا بچہ
4۔ الکلینی، الکافی، ج2، ص152۔
5۔ علامہ مجلسی، بحارالانوار، ج47، ص123 و 124.
6۔ احمد بن علي الطبرسی، الاحتجاج، ج2، ص325۔
7. شیخ طوسی، الغيبۃ، ج1، ص339۔
8۔ الکلینی، الکافی، ج1، ص370۔
9. نامه‌ی شهید آوینی به آیت‌الله خامنه‌ای https://farsi.khamenei.ir/others-note?id=6216
10۔ عبدالجواد جودی‌خراسانی؛ غزل "داشتن سر عجب است!"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: محمد ایمانی
ترجمہ و تکمیل: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*