13 رجب کی مناسبت سے

مولا علی (ع) کی ولادت کے لیے کعبہ کا شگاف، جاویدانی معجزہ+ تصاویر

اس واقعہ کو 1440 سے سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے۔ اس طولانی عرصہ میں بارہا اور بارہا خانہ کعبہ کی تعمیر نو ہوئی ہے لیکن ہر بار تعمیر کے بعد دوبارہ اس مقام پر دراڑیں پڑ جاتی ہیں جبکہ وہاں کے پتھر بھی متعدد بار تبدیل کیے جا چکے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ شیعہ سنی منابع کے مطابق امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ولادت 13 رجب المرجب سن تیس عام الفیل کو مکہ میں خانہ کعبہ کے اندر واقع ہوئی۔
مورخین نے لکھا ہے کہ جب علی(ع) کی والدہ فاطمہ بنت اسد درد زہ میں مبتلا ہوئیں تو خانہ کعبہ کے پاس گئیں اور اس طریقہ سے خدا سے دعا مانگی: "پروردگارا! میں تجھ پر، تیرے تمام پیغمبروں پر، تیری طرف سے بھیجی ہوئی تمام کتابوں پر ایمان رکھتی ہوں۔ اپنے جد ابراہیم کہ جس نے اس کعبہ کو تعمیر کیا کی باتوں پر ایمان رکھتی ہوں۔ پروردگارا! تجھے اسی کا واسطہ جس نے اس گھر کو بنایا اور اس بچے کا واسطہ جو میرے شکم میں ہے اس بچے کی ولادت کو میرے لیے آسان بنا دے"۔
اس دعا کا اثر یہ ہوا کہ اچانک کعبہ کی دیوار شق ہوئی، دروازہ بنا اور جناب فاطمہ بنت اسد خانہ کعبہ میں داخل ہو گئیں، کعبہ کے زائرین اور مجاورین کی نگاہوں سے اوجھل ہو گئیں، اور دیوار پہلے کی طرح بند ہو گئی لوگ اس ماجرا کو دیکھ کر خوفزدہ ہو گئے تھے انہوں نے کعبہ کے دروازے کو کھولنا چاہا لیکن دروازہ نہیں کھلا، وہ سمجھ گئے کہ اس کام میں کوئی راز ہے اور اللہ کی طرف سے یہ معجزہ رونما ہوا ہے۔
دیوار کا وہ حصہ جو امیر المومنین (ع) کی والدہ کے لیے شکافتہ ہوا تھا اسے "مستجار" کہا جاتا ہے اور وہ کعبہ کے "رکن یمانی" کے ساتھ ملا ہوا ہے۔
اس واقعہ کو 1440 سے سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے۔ اس طولانی عرصہ میں بارہا اور بارہا خانہ کعبہ کی تعمیر نو ہوئی ہے لیکن ہر بار تعمیر کے بعد دوبارہ اس مقام پر دراڑیں پڑ جاتی ہیں جبکہ وہاں کے پتھر بھی متعدد بار تبدیل کیے جا چکے ہیں۔

مندرجہ بالا تصاویر جو شگافتہ شدہ مقام کے بہت قریب سے لی گئی ہیں ان سے واضح ہوتا ہے کہ یہ تصویریں متعدد بار تعمیر کے بعد کی ہیں اور ہر بار تعمیر نو کے بعد یہ دیوار پھر شق ہو جاتی رہی ہے اور لوہے کی میخیں اور کیلیں مار کر پتھروں کو آپس میں جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242

اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*