?>

نیتن یاہو کا دورہ حجاز شریف؛ فلسطین کی پیٹھ میں بنی سعود کا خنجر

نیتن یاہو کا دورہ حجاز شریف؛ فلسطین کی پیٹھ میں بنی سعود کا خنجر

اس سے پہلے ہونے والی ملاقاتوں کو صیغۂ راز میں رکھا جاتا رہا تھا لیکن اس ملاقات کو فوری طور پر اعلانیہ کردیا گیا جس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ یہودی-سعودی تعلقات کی بحالی کی گاڑی چل پڑی ہے اور یوں کئی ممالک ریاض کے ساتھ مل کر اس گاڑی کے مسافر بننے کی سعی کریں گے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ یہودی ریاست کے وزیر اعظم نے پہلی بار حجاز مقدس پر اپنے پلید قدم رکھے تو اس پر مختلف قسم کے تجزیئے سامنے آئے اور بہت سوں نے تو اس کو یہودی بڑے بڑے اسلامی ممالک کی طرف سے یہودی ریاست کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا جواز قرار دیا؛ لیکن عامۃ المسلمین نے غم و غصے کا اظہار کیا اور لبنانی روزنامے "الاخبار" نے اس کو فلسطین کی پیٹھ میں بنی سعود کا سب سے بڑا خنجر قرار دیا۔
سوموار 23 نومبر 2020 کو یہودی ریاست کے بعض ذرائع نے فاش کیا کہ یہودی ریاست کا وزیر اعظم نے پوری امت مسلمہ کی توہین کرتے ہوئے حجاز مقدس کا دورہ کیا اور اس توہین کی دعوت سعودی ولیعہد بن سلمان نے دی تھی۔ اس دورے میں بن یامین نے بن سلمان کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور امریکہ کے شکست خوردہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وزیر خارجہ پامپیو بھی ان ملاقاتوں میں حاضر تھا۔
اس خبر کے ذرائع ابلاغ پر آنے پر پورے عالم اسلام نے رد عمل ظاہر کیا اور اس عمل کی وسیع مذمت ہوئی۔ گوکہ کچھ ممالک بشمول پاکستان، میں کچھ رشوت خور صاحبان منبر (صحافیوں اور اینکروں) نے اس کو جواز بنا کر ناجائز اور غاصب یہودی ریاست کے ساتھ ہمہ جہت سفارتی تعلقات قائم کرنے پر زور دینا شروع کیا۔
لبنانی روزنامے الاخبار نے "فلسطین کی پیٹھ میں سب سے بڑا سعودی خنجر" کے عنوان کے تحت اپنی رپورٹ میں لکھا: سعودی-یہودی تعلقات برسہا برس سے غیر اعلانیہ طور پر جاری تھے لیکن اب یہودی ذرائع نے انہیں فاش کردیا ہے اور ان کا خیرمقدم کیا ہے اور یہ ایک نئے مرحلے کے آغاز کا اعلان ہے۔
سعودی وزارت خارجہ نے اس خبر کی تردید کی لیکن یہودیوں کی طرف سے سرزمین حجاز کے مسلسل دوروں کو نہیں جھٹلایا؛ جو ایک نئے مرحلے کا آغاز تھا: یہودی-سعودی کا اعلانیہ اتحاد۔
بعض دوسرے ذرائع نے اعلان کیا کہ اس سفر کا بنیادی مقصد ایران کے خلاف سعودی-یہودی اتحاد کا قیام تھا۔
الاخبار کے مطابق یہودی-سعودی ریاستیں ڈونلڈ ٹرمپ کی چھٹی ہونے سے پہلے کسی خاص مہم جوئی کا ارادہ رکھتی ہیں  ہے اور یہ اس خطرے کا نشانہ فلسطین اور اس کے مظلوم عوام ہیں۔
وہاں فلسطینی تحزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ گوکہ اس دورے میں فریقین کے درمیان کوئی واضح مفاہمت نہیں ہوسکی ہے لیکن مقبوضہ سرزمین کے اندر نیتن یاہو کی پوزیشن بہتر ہوئی ہے اور اس کو کچھ صہیونیوں کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق، اس سے پہلے ہونے والی ملاقاتوں کو صیغۂ راز میں رکھا جاتا رہا تھا لیکن اس ملاقات کو فوری طور پر اعلانیہ کردیا گیا جس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ یہودی-سعودی تعلقات کی بحالی کی گاڑی چل پڑی ہے اور یوں کئی ممالک ریاض کے ساتھ مل کر اس گاڑی کے مسافر بننے کی سعی کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق اس واقعے پر فلسطینی حلقوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور فلسطینی اتھارٹی کی مذمت ہورہی ہے کیونکہ اس اتھارٹی نے "مفت میں" یہودی ریاست کے سرغنوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو دوبارہ بحال کردیا ہے؛ اور اگر ایسا نہ ہوتا تو تل ابیب-ریاض کے تعلقات کو پھر بھی خفیہ رکھا جاتا۔
فلسطینی راہنماؤں کو یقین ہے کہ سعودیوں کی طرف سے یہودی ریاست کے ساتھ تعلقات کی بحالی عربی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے؛ حماس نے اس دورے کو نہایت خطرناک اقدام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ریاض نے اسلامی امہ کی توہین کی ہے اور فلسطین کے حقوق کو پامال کیا ہے۔ اسلامی جہاد تحریک نے کہا ہے کہ بنی سعود کی بادشاہت یہودی ریاست کے سربراہ کو حجاز بلا کر سیاسی انحطاط و زوال سے دوچار ہوئی ہے، سعودی حکمران اصولوں سے برگشتہ ہوچکے ہیں اور سعودی ریاست قدس اور مکہ کے ساتھ خیانت کا ارتکاب کرچکی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
110


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

مغربی ممالک میں پیغمبر اکرم (ص) کی توہین کی مذمّت
ویژه‌نامه ارتحال آیت‌الله تسخیری
پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی