?>

"مکتب شہید سلیمانی اور نئی اسلامی تہذیب" کانفرنس کی اختتامی تقریب

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ: "اس عظیم شہید کی شہادت سے پہلے اور بعد میں ، سامراجی نظام نے شہید کے چہرے کو داغدار کرنے کی بہت بڑی کوششیں کیں اور اس طرح سے اس نے شہید کا انسداد دہشت گردی، انسانیت پسندی، انصاف پسندی اور امن پسندی کا اصلی چہرہ چھپانے کی کوشش کی۔"

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ "مکتب شہید سلیمانی اور نئی اسلامی تہذیب" کانفرنس جو اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے تعاون سے منعقد ہوئی کی اختتامی تقریب میں شہید قاسم سلیمانی کے نظریہ کی شناخت اور اس کی ترویج کی راہ میں کوشش جاری رکھنے کا عزم کیا گیا۔
کانفرنس کے اختتامی بیان میں کہا گیا ہے: اس کانفرنس کے انعقاد کا عمل مہینوں قبل ملک کے متعدد علمی، ثقافتی اور دانشگاہی اداروں کے دانشوروں کے تعاون اور حمایت سے شروع ہوا تھا اور اس کی منصوبہ بندی اور ایٹوٹائزمنٹ کو میڈیا کے ذریعے انجام دیا گیا تھا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ: "اس عظیم شہید کی شہادت سے پہلے اور بعد میں ، سامراجی نظام نے شہید کے چہرے کو داغدار کرنے کی بہت بڑی کوششیں کیں اور اس طرح سے اس نے شہید کا انسداد دہشت گردی، انسانیت پسندی، انصاف پسندی اور امن پسندی کا اصلی چہرہ چھپانے کی کوشش کی۔"
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کانفرنس کی دعوت کو دنیا کے دانشوروں میں خاصی مقبولیت ملی، اور کافی اچھا استقبال ہوا یہاں تک کہ محدود وقت میں ۴۰ سے زیادہ مختلف ممالک میں مقدماتی نشستیں منعقد ہوئیں، دنیا کے مختلف نظریہ پرداز لوگوں نے ویڈیو کلیپس کی صورت میں اپنے نظریات ارسال کئے اور ۱۳۲ مقالات اس مختصر وقت میں موصول ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ مکتب شہید سلیمانی اور نئی اسلامی تہذیب کے زیر عنوان بین الاقوامی ورچوئل کانفرنس تین روز تک جاری رہی جس میں ایران اور دیگر ممالک کے دانشوروں نے شرکت کی۔
..............

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

مغربی ممالک میں پیغمبر اکرم (ص) کی توہین کی مذمّت
ویژه‌نامه ارتحال آیت‌الله تسخیری
پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی