وسیم ملعون کے خلاف قم میں طلاب ہندوستان کے ذریعے منعقدہ احتجاجی جلسے میں پیش کیا گیا میمورنڈم

وسیم ملعون کے خلاف قم میں طلاب ہندوستان کے ذریعے منعقدہ احتجاجی جلسے میں پیش کیا گیا میمورنڈم

نبی کریم (ص) کی شان میں ایسی گستاخی نہ صرف ایک بہت بڑا اخلاقی جرم ہے بلکہ انسانیت سے گری ہوئی حرکت ہے جس سے نہ صرف ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے قلوب مجروح ہوئے ہیں بلکہ ہر وہ دل زخمی ہوا ہے جس میں اس پیکر علم و اخلاق سے عقیدت و محبت پائی جاتی ہے۔ ہم طلاب حوزہ علمیہ قم اس حالیہ منصوبہ بند توہین آمیز اقدام کے خلاف اپنا احتجاج درج کرواتے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ تاریخ انسانیت گواہ ہے کہ جب جب الھی نمائندوں نے عدل و انصاف، صلح و آشتی، عزت و جوانمردی اور مہر و محبت جیسے آفاقی پیغامات دنیا کے سامنے پیش کئے ہیں اور ظلم و بربریت، جبر و اسبتداد، اور نفرت و کدورت کے خاتمے کے لئے تحریک چلائی ہے تو انھیں ہمیشہ ایسے افراد کی جانب سے سخت مخالفتوں اور اہانتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے جن کے مزاج میں شر پسندی، باطل پرستی، فتنہ انگیزی اور نفرت پروری پائی جاتی ہے لیکن یہ بات بھی مسلمات تاریخ میں ہے کہ انجام کار ان پست طینت اور مردہ ضمیر افراد کے ہاتھ ذلت و رسوائی کے سوا کچھ نہیں آیا۔
انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ ہندوستان کی سرزمین جو پوری دنیا میں اپنی امن پسندی، دین دوستی اور سیکولریزم کے لئے جانی جاتی تھی وہ آج ایسے افراد کی آلودہ ذہنیت اور ناپاک سیاست کا شکار ہو گئی ہے جو ملک بھر میں تفرقہ اندازی اور فتنہ انگیزی کے ذریعہ صرف اپنی چند روزہ سیاست چمکانا چاہتے ہیں اور صدیوں سے باہمی اتحاد و اتفاق کے ساتھ زندگی بسر کرنے والے ہندوستانیوں کو آپس میں دست و گریباں کر کے اپنے ذاتی اغراض و مقاصد حاصل کر نا چاہتے ہیں۔ ایسے افراد کا وجود صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پورے عالم انسانیت کے لئے ایک بدنما داغ ہے۔۔۔۔۔
وہ پیغمبر رحمت اور رسول امن جسے پروردگار نے دنیا میں علم و اخلاق اور عدل و انصاف کا مرقع بنا کر بھیجا تھا، جس نے انسان نما حیوانوں کو انسانیت سکھائی، اور پوری کائنات میں امن و امان کا پیغام پہنچایا، جس کی سیرت اور زندگی کے اہم گوشوں سے متاثر ہو کر دنیا بھر کے دانشوروں نے نہ صرف اپنے لئےمنشور انسانیت مرتب کیا بلکہ آپ کے فضائل و کمالات بیان کرتے ہوئے خراج عقیدت بھی پیش کیا ہے آج اسی کی جامع اور آفاقی شخصیت کی شان میں گستاخی کی حدیں پار کی جا رہی ہیں اور حکومت خاموش ہے۔اور خاموشی بھی ایسی ہے جس سے جرم میں ملوث ہونے کی بو آ رہی ہے۔ (جرم میں ملوث کر دیتی ہے)۔۔۔
نبی کریم (ص) کی شان میں ایسی گستاخی نہ صرف ایک بہت بڑا اخلاقی جرم ہے بلکہ انسانیت سے گری ہوئی حرکت ہے جس سے نہ صرف ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے قلوب مجروح ہوئے ہیں بلکہ ہر وہ دل زخمی ہوا ہے جس میں اس پیکر علم و اخلاق سے عقیدت و محبت پائی جاتی ہے۔
ہم طلاب حوزہ علمیہ قم اس حالیہ منصوبہ بند توہین آمیز اقدام کے خلاف اپنا احتجاج درج کراتے ہوئے حسب ذیل قرار داد کو حاضرین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ آپ سے گزارش ہے کہ قرار داد کے ہر بند پر نعرہ تکبیر اور لبیک یا رسول اللہ (ص) کے ذریعہ اپنی حمایت اور منظوری کا اعلان کریں۔
۱۔ ہم حکومت ہندوستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ملعون وسیم کی فتنہ انگیزی اور تفرقہ اندازی کی کوششوں پر لگام کسی جائے اور پیغمبر اسلام کی توہین کے جرم میں اسے جلد گرفتار کر کے اس کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔
۲۔ دین اسلام اور پیغمبر اسلام کی اہانت میں جو کتابچہ شائع ہوا ہے اس کی فروخت و تشہیر پر فوراً پابندی عائد کی جائے نیز مصنف اور ناشر کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔
۳۔ ہم ملعون وسیم کو رسالت اور اسلامی مقدسات کی توہین کا مجرم ہونے کے سبب مسلمان نہیں سمجھتے اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ اسے وقف بورڈ کی ممبرشپ سے فوراً برخاست کیا جائے۔
۴۔ وہ شر پسند تنظیمیں اور ملک دشمن عناصر جن کے ساتھ مل کر یہ ملعون اسلام، قرآن مجید اور پیغمبر اسلام (ص) کی توہین کر رہا ہے ان کے خلاف بھی ملک میں فتنہ و فساد برپا کرنے اور مقدسات اسلام کی توہین کے جرم میں آئین ہندوستان کےمطابق کاروائی کی جائے۔
۵۔ عدالت عظمی سے ہماری درخواست ہے کہ وسیم مرتد کے خلاف دائر ان گنت دیگر کیسز کے سلسلہ سے شنوائی کے لئے پڑی فائلوں پر جلد از جلد فیصلہ کیا جائے تاکہ ایک مجرم کسی خاص مذہبی مکھوٹے یا خاص رنگ کی آڑ میں خود کو چھپا کر ملک و قوم کے ساتھ کھلواڑ نہ کر سکے۔
۶۔ ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وسیم مرتد کے خلاف داخل سی بی آئی جانچ کی درخواست کے سلسلہ سے ہونے والی پیشرفت کو عام کیا جائے اور اگر ابھی تک اس درخواست پر عمل نہیں ہوا ہے تو اس کے پیچھے کیا اسباب و عوامل ہیں اس سے ملک کے عوام کو آشنا کیا جائے۔
۷۔ حکومت سے ہمارا پر زور مطالبہ ہے کہ وسیم رضوی کی جانب سے وقف بورڈ کی ملکیت میں خورد برد اور غیر قانونی من مانے خرید و فروخت جیسے الزامات کی علیحدہ سے جانچ کرتے ہوئے اس کی کار گزاریوں کو عام کیا جا ئے تاکہ قوم و ملک کو معلوم ہو سکے کہ اس شخص نے وقف بورڈ کے چیرمین کی حیثیت سے کیا گل کھلائے ہیں۔ ساتھ ہی ضرورت ہے کہ سخت قوانین کے نفاذ کی روشنی میں حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ جو زمینیں یا گھر اس کی ملکیت میں ہیں ان کی ملکیت کا تعلق کس سے ہے تاکہ وقف کی ہڑپی گئی property کو دوبارہ وقف بورڈ کی ملکیت میں لایا جا سکے۔
۸۔ یوپی شیعہ وقف بورڈ کے تمام ممبران جنہوں نےاس ملعون کو ووٹ دیا ہے یا نہیں بھی دیا ہے ان سب سے ہمارا مطالبہ ہے کہ اپنی مذہبی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اور اپنے عقائد کا احترام کرتے ہوئے اس شخص کی حمایت سے مکمل طور پر دستبردار ہوں اور برائت کا اظہار کریں۔
۹۔ ہم حوزہ علمیہ قم کے طلاب ہندوستان کے تمام مجروح دل مسلمانوں اور تمام انصاف پسند ہندوستانیوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ پوری فراست و ذہانت کے ساتھ ملک کے آئین کے مطابق ملک بھر میں اپنے اعتراضات کو درج کرواتے ہوئے اپنی بیداری کا ثبوت دیں۔
۱۰۔ اور آخر میں امت مسلمہ سے درخواست ہے کہ ہندوستان میں طاقتور عناصر کے ذریعہ منصوبہ بند اسلام ہراسی کے بارے میں آگاہی حاصل کریں اور اپنی دینی ذمہ داری کے مطابق عمل کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*