روزِ عاشوره/اعمال عاشورہ/ روز عاشوره میں امام زین العابدین پر غشی کا طاری ہونا/یومِ عاشور، تمیزِ حق و باطل کا دن

روزِ عاشوره/اعمال عاشورہ/ روز عاشوره میں امام زین العابدین پر غشی کا طاری ہونا/یومِ عاشور، تمیزِ حق و باطل کا دن

عاشورہ کا دن، نمازِ ظہر کا وقت آیا۔ کچھ اصحاب باقی ہیں۔ اُن میں سے ایک عرض کرتے ہیں: فرزند رسول! زوال کا وقت شروع ہوگیا۔ میرا دل چاہتا ہے کہ آپ کی اقتداء میں آخری نماز پڑھ لیں۔ امام حسین بڑے خوش ہوئے۔ کس طرح کی نماز ہوئی۔ کچھ اصحاب اس طرف آگے کھڑے ہوگئے ، جدھر فوج تیر برسارہی تھی۔ حسین نماز میں مصروف ہوئے۔ یہ آگے امام حسین کے کھڑے ہوگئے۔ اِدھر سے تیر آرہے ہیں۔ ہڈیوں کو توڑ رہے ہیں۔ سینے میں پیوست ہورہے ہیں لیکن ان میں سے ایک نہیں گرتا۔ کیوں اس قدر استغراق ہے۔ اس قدر غرق ہوچکے ہیں عشقِ حسین میں کہ تیروں کا پتہ ہی نہیں چلتا کہ کہاں سے آرہے ہیں اور کہاں لگ رہے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا: عاشورہ کا دن، نمازِ ظہر کا وقت آیا۔ کچھ اصحاب باقی ہیں۔ اُن میں سے ایک عرض کرتے ہیں: فرزند رسول! زوال کا وقت شروع ہوگیا۔ میرا دل چاہتا ہے کہ آپ کی اقتداء میں آخری نماز پڑھ لیں۔ امام حسین بڑے خوش ہوئے۔ کس طرح کی نماز ہوئی۔ کچھ اصحاب اس طرف آگے کھڑے ہوگئے ، جدھر فوج تیر برسارہی تھی۔ حسین نماز میں مصروف ہوئے۔ یہ آگے امام حسین کے کھڑے ہوگئے۔ اِدھر سے تیر آرہے ہیں۔ ہڈیوں کو توڑ رہے ہیں۔ سینے میں پیوست ہورہے ہیں لیکن ان میں سے ایک نہیں گرتا۔ کیوں اس قدر استغراق ہے۔ اس قدر غرق ہوچکے ہیں عشقِ حسین میں کہ تیروں کا پتہ ہی نہیں چلتا کہ کہاں سے آرہے ہیں اور کہاں لگ رہے ہیں۔ امام حسین کی جب آواز آئی:
"اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰہِ وَبَرَکَا تُہ"
اب سمجھے کہ نماز ختم ہوئی۔ اُدھر نماز ختم ہوئی حسین کی، اِدھر یہ ختم ہوگئے۔ آپ نے خیال فرمایا کہ اتنی روحانیت کے مالک کبھی آپ نے دیکھے ہیں کہ آئے ہیں اپنی جانیں بیچنے کیلئے۔
امام حسین علیہ السلام سے عہد ہوچکا ہے۔ حضرت نے فرمایا:
بھائیو! تم چلے جاؤ، آج کی شام میں نہیں دیکھوں گا۔ عاشورہ کا دن ہے، رات کو کہا تھا کہ یہ رات جو آنے والی ہے، میری زندگی میں نہیں آئے گی۔ چلے جاؤ، اپنے بال بچوں سے جاکر مل لو جن کے بال بچے ہیں، وہ مل آئیں۔
وہ آوازیں دیتے ہیں کہ حسین ! اگر ہم چلے جائیں تو خدا کرے ہمیں درندے کھا جائیں۔ حسین فرماتے ہیں:بھائیو! میں نانا کو تم سے راضی کروالوں گا۔ میں یہ کہہ دوں گا: نانا! میں نے خود ان کو بھیجا تھا، یہ خود نہیں آئے تھے۔ میرے نانا تم سے ناخوش نہیں ہوں گے۔ امام حسین نے یہ فرمایا۔ جانتے ہیں، کیا جواب دیا ہے اصحابِ باوفا نے: اگر ہم ہزار بار قتل کئے جائیں اور پھر جلا دئیے جائیں اور ہماری راکھ اُڑا دی جائے تو ہر بار ہماری راکھ کا ہر ذرہ آپ کے قدموں میں گرے گا۔ آپ کو چھوڑ کر کیوں چلے جائیں؟ رہ گئے یہ بال بچے، حسین ! اگر آپ کی راہ میں ان کو تکلیف ہو تو اس تکلیف سے بڑی راحت کیا ہے؟ کہیں دنیا میں ایسے واقعات ہوئے ہیں؟
میں آپ سے عرض کروں۔ اس وقت یزید کی بیعت کس کس نے کرلی تھی؟مجھے اس کا ذکر نہیں کرنا ہے۔ اتنی بات کہنی ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا خاندان ایسا نہیں رہا تھا جس نے یزید کے ہاتھوں پر بیعت نہ کرلی ہو۔ عبداللہ ابن زبیر مکہ چلے گئے تھے۔ اپنی خلافت کا اعلان کردیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ جن کی دسترس میں یہ چیز نہ تھی، انہوں نے سب نے بیعت کرلی تھی۔ حسین نے کہانانا کے روضے پر جاکر: نانا!میں آپ کی قبر کو کبھی نہیں چھوڑتا لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ کی محنتیں برباد ہورہی ہیں۔ میرے علی اکبر کے سینے پر برچھی لگ جائے گی۔ میری بہنیں قید ہوجائیں گی لیکن آپ کی محنت کو برباد نہیں ہونے دوں گا۔
اے میرے بزرگو! کبھی تصور میں سوچنا اِن چیزوں کو، اپنی جان کو پیش کردینا اور بات ہے، غیروں کو بلا کر آگے کردینا اور بات ہے۔ عزیزوں کو بھی آگے بڑھا دینا اور بات ہے۔ لیکن حضور!ناموس کا معاملہ ایساہے کہ جب یہ معاملہ آتا ہے تو اولاد کو بھی فدا کردیا جاتا ہے کہ ناموس پر حرف نہ آنے پائے۔ جان کو بھی فدا کردیا جاتا ہے۔ سب کچھ فدا کردیتا ہے لیکن جب دین پر مصیبت آتی ہے تو پھر ناموس کو بھی فدا کردینا چاہئے۔ لیکن دنیا میں آج تک ایسا کوئی پیدا نہیں ہوا سوائے امام حسین کے جو گھر سے اپنی بیٹیوں اوربہنوں کو لے کر چلے۔ جنہوں نے غالباً دن کے وقت گھر کے باہر کی دیوار تک نہ دیکھی تھی۔ اگر کبھی نانا کی زیارت کا شوق ہوا، خود نہیں گئیں، امیر الموٴمنین علیہ السلام سے یا بھائیوں سے کہا کرتی تھیں۔
بابا! اماں کی قبر کی زیارت کو دل چاہتا ہے۔ نانا کی قبر کی زیارت کو دل چاہتا ہے، اجازت دیجئے۔ امیر الموٴمنین اجازت دیتے تھے ۔ مگر پہلے یہ حکم دیتے تھے کہ یہاں سے جنت البقیع تک جو راستہ ہے، اس راستے میں اِدھر اُدھر جو کوچے ہیں، پہلے وہ بندکردئیے جائیں کہ کوئی اِن کوچوں سے گزرنے والا نہ گزرے۔ اس کے بعد جب نکلتی تھیں شہزادیاں تو ایک طرف امام حسن ہوتے تھے اور ایک طرف امام حسین ہوتے تھے۔ اِن شہزادیوں کو حسین اپنے ہمراہ لے کر جارہے ہیں کہ اُن کی شہادت کے بعد بازاروں میں پھرائی جائیں گی۔ یہ درباروں میں لائی جائیں گی۔ اب آپ سمجھئے کہ دین پر حسین کا کتنا بڑا احسان ہے۔
عاشورہ کا دن ہے، کوئی نہیں رہاامام حسین کے ساتھ۔ علی اصغر کو دفن کرچکے۔ علی اکبر کا لاشہ اُٹھا کر لے جاچکے ہیں۔ عباس کے بازو قلم ہوچکے۔ دریا پر چھوڑ آئے کیونکہ وصیت یہ تھی کہ مجھے نہ لے جائیے گا۔ یہ سب کچھ ہوچکا۔ اب امام حسین میدان میں کھڑے ہوئے اُن سے کہہ رہے ہیں:
کوفے اور شام کے لوگو!دیکھو، اب میرا کوئی نہیں، میں زندہ نہیں رہوں گا لیکن تھوڑا سا پانی تو پلا دو۔ کسی طرف سے کوئی جواب نہیں آتا۔ چند لمحوں کے بعد ایک شخص کی آواز آتی ہے داہنی طرف سے :پیاسے میرا سلام!امام حسین اُس طرف دیکھتے ہیں، ایک شخص کھڑا ہوا ہے مسافرانہ لباس میں۔ ہاتھ میں کشکول پانی سے بھرا ہوا۔ آپ نے فرمایا: تو کون ہے جو یہاں مجھے سلام کررہا ہے کیونکہ یہاں تو کوئی مجھے سلام کے قابل ہی نہیں سمجھتا۔ اس نے کہا کہ میں فلاں جگہ کا رہنے والا ہوں، میرا دل چاہا کہ میں کچھ سیاحت کروں۔ سیاحت کیلئے گھر سے چلا تھا۔ آج اس دریا کے کنارے پہنچا، کنارے پر بیٹھ گیا۔پانی پیا، منہ ہاتھ دھویا۔ بیٹھا ہوا تھا کہ کچھ تھوڑا سا دم لے لوں، پھر چلوں گا۔ پیاسے! ایک مرتبہ تیری آواز جو کان میں آئی کہ مجھے پانی پلا دو، میرے دل کی رگیں کٹ گئیں۔ اتنا اثر کیا کہ میں بیٹھ نہ سکا۔یہ پانی بھر کر لایا ہوں، لے پی لے۔آپ نے فرمایا: خدا تجھے جزائے خیر دے، میں پانی نہ پیوں گا، چلا جا ، دور نکل جا کیونکہ اس کے بعد جو میری فریاد کی آواز بلند ہوگی، وہ جو کوئی سن لے گا اور نہ آئے گا، تو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ تو چلا جا۔ اُس نے کہا :
میں چلا تو جاؤں لیکن تو پانی تو پی لے۔ دیکھ! تیرے ہونٹ خشک ہوگئے ہیں، تیری آنکھوں میں حلقے پڑے ہوئے ہیں۔
جلدی سے یہ پانی پی لے۔ آپ نے فرمایا: بھائی! اب کیا پیوں گا؟ ابھی ابھی اپنے چھ ماہ کے بچے کی قبر بنائی ہے جو پیاسا اُٹھ گیا۔ وہ میرے جوان بیٹے کی لاش پڑی ہوئی ہے جو پیاسا اُٹھ گیا۔ وہ میرا بھائی نہر کے کنارے پڑا ہوا ہے، پانی ہی کیلئے گیا تھا۔ اب میں کیا پانی پیوں گا۔ وہ کہتا ہے: پھر کیوں مانگ رہے تھے پانی؟ آپ نے فرمایا: اتمامِ حجت کررہا تھا کہ کل یہ نہ کہیں کہ مانگتے تو دے دیتے۔ مظلوم! یہ تیرا سارا خاندان تباہ ہوگیا، کوئی نہ رہا، آخر تیرا کیا قصور تھا؟
آپ نے فرمایا:
یہ قصور تھا کہ وہ کہتے تھے کہ یزید کی بیعت کرلو۔ میں کہتا تھا کہ فاسق و فاجر کی بیعت نہ کروں گا،دین تباہ ہوجائے گا۔ یہ جو لفظ آپ نے کہے تو وہ ایک مرتبہ گھبرا گیا۔
سر سے پاؤں تک دیکھا اور اس کے بعد کہتا ہے: مظلوم! تیرا وطن کہاں ہے؟ امام حسین نے فرمایا: مدینہ۔ ارے کس قبیلے کا ہے؟کہا بنی ہاشم۔ یہ جو کہا تو ایک مرتبہ اُس کا دل دھڑکنے لگا۔ رسول سے کیا قربت ہے؟ فرمایا: میرے نانا ہوتے ہیں۔ تیرا نام کیا ہے؟ کہا: حسین ابن علی ۔ یہ نام سننا تھا کہ وہ کہتا ہے کہ جنابِ فاطمہ زہرا کے فرزندآپ ہی ہیں؟ امام حسین نے فرمایا: ہاں، میں ہی ہوں۔ اُس نے کہا: آقا! مجھے بھی اجازت دیجئے کہ میں ان لوگوں سے لڑکر اپنی جان فدا کردوں۔ آپ نے فرمایا: تجھے اجازت نہیں دوں گا بلکہ تو اپنے گھر چلا جا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ جو تو اپنی ایک بیٹی چھوڑکر آیا ہے، وہ تجھے بہت یاد کرتی ہے۔ یا حسین ! سکینہ کا بھی کبھی خیال آیاکہ آپ کے بعد کیا ہوگا؟

.........

روز عاشوره میں امام زین العابدین پر غشی کا طاری ہونا
اگر امام حسین علیہ السلام اپنی زندگی میں امام زین العابدین علیہ السلام کو اپنا وصی نہ بناگئے ہوتے تو زمین وآسمان نہ رہتے۔ یہ ضروری ہے کہ حجت ِخدا ہر وقت رہے۔ خلق سے پہلے بھی حجت خدا، بعد میں بھی ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ بھی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ولی اُٹھتا نہیں جب تک کہ دوسرے کو اپنا قائم مقام نہ بنا لے۔ آئمہ طاہرین میں یہی رہا۔
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام قید خانے میں ہیں اور زہر دے دیا گیا ہے اور آپ کی حالت بس قریب المرگ پہنچ چکی ہے۔ تیسرے دن آپ زمین سے اُٹھ نہیں سکتے تھے۔ لیٹ کر ہی اشاروں سے نمازیں ہورہی ہیں۔ ایک غلام تھا جو مقرر کیا گیا تھا کہ دروازہ اس وقت تک نہ کھولنا جب تک یہ مر نہ جائیں۔ یہ کھڑا ہوا ہے دروازے پر۔یہ تیسرے دن کا واقعہ ہے۔ اس کا بیان ہے کہ میں نے دیکھا کہ ایک نوجوان یکایک میرے سامنے آیا۔ وہ اتنا حسین تھا کہ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے چودہویں رات کا چاند ہو۔ اُس نے حکم دیا کہ دروازہ کھول دو۔ میں نے کہا کہ بادشاہ کا حکم نہیں ہے۔
اُس نے کہا کہ ہٹتا کیوں نہیں۔ میرا باپ دنیا سے جارہا ہے، میں اُس کی آخری زیارت کیلئے حاضر ہوا ہوں۔ چنانچہ غلام ایک طرف ہٹا۔ وہ جوان آگے ہوا، دروازہ خود بخود کھلا۔ وہ داخل ہوا اور دروازہ پھر بند ہوگیا۔ اس کو دیکھتے ہی امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے ہاتھ اُٹھادئیے اور سینے سے لگا لیا۔ یہ کیوں؟ یہ اس لئے کہ زمین حجت ِ خدا سے خالی نہ رہ جائے۔
امام حسین علیہ السلام بھی آئے اپنے فرزند بیمار کے پاس۔ امام زین العابدین پر عالمِ غشی طاری ہے۔ آپ کو کچھ پتہ نہیں کہ کیا ہوچکا۔ صبح سے اب تک آپ اس وقت آئے ہیں جب علی اصغر کو بھی دفن کرچکے۔ آخری رخصت کیلئے بیبیوں کے خیمے میں آئے ہیں اور آواز دی کہ میرا آخری سلام قبول کرلو۔ چنانچہ زینب نے پاس بلالیا۔ بھائی سے لپٹ گئیں۔ بھیا! کیا میرے سر
سے چادر اُترنے کا وقت آگیا؟ کیا میرے بازوؤں کے بندھنے کا وقت آگیا؟ امام حسین نے آپ کو تسلیاں دیں۔ آپ نے فرمایا: بہن! اتنی مضطرب نہ ہو۔ اگر تم اتنی مضطرب ہوجاؤ گی تو ان بیبیوں کو شام تک کون لے جائے گا؟ تمہیں سنبھالنا ہے، خدا کے بعد یہ بیبیاں تمہارے حوالے ہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے بچے تمہارے حوالے ہیں۔ آپ نے وصیتیں کیں۔ اس کے بعد فرماتے ہیں: بہن! ذرا مجھے میرے بیمار بیٹے تک پہنچا دو۔
جنابِ زینب امام زین العابدین علیہ السلام کے خیمے میں لے گئیں۔ خدا کسی باپ کو بیٹے کی یہ حالت نہ دکھائے۔ عالمِ غشی میں پڑے ہیں۔ صبح سے بخار کی جو شدت ہوئی ہے تو آنکھ نہیں کھول سکے امام زین العابدین علیہ السلام۔ امام حسین پاس بیٹھ گئے، بیٹے کی شکل دیکھی۔ حالت ملاحظہ کی، آوازدی: بیٹا زین العابدین ! باپ کو آخری مرتبہ دیکھ لو۔ اب میں بھی جارہا ہوں۔ امام زین العابدین کی آنکھ نہ کھلی۔ شانے پر ہاتھ رکھا۔ شانہ ہلایا، آنکھ نہ کھلی۔ آواز دی، آنکھ نہ کھلی۔ ایک مرتبہ نبض پر ہاتھ رکھا، بخار کی شدت معلوم ہوئی۔ انجام یاد آگیا کہ تھوڑی دیر کے بعد کیا ہونے والا ہے؟ آخر باپ کا دل تھا، حسین رونے لگے۔ گرم گرم آنسو جو چہرئہ بیمار پر پڑے، آپ نے آنکھیں کھول دیں۔ دیکھا کہ ایک شخص سر سے پاؤں تک خون میں ڈوبا ہوا سامنے بیٹھا ہوا ہے۔ یہ دیکھ کر عابد ِ بیمار پریشان ہوگئے۔
امام حسین نے فوراً کہا: بیٹا! گھبراؤ نہیں۔ اور کوئی نہیں ، تمہارا مظلوم باپ ہے۔ امام زین العابدین علیہ السلام کو خیال آیا کہ میرے باپ کے اتنے دوست اور رفقاء تھے، یہ کس طرح زخمی ہوگئے؟ آپ پوچھتے ہیں: بابا! حبیب ابن مظاہر کہاں گئے؟ فرمایا: بیٹا! وہ مارے گئے۔ کہا مسلم ابن عوسجہ کیا ہوئے؟ کہا کہ وہ بھی مارے گئے۔ اس کے بعد پوچھا : پھر میرے بہادر اور جری چچا عباس علمدارکیا ہوئے؟ فرمایا: دریا کے کنارے بازو کٹائے سورہے ہیں۔ عرض کرتے ہیں: بابا! پھر بھائی علی اکبر کہاں ہیں؟ فرماتے ہیں: بیٹا! کس کس کا پوچھو گے؟ وہ بھی نہیں، صرف میں رہ گیا اور تم رہ گئے ہو۔
میں اس لئے آیا ہوں کہ تمہیں آخری وصیت کروں اور اسرارِامامت سپرد کردوں۔ اس کے بعد کچھ فرمایا کہ جس کا تعلق اسرارِ امامت سے تھا اور ایک مرتبہ اُٹھے کہ بیٹا! میں جارہا ہوں۔ اب نہیں آؤں گا۔ دیکھو! ماں بہنوں کا ساتھ ہے بازاروں میں جانا ہے دربار میں جانا ہے، جلال میں نہ آجانا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یومِ عاشور، تمیزِ حق و باطل کا دن
امام عالی مقامؑ کی شہادت کا پیغام بڑا واضح اور آشکار ہے۔ چودہ صدیاں گزرنے کو ہیں، مگر یہ غم، یہ پیغام پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔ حسینؑ کے بے مثال قیام کا مقصد نہ تو حصولِ اقتدار تھا اور نہ ہی اس سے آپ کوئی ذاتی نمود کا کام لینا چاہ رہے تھے۔ واقعہء کربلا کو کسی ایسے زاویے سے دیکھنے والے ،کہ حسینؑ کے قیام کا مقصد اقتدار کا حصول تھا، وہ بالکل اسی طرح گمراہ ہیں جس طرح یزید تھا۔ انسانی تاریخ کے اس عظیم معرکہء حق و باطل کو اس کے سیاق و سباق کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس پیغام کو سمجھنے کی ضرورت ہے جو حسین ؑ اور آپ کے ساتھیوں کی عظیم شہادت میں پنہاں ہے۔ حسینؑ اور یزید، دو افراد ہی نہیں، خیر و شر کے دو ایسے کردار بھی ہیں جو صبحِ قیامت تک ایک دوسرے کے آمنے سامنے رہیں گے۔ خیر کے پیمبر کا نام حسینؑ ہے، تو شر کی پیشانی پر یزید لکھا ہوا ہے۔ امام عالی ؑ مقام حضرت حسین ؑ کا معروف فرمان ہے کہ ’’مجھ جیسا کبھی یزید جیسے کی بیعت نہیں کرے گا‘‘ یعنی امام ؑ نے کربلا کے ریگزار میں بتلا دیا کہ ہر وہ کردار جو حق و صداقت کی گواہی بنے، وہ یزید جیسے کسی فاسق و فاجر کی بیعت پر آمادہ نہیں ہوگا۔

بلاشبہ یومِ عاشورہ کو نواسہء رسولﷺ پر بے انتہا ظلم کیا گیا، کربلا میں جو کچھ ہوا، اور جس طرح ہوا دنیا بھر کے عدل پسند انسان نہ صرف اس پر حیران ہیں بلکہ نازاں بھی ہیں، کہ انھیں حسین ؑ کی شکل میں ایک ایسا رہبر مل گیا جو انسانی حریت اور وقار کو زندہ رکھنے کا قرینہ سکھا رہا ہے۔ کربلا زندگی ہے، صرف نسلِ انسانی کے لیے ہی نہیں بلکہ دینِ مبین کے لیے بھی حیاتِ نو کربلا ہی ہے۔ دین پر کڑا وقت آیا تو پھر کیا ہوا؟ کوئی جا کرحضرت معین الدین چشتی اجمیری سے پوچھے جنھوں نے کہا تھا کہ،
شاہ است حسینؑ، پادشاہ است حسینؑ
دین است حسینؑ، دین پناہ است حسینؑ
سر داد، نہ داد دست در دستِ یزید
حقا کہ بنائے لا الہٰ است حسینؑ
آج کے انسان کو ماضی کے انسان سے کہیں زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ فلسفہ شہادتِ حسین ؑ کو سمجھے۔ شہادتِ حسین ؑ کا ایک مقصد انسان کو انسانوں کی غلامی سے نجات دلانا بھی ہے۔

استاد شہید مطہری فرماتے ہیں کہ ’’حسین ابنِ علی ؑ کا قیام امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لئے تھا، عدل اسلامی کے لیے تھا۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر اپنے مقام پر ایک اسلامی اصول ہے۔ عدل ایک اسلامی اصول ہے، اور امامت جو اصولِ اسلامی کی محافظ و نگہبان ہے، خود ایک جداگانہ اسلامی اصول ہے۔ عدالت، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر، کے اصولوں کا احیا ایک ایسے امام کے ہاتھوں ہوا، جس کی اطاعت فرض کی گئی ہے۔ اگر ہم نے اس سلسلے اور اس تحریک کو ہمیشہ زندہ رکھا، تو گویا ہم نے امامت کے عظیم ترین شعار کی حفاظت کی، ہم نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے عظیم ترین شعار کی حفاظت کی، ہم نے عدل کی حمایت اور ظلم کے خلاف جنگ کے شعار کی حفاظت کی ہے۔ جب ہم میدانِ عاشورہ اور روزِ عاشورہ پر نگاہ ڈالتے ہیں، تو وہاں کیا دیکھتے ہیں؟ وہاں ہم اسلام اور اسلامی روحانیت کی تجلی دیکھتے ہیں‘‘

کربلا میں نظر آنے والی اس روحانی و اخلاقی تجلی سے ہر عہد کے عدل پسند انسان جرات و حمیت کشید کرتے رہے، مگر ہم سمجھتے ہیں کہ آج کے انسان کو یہ ضرورت پہلے سے زیادہ آن پڑی ہے کہ وہ امر بالمعروف کا پرچم ہاتھ میں تھام کر عدل کی حمایت میں اٹھ کھڑا ہو، بالخصوص ایک ایسے وقت میں جب واقعی شعائرِ اسلام کا مذاق اڑایا جا رہا ہو، اور سماج کو ایسی بحثوں کی طرف لے جایا جا رہا ہو جہاں اسلام کے حقیقی تشخص کو مجروح کیا جا رہا ہو، جہاں اسلام کے نام پر معصوم انسانوں کو بموں سے اڑایا جا رہا ہو اور جہاں لوگ اپنی نسلی روایات کو ہی اسلام سمجھنے لگ جائیں، وہاں عدل پسندوں اور با ضمیر انسانوں پر یہ ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے کہ وہ کربلا کو ایک درس گاہ کے طور پر لیتے ہوئے حسین ؑ کے فلسفہ شہادت اور قربانی کے مقصد کو سمجھیں اور حق کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں۔ آج کا دن، حق و باطل کے درمیان ایک لکیر ہے، اور یہ لکیر صبحِ قیامت تک وقت کے ہر یزید کا من چڑاتی رہے گی۔ حسینیتؑ صبحِ قیامت تک دنیا بھر کے مظلوموں کے لیے امید کا استعارہ ہے۔ یزیدیت، ظلم،جبر، استحصال اور جفا و زبردستی کا ایک قابلِ نفرت نشان۔ جوں جوں انسانیت بیدار ہوتی چلی جا رہی ہے، توں توں کربلا سے اس کا رشتہ گہرا ہوتا چلا جا رہا ہے۔ جوش ملیح آبادی نے بالکل درست فرمایا تھا کہ
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؑ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عاشور کا دن
٭ نواسۂ رسول اسلامۖ حسین ابن علی کی شہادت کا دن۔
٭ حق وباطل کے بیچ جنگ اور حق کی کامیابی کا دن۔
٭ ظلم وتشدد اور بربریت کے خلاف جد وجہد کا دن۔
٭ یزیدیت کو صفحۂ ہستی سے محو کرنے کا دن۔
٭ طاغوت اور طاغوتی حکومتوں کو سرنگوں کرنے کا دن۔
٭ عدالت اور عدالت پسندوں کی سرفرازی اور کامیابی کا دن۔
٭ پرچم اسلام کی سربلندی اور پرچم کفر و نفاق کی سرنگونی کا دن۔
٭ خون کی تلوار پر جیت کا دن۔
٭ عالم اسلام بلکہ عالم انسانیت کے اتحاد اور یکجہتی کا دن۔
٭ اسلام اور اسلامی طاقت اور امریکہ واسرائیل کو پہچنوانے کا دن۔
٭ اسلام اور محسن اسلام بلکہ انسانیت اور محسن انسانیت سے اظہار عقیدت کا دن۔
٭ حسین اور حسینیت سے اظہار محبت اور یزید ویزیدیت سے اظہارنفرت کا دن۔

اعمال عاشورہ
١:صبح سے عصر کے وقت تک فاقہ سے رہنا۔
٢:پورا دن حزن وملال میں گذارنا۔
٣:گریباں چاک کرنا،آستین الٹنااور سیاہ لباس پہننا۔
٤:ہزار مرتبہ ان الفاظ میں لعنت بھیجنا۔'الھم َالعَن قَتَلَةَ الحسینِ علیہ السلام۔
٥:زیارت عاشورہ پڑھنا۔

التماس دعا

/169


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

اسلام کے سپہ سالار الحاج قاسم سلیمانی اور ابومہدی المہندس کی مظلومانہ شہادت
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی