امام حسین (ع) کا قاتل کون ؟ یزید یا ابن زیاد… ؟ / شب عاشورا خیام سید الشہداء علیہ السلام میں کیسے گذری

امام حسین (ع) کا قاتل کون ؟ یزید یا ابن زیاد… ؟ / شب عاشورا خیام سید الشہداء علیہ السلام میں کیسے گذری

اہل خاندان نے عرض کیا: ہم کس لئے آپ کو چھوڑ کر چلے جائیں؟ اس لئے کہ آپ کے بعد جئیں؟ خداوند ہرگز ایسا نہ کرنے دے کہ ہم اس ناشائستہ صورت حال میں اس کا دیدار کریں اور اصحاب میں سے بھی ہر ایک نے ایسے ہی موقف اپنایا اور سب نے آپ کے رکاب میں شہادت کو دنیا کی زندگی پر ترجیح دی.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا: اہل خاندان نے عرض کیا: ہم کس لئے آپ کو چھوڑ کر چلے جائیں؟ اس لئے کہ آپ کے بعد جئیں؟ خداوند ہرگز ایسا نہ کرنے دے کہ ہم اس ناشائستہ صورت حال میں اس کا دیدار کریں اور اصحاب میں سے بھی ہر ایک نے ایسے ہی موقف اپنایا اور سب نے آپ کے رکاب میں شہادت کو دنیا کی زندگی پر ترجیح دی۔
جناب علی بن الحسین زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں: اس رات ـ جس کے دوسرے روز میرے والد ماجد شہید ہوئے ـ میں بیماری کی حالت میں بیٹھا تھا اور پھوپھی زینب میری تیمارداری کررہی تھیں کہ میں نے اچانک دیکھا کہ میرے والد ایک طرف کو چلے اور اپنے خیمے میں تشریف فرما ہوئے اور آنجناب کے ساتھ ابو ذر غفاری کا غلام تھا جو آپ(ع) کی شمشیر کی اصلاح کررہا تھا۔ میرے والد نے فرمایا:
يادهر اف لك من خليل ۔۔۔۔
اور ان اشعار کو دو یا تین مرتبہ دہرایا اور مین نے بھی یہ اشعار حفظ کئے۔ پس جب میں سمجھ گیا کہ امام حسین علیہ السلام نے یہ اشعار کس غرض سے پڑھے ہیں تو حزن و غم پر غالب آیا مگر میں صبر و ضبط سے کام لیا اور آہ و نالہ نہیں کیا لیکن میری پھوپھی زینب سلام اللہ علیہا نے جب یہ اشعار سنے تو وہ ضبط نہ کرسکیں۔ کیونکہ خواتین میں رقت اور جزع کی حالت زیادہ ہے۔ پس حضرت زینب اٹھیں اور بے مقصدر ننگے پاؤں ٹہلتی رہیں اور پھر امام حسین علیہ السلام کی طرف گئئیں اور کہا: کاش موت مجھے نابود کردیتی، اور یہ زندگی مجھ سے چھین لیتی۔ یہ وقت اس وقت کی طرح ہے جب میرے والد امیر المؤمنین علیہ السلام، والدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا اور بھائی حسن مجتبی علیہ السلام شہید ہوئے، کیونکہ آپ اے میرے بھائی! گذرنے والوے کے جانشین اور پسماندگان کے فریاد رس اور پناہ گاہ ہیں۔
امام حسین علیہ السلام نے بہن کی طرف دیکھا اور فرمایا: اے میری بہن! فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے؛ کہیں شیطان آپ کا حلم آپ سے سلب نہ کرے اور آنسو امام(ع) کی آنکھوں میں گھوم رہے تھے اور آپ(ع) نے اس ضرب المثل سے تمثل کیا:
لو تُرِكَ القطا لَنامَ:
يعنى اگر شکاری رات کو بولنے والا قطا نامی پرندے کو چین سے رہنے دیتا تو یقینا وہ سوجاتا۔ زینب سلام اللہ علیہا نے عرض کیا: افسوس کہ آپ کی جان لی جائے گی۔ پس یہ واقعہ میرے دل کو زیادہ مجروح کرے گا اور میرا غم مجھ پر زیادہ اثر انداز ہوجائے گا۔ پس سیدہ نے ایک طمانجہ اپنے چہرے پر رسید کیا اور بےہوش ہوگئیں۔ جناب امام حسین علیہ السلام نے پانی آپ(س) کے چہرے پر چھڑکا حتی کہ سیدہ ہوش میں آئیں اور امام(ع) نے چند الفاظ سے اپنی بہن کو تسلی دی اور تعزیت ظاہر کی اور فرمایا: اے میری بہن! میں آپ کو قسم دیتا ہوں اور آپ کو میری قسم پر عمل کرنا پڑے گا۔ میرے قتل پر گریبان چاک نہ کریں گی، ناخن سے اپنا چہرہ نہ خراشیں گی اور میری شہادت پر ویل و افسوس اور ثبور کے الفاظ کہہ کر آہ و نالہ نہیں کریں گی۔
پس سید سجاد علیہ السلام نے فرمایا: میرے والد میری پھوپھی کو لے کر آئے اور انہیں میرے قریب بٹھایا۔ روایت ہے کہ سیدالشہداء علیہ السلام نے اس رات فرمایا: حرم کے خیموں کو ایک دوسرے سے متصل کیا جائے اور ان کے گرد ایک خندق کھدوائی اور انہیں خشک لکڑیوں سے پر کروایا تاکہ انہیں صبح کے وقت آگ لگائی جائے اور جنگ صرف ایک طرف سے ہو اور خدا و رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور خاندان رسول(ص) کے دشمن اور یزیدی گماشتے حرم کے خیموں کیے خاف جارحیت نہ کرسکیں۔ خدا جانتا ہے کہ ان خدا پرستوں نے اپنی عمر کی اس آخری شب کو کیا کیا زحمتیں اٹھائیں، خندق کھودنے اور اس کو لکڑیوں سے پر کرنے سے لے کر وضو اور غسل اور لباس ـ جو ان کا کفن بھی تھا ـ کو دھونے کے لئے پانی کے حصول اور پھر لباس دھو لینے تک۔ اور کیا عبادتیں اور کیا مناجاتیں کیں قاضی الحاجات کے ساتھ؛
روایت ہے کہ خیموں سے شہد کی مکھیوں کے بھنبھانے کی سی آواز اٹھ رہی تھی ذکر و تلاوت و نماز و مناجات کی وجہ سے؛ تلاوت کی آواز مسلسل اٹھ رہی تھی خیر البشر صلی اللہ علیہ و آلہ کے نور دیدہ کے لشکر سعادت کے خیام سے؛ اور کیا بجا اور مناسب ہے کہ شیعیان حسین(ع) بھی ان اہل سعادت کی پیروی کریں اور اس رات کو دعا و عبادت اور تلاوت اور گریہ و بکاء اور اندوہ و احیاء کے ساتھ گذاریں۔
سید بن طاؤس نے اقبال الاعمال میں اس رات کے لئے بہت سی دعائیں اور نمازیں نقل کی ہیں منجملہ چار رکعت نماز جس کی ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد پچاس مرتبہ سورہ اخلاص (قل ہو اللہ احد۔۔۔) پڑھے اور یہ نماز نماز امیر المؤمنین کے عین مطابق ہے اور اس کا اجر و ثواب بہت ہے۔ اور فرمایا گیا ہے کہ نماز کے بعد ذکر خدا فراوان کرے اور صلوات بھیجے رسول اللہ اور آل رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ پر اور لعن و نفرین بھیجے رسول خدا اور خاندان رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کے دشمنوں پر، جس قدر کہ ممکن ہو۔ اس رات کے احیاء کے ثواب کے سلسلے میں روایت ہے کہ شب عاشورا کا احیاء تمام ملائکہ کی عبادت کے برابر، عبادت کے برابر ہے اور اگر کسی کو توفیق نصیب ہو اور اس شب کو کربلائے معلی میں ہو اور امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرے اور آنجناب کے حرم میں رات گذارے صبح تک، خداوند متعال اس کو ان شہداء کے زمرے میں خون آلود محشور فرمائے گا۔ جیسا کہ شیخ مفید نے نقل کیا ہے۔ ایک روایت میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(ع) نے فرمایا: "من بات عند قبر الحسين عليه السلام ليلة عاشوراء لقى الله يوم القيمه ملطخا بدمه و كانما قتل معه فى عرصة كربلا". یعنی قبر امام حسین(ع) کے ساتھ عاشورا کی رات صبح تک پہنچانے والا شخص قیامت کے دن ایسے حال میں اللہ کا دیدار کرے گا کہ اس کا بدن اپنے خون میں نہایا ہوا ہوگا گویا کہ وہ امام حسین(ع) کے ساتھ کربلا کے میدان میں موجود تھا۔ شب عاشورا کی چار رکعتی نماز کے بعد ستر مرتبہ "سبحان الله و الحمدالله و لا اله الاّ الله و الله اكبر و لا حول و لا قوة الاّ بالله العليّ العظيم"۔ پڑھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائی کامران سجاد لکھتے ہیں: محترمی و مکرم یآپ نے اس پوسٹ میں لکھا ہے۔ "جناب امام حسین علیہ السلام نے پانی آپ(س) کے چہرے پر چھڑکا حتی کہ سیدہ ہوش میں آئیں اور امام(ع) نے چند الفاظ سے اپنی بہن کو تسلی دی اور تعزیت ظاہر کی"میرا سوال ہے کہ 3 دن سے سیدوں کے پاس پانی نہیں تھا۔ لیکن آپ نے لکھا کہ امام (ع) نے سیدہ کو ہوش میں لانے کے لیے پانی کا استعمال کیا۔اس کے علاوہ پانی کے حصول کا بھی ذکر ہے۔آپ سے وضاحت کی التماس ہے۔
جواب:
اس میں شک نہیں ہے کہ امام حسین(ع) اور اصحاب و انصار ان تین دنوں کے دوران پانی کسی طور پر خیام میں پہنچا دیتے تھے گوکہ دریا پر ابن سعد کے فوجی تعینات تھے۔ اور ایسا ہرگز نہیں تھا کہ کسی نے پانی نہ پیا ہو اس شدید گرمی میں تین دن تک پانی نہ پینے کی وجہ سے انسان کے لئے زندہ رہنا ممکن نہیں ہے لیکن عاشورا کے دن پیاس کا بہت زیادہ زور تھا اور شہدائے کربلا پیاسے شہید ہوئے۔ مثال کے طور پر بعض تاریخی مآخذ و منابع کی طرف اشارہ کرتے ہیں: 1۔ امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا: "وقد منع ابي من الماء الذي كان مطلقا للسباع والوحوش"۔(1) میرے والد کو پانی سے محروم رکھا گیا حالانکہ حیوانات اور درندوں کے لئے پینے پر ممانعت نہ تھی۔ 2۔ عبید اللہ بن زیاد نے عمر بن سعد کو لکھا: اے عمر سعد! امام حسین(ع) اور پانی کے درمیان حائل ہوجاؤ، اور ان پر سختی کرو اور حتی انہیں ایک قطرہ پانی بھی نہ پینے دو۔ جب یہ خط پہنچا تو ابن سعد نے عمر بن حجاج کو 500 نفری دے کر فرات پر تعینات کیا اور حکم دیا کہ امام حسین علیہ السلام کے لشکر کو پانی مت اٹھانے دو۔ اور سات محرم کے بعد اہل حرم آسانی سے پانی حاصل نہيں کرسکے۔ (2) 3۔ امام صادق علیہ السلام نے چالیس سال اپنے والد کے لئے گریہ کیا اور جب بھی پانی لایا جاتا تو امام سجاد(ع) گریہ کرتے اور فرماتے: انھوں نے میرے والد کو پیاسا شہید کیا۔ (3) 4۔ جب حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام نے میدان جانے کی اجازت مانگی تو امام حسین علیہ السلام نے حکم دیا کہ: جاؤ بچوں کے لئے پانی لاؤ۔ (4) ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عاشورا کے دن بچوں کے لئے خیام میں پانی نہيں تھا۔ 5۔ علی اکبر علیہ السلام میدان میں گئے اور لڑ کر واپس آئے اور سید الشہداء علیہ السلام سے عرض کیا: پیاس مجھے مار رہی ہے۔ (5) 6۔ عاشورا کے دن امام حسین اور حضرت ابوالفضل علیہما السلام نے مل کر پانی لانے کی کوشش کی لیکن فرات کے کنارے پر قابض یزیدی فوجی مانع ہوئے۔ (6) 7۔ امام حسین علیہ السلام نے پانی لانے کی کوشش کی لیکن شمر لعین نے کہا: آپ کو پانی نہیں اٹھانے دوں گا مگر یہ کہ آپ یہیں قتل ہونا چاہیں۔ (7) ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے عاشورا کے دن پانے لانے کی کوشش کی کیونکہ اس دن خیام میں پانی کی شدید قلت تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ دشمن نے پانی پر پہرہ بٹھا رکھا تھا؛ امام حسین علیہ السلام اور اہل حرم دشمن کے محاصرے میں تھے چنانچہ ان پر پانی بند کرنا دشمن کے لئے ممکن تھا اور انھوں نے ایسا کیا بھی اور ان کا منصوبہ یہ تھا کہ امام حسین(ع) اور اصحاب اور اہل خاندان پیاس کی وجہ سے مر جائیں اور اس یزیدی جرم کا کوئی اثر ہی تاریخ میں نہ رہے کیونکہ قلم بھی دشمن کے ہاتھ میں تھا اور وہ جو لکھنا چاہتے لکھ سکتے تھے اور انھوں نے ایسا کرنے کی کوشش بھی کی اور کربلا کے سارے واقعات آج بھی ہمارے دسترس میں نہیں ہیں کیونکہ انھوں نے اس ایک سادہ سا واقعہ قرار دیا تھا جو رونما ہوا اور ختم ہوا اور بس۔ لیکن امام حسین علیہ السلام نے انہیں پیاس کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کرنے دیا اور ساتویں سے نویں تک بڑی مشکلوں سے تھوڑا سا پانی خیام میں پہنچایا جاتا رہا۔استاد شہید آیت اللہ مرتضی مطہری میں لکھتے ہیں: پیاس کا مسئلہ سنجیدہ اور تسلیم شدہ اور قطعی مسئلہ تھا۔ (8) چنانچہ عاشورا کی شب بھی اگر چہ پانی فراہم کیا گیا اور شہداء نے اپنا لباس دھو لیا اور غسل کیا لیکن یہ مسئلہ حل نہيں ہوا اور عاشورا کے دن سب پیاسے شہید ہوئے۔ ان روایات سے یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اگرچہ امام حسین علیہ السلام اور اصحاب سات سے نو محرم تک تھوڑا سا پانی خیام میں پہنچاتے رہے تھے لیکن امر مسلم یہ ہے کہ عاشورا کے دن ایک قطرہ پانی بھی خیموں میں موجود نہ تھا اور سب تشنہ لب تھے اور پیاس کی حالت میں جام شہادت نوش کرگئے۔ شب عاشور اصحاب کا غسل کرنا شیخ صدوق (رح) الامالی میں لکھتے ہیں: "وأرسل عليا ابنه (عليه السلام) في ثلاثين فارسا وعشرين راجلا ليستقوا الماء، ۔۔۔ ثم قال لاصحابه: قوموا فاشربوا من الماء يكن آخر زادكم، وتوضؤوا واغتسلوا، واغسلوا ثيابكم لتكون أكفانكم"۔ (9) اور امام علیہ السلام اپنے بیٹے علی اکبر علیہ السلام 30 سواروں اور 20 پیادوں کی سرکردگی میں پانی لانے کے لئے بھجوایا ۔۔۔ اور پھر اپنے اصحاب سے مخاطب ہوکر فرمایا: اٹھو اور اس پانی میں سے پیو
.......

امام حسین (ع)کاقاتل کون؟ یزید یا ابن زیاد…؟

مقدمه
اسلام ایسی سرزمین پر طلوع ہوا جس کے باشندے جاہل اور نادان تھے۔ خدائے واحد کے بجائے اپنے ہاتھوں کے بنائے ہوئے خداؤں (لات،ہبل اورعزیٰ )کی پوجا کرتے تھے۔ جنگ وجدال،ڈاکہ زنی، خونریزی اور کبرونخوت ان کا پیشہ تھا۔جو ایک دوسرے کی جان ومال اور ناموس کی حرمت کا لحاظ نہیں رکھتے تھے۔ شریعت محمدی نےان کو حیوانی زندگی اور جاہلی ثقافت سے نکال کر انسانی اور اسلامی کمالات سے آشنا کیااوران کی زندگی کے رخ کو یکسر بدل دیا۔
اسلام نے اس قوم کی جہل ونادانی کو علم ودانش میں بدل دیا اور اسےظلم وتاریکی سے نکال کر رشد وہدایت کے سر چشمے سے سرشار کردیا ۔ ان کی کبر ونخوت کو رحمت وعطوفت اورتواضع میں بدل دیا۔ پیغمبر اسلام9نے 23 سال کے مختصر عرصے میں حجاز اور اس کے اطراف کے ظلمت کدہ معاشرے کو ایک نورانی معاشرہ میں تبدیل کردیا۔ اس عرصےمیں مشرکین مکہ نے یزید کے دادا ابو سفیان کی سرکردگی میں اسلام اور مسلمین کی نابودی کی راہ میں سر توڑ کوششیں کیں۔لیکن کبھی کامیاب نہ ہو سکے۔ بعثت کے تیرہویں سال رسول خدا 9نے مشرکین قریش کے شر سے بچنے کی خاطر مسلمانوں کو مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کی ہدایت کی اور آپ نے بھی حضرت علی ­7 کو اپنے بستر پرسلاکر رات کی تاریکی میں مکہ چھوڑدیا اور مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی اور پہلی باریثرب میں اسلامی حکومت تشکیل دی۔ مشرکین نے ابو سفیان کی سربراہی میں اسلام اور مسلمانوں پر متعدد جنگین مسلط کردیں لیکن ہر بار شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ مشرکین جنگ بدر کی شکست کا انتقام لینے کے لیے اُحد کے میدان میں مسلمانوں کے مقابلے میں ایک بار پھر جمع ہوگئے اس بار بعض مسلمانوں کی خیانت کی وجہ سے جیتی ہوئی جنگ شکست میں بدل گئی اوراسی جنگ میں رسول خدا 9کے چچا حضرت حمزہ شہید ہوئے اور یزید کی نانی ہندہ نے حضرت حمزہ کے جگر کو نکال کرچبا دیااس طرح رسول خدا 9اور مسلمانوں سے انتقام لینے کی کوشش کی۔ ابو سفیان نے آٹھ ہجری میں ناچاری کی بنا پر ظاہرا ً اسلام قبول کیا اور ”انتم الطلقا“کی سند لیکر پیغمبر اسلام 9 کی وسیع رحمت کے زیرسایہ، آزاد شدہ غلاموں کے زمرے میں آگیا۔ اس بات کو سب جانتے ہیں کہ ابو سفیان نے قلبی میل اور پختہ عقیدےسےاسلام قبول نہیں کیا تھا۔ فتح مکہ کے بعد ناچار اسلام کا لبادہ اُوڑھ کرظاہر میں مسلمان تو بن گیا لیکن باطن میں اسلام کے خلاف اپنا مشن جاری رکھا۔
رسول خدا 9کی رحلت کے فوراً بعد اس نے اسلام کے ریشے پر تیشہ مارنے کی ایک بار پھرکوشش کی لیکن اس بار امیر المؤمنین7کی بصیرت کی وجہ سے اسے ہزیمت اٹھانی پڑی۔ جب اس طرف سے وہ ناکام ہوا تو اسلام پر ضربہ لگانے کے لئے نئی راہ کی تلاش میں رہا جب عثمان کا دور آیا تو ایک خصوصی جلسہ میں بنی امیہ سے خطاب کرکے کہا :”اب یہ حکومت تمہارے ہاتھ آئی ہے اسے گیند کی طرح ایک دوسرے کو پاس دیتے رہو!“ابو سفیان نےحضرت حمزہ کی قبر پر لات مارتے ہوئے کہا :”جس حکومت کے لئے تم نے ہمارے ساتھ جنگ کی تھی اب وہ ہمارے بچوں کے ہاتھوں کا کھیل بنی ہوئی ہے!“۔
چالیس سال تک خلافت پیغمبر 9،سلطنت اور بادشاہت کی صورت میں معاویہ کے ہاتھوں رہی اور اس نے اہل بیت رسول9 کی دشمنی میں ایسی بدعتیں اسلام میں ایجاد کیں جن کے نتیجے میں بے روح رکوع وسجود،توسیع پسند اور زراندوزی کے جذبات سے مغلوب فتوحات ،عمل سے کوسوں دور قرائت نیز بغض اہل بیت: اور حاکم وقت کی بے رام غلامی میں بدل گیایوں اسلام کا نورانی چہرہ بالکل بدل گیااور اسی فکری وعملی ماحول میں بچے جوان اورجوان، بوڑھے ہوگئے۔
معاویہ نے خلافت کو سلطنت میں بدل دیا اور سلطنت کو موروثی بناکر اپنے بیٹے یزید کو جانشین بنایا،لوگوں نے یزید کی بیعت کی جب ان حالات اور شرائط کو امام حسین7نے مشاہدہ کیاتوآپ سے رہا نہ گیا اب فرزند رسول 9دیکھ رہے تھے کہ نانا کا لایا ہوا اسلام نابود ہورہا ہے ایک شرابی اور کبابی نانا کی مسند پر تکیہ لگابیٹھا ہے یہاں تک کہ امام سے بھی بیعت کا مطالبہ کیا جارہا ہے لہذا آپ نے بیعت سے انکارکردیا۔ امام حسین7نے:”علي الاسلام السّلام،إذ بُليت الامة براع مثل يزيد”[3] کانعرہ بلند کرکے ایسے حالات میں اپنا راستہ معین کیا۔ اسلام کےتحفظ اور اسلامی معاشرے کی نجات کی خاطرآپ نے قیام فرمایا ۔ لیکن یزید نے نہ صرف خلافت سے ہاتھ نہیں اٹھایا بلکہ تاریخ بشریت میں ایسی جنایت کامرتکب ہواجس کی اب تک کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔ افسوس اورتعجب کی بات یہ ہےکہ بنی امیہ اور یزیدی ذہنیت رکھنے والے مسلمان نمابعض لوگ یزید کی اس جنایت پر پردہ ڈالنے اور یزیدکو امام حسین 7کے قتل سے بری الذمہ قرار دیتےہوئے اسے جنتی ہونے کا نہ صرف عقیدہ رکھتے ہیں بلکہ اس سے دفاع بھی کرتے ہیں! بعض لوگ کہتے ہیں کہ امام حسین ­7 کو ابن زیاد،عمر سعداور شمر نے شہید کیا ہے۔جبکہ یزید ،امام حسین 7کی شہادت پر نہ صرف راضی نہیں تھا بلکہ اس نے امام حسین7کو شہید کرنے کی وجہ سے ابن زیاد پرلعنت کی ہے۔
ہم اس مقالے میں تاریخی شواہد کی روشنی میں امام حسین 7 کےاصلی قاتل کو پہچنوانےکی کوشش کریں گے۔
يزيدبن معاویہ كي پیدائش
اہل سنت کے مایہ ناز دانشمند جلال الدین سیوطی کے مطابق یزید بن معاویہ پچیس(25)یا چھبیس(26)ہجری میں پیدا ہوا۔ اس کی ماں میسون بنت بجدل کلبی ہے۔ [4]
یزید کی ماں شہر میں رہنا پسند نہیں کرتی تھی لہذا معاویہ نے یزید کے ساتھ اسے ایک دیہات میں بھیج دیا اس طرح یزید کی تربیت دیہاتی ماحول میں ہوئی، شعر و شاعری، شکار، گھڑسواری اورجانوروں خصوصا بندروں اور کتّوں کے ساتھ اس کو خاص لگاؤ تھا۔
یزید بچپنے میں ہی عیش وعشرت کے ماحول میں پلابڑھا۔اسلامی تربیت کے بجائے باطل چیزوں اور لہو ولعب کی زندگی کی عادی ہوا۔دینی امو ر سےناآشنائی کے ساتھ مملکتی امور سے بھی اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ایسے میں یزید کا ولایت عہدی کے لیے انتخاب کرنا اسلام کےساتھ بہت بڑی خیانت تھی جسکا خمیازہ عالم اسلام قیامت تک بھگتا رہے گا ۔جیسا کہ حسن بصري کا کہنا ہے: ”تاریخ میں دوایسےمشورے واقع ہوئے ہیں جن کا اثر قیامت تک باقی رہا ہےاور ختم نہ ہوسکے گا۔ ان میں سے ایک عمر وبن عاص کا قرآن نیزوں پر نکالنے کا مشورہ تھا جس کے نتیجے میں خوارج پیدا ہوئے۔ دوسرا یہ مغیرۃ بن شعبہ کامشورہ جس میں معاویہ کو یزیدکےخلیفہ بنانے کی کی تجویز دی گئی۔ [5]
یزید اہل سنت کی نظر میں
یزید کے بارے میں مسلمانوں کےتین اقوال ہیں ان میں سے ایک یہ کہ: یزید کافر ،منافق اورفاسق ہے۔کیونکہ اس نے فرزند رسول 9کو قتل کیاہے تاکہ رسول خدا9 سے انتقام لیا جائے۔ یزید نےاپنےآباؤ واجداد، عتبہ،شیبہ اورولید بن عتبہ جیسے مشرکین کے خون کا بدلہ لینے کی خاطر حسین بن علی 7کو قتل کیا ہے۔[6]
ابن سيرين كا كهنا هے كه عمروبن حزم نے معاویہ سے کہا:”اپنے بعد کس کو امت کے لئے خلیفہ بناؤگے؟ تو اس نے کہاکہ میرےلئے یزید اور اس کے بیٹوں کے علاوہ کوئی اورتو نہیں ہے لیکن یزید احمق ہے”۔[7]
یزید کا فسق وفجور زبان زد عام وخاص تھا،جیسا اہل سنت کے مورخ مسعودی لکھتے ہیں کہ:”یزید اہل لہو ولعب، کتّوں اور بندروں کے ساتھ کھیلنے والا،برسرعام شراب پینے والاتھا“۔[8]
جب یزید برسر اقتدار آیا تو مدینہ سے عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کی سربراہی میں ایک وفدتحقیق کےلئے شام گیا۔ جب یہ وفد تحقیق کرکے واپس مدینہ پہنچا تو ان کا کہنا تھا کہ:” ہم ایسے شخص کو خلافت کے منصب پر دیکھ آئے ہیں جسکا کوئی دین نہیں ہے وہ شراب پیتا ہے،کتا اور بندر کے ساتھ کھیلتا ہے اور زنا اور گانا اس کا مشغلہ ہے”۔[9]
واقدی نے عبداللہ بن حنظلہ کی زبانی نقل کیا ہے کہ اس نے کہا ہم اس بات سے ڈرے کہ یزید کے دربار سے خارج ہونے سے پہلے آسمان سے خدا پتھر برسائے۔یزید محارم سے نکاح کرنے والا،شرابی اور تارک الصلاۃ ہے۔ [10]
يزید میں اسلام کا کوئی نام نشان نہیں تھا وہ فسق و فجور میں مرتکب ہونے کےساتھ کفر اور شرک آمیز کلمات کہنے سے بھی عار محسوس نہیں کرتا تھاجیسا کہ طبری نے نقل کیا ہے کہ یزید نے امام حسین 7 کی شہادت کے بعد افخر کرتے ہوئے یہ کفر اور شرک آمیز اشعار کہے:
ليت أشياخی ببدر شهدوا * جزع الخزرج من وقع الاسل
قدقتلنا القرم من ساداتكم * وعدلنا ميل بدر فاعتدل
فأهلوا واستهلوا فرحا * ثم قالوا يا يزيد لا تشل
لست من خندف إن لم أنتقم * من بنی أحمد ما كان فعل
لعبت هاشم بالملك فلا * خبر جاء ولا وحي نزل
اے کاش ہمارے وہ آباء واجداد جو بدر میں مارے گئے وہ زندہ ہوتے تو وہ دیکھ لیتے کہ آل احمدسےہم نےکیسے انتقام لیا۔ہم نے ان کے بزرگوں کو قتل کرکے بدر کا بدلہ چکادیا ہے۔ اگر آل احمد سے بدلہ نہ لیا ،تومیں بنی خندف سے نہیں ہوں،بنی ہاشم نے حکومت کےساتھ کھیل کھیلا ہے ان پر نہ کوئی وحی نازل ہوئی ہے اور نہ کوئی فرشتہ اتر آیا ہے!
يه وه جملے هيں جو ایسا شخص ہی کہہ سکتا ہے جو بےدین ہواور خدا ورسول اور کتاب پر ایمان نہ رکھتاہو۔[11]
امام حسین7کی شہادت میں یزید کا کردار
یزیدتین سال کی مختصر مدت میں تین بڑی جنایتوں(شہادت امام حسین7،مدینہ میں قتل عام اور کعبہ کی ویرانی) کا مرتکب ہوا ان میں سے ایک امام حسین7کے قتل کا حکم ہے لیکن بعض متعصب اور ناصبی عقیدہ رکھنے والے افراد یزید کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ امام حسین 7کے قتل میں یزید کا کوئی کردار نہیں ہے۔ امام کا قاتل ابن زیاد ہے کیونکہ یزید نے خود ابن زیاد پرامام حسین7کو قتل کرنے کی وجہ سے لعنت کی ہے۔ جیساکہ ابن تیمیہ، یزید کے دفاع میں اس کی جنایتوں کی ناکا م توجیہات کی ہیں۔ اس کا کہنا ہے یزید امام حسین 7کے قتل پر راضی نہیں تھا بلکہ اس نے امام کی شہادت پرناراضگی کا اظہار کیا“أن يزيد لم يظهر الرضي بقتل الحسين، وأنه أظهر الالم لقتله؛یزید حسین کے قتل پر راضی نہیں تھا بلکہ اس نے حسین کے قتل پرغم واندوہ کا اظہار کیا”۔[12]
بہت سے دلائل اور قرائن کی بناپرہم کہہ سکتے ہیں کہ امام حسین 7کی شہادت میں یزیدکا براہ راست کردار ہے۔ان میں سے بعض دلائل یہ ہیں:
1۔ ابن زیاد کوکوفہ کا والی بنانے میں یزیدکا مقصد
جب امام حسین 7یزید کی بیعت سے انکار کرکے مکہ تشریف لےگئے اوروہاں سے اہل کوفہ کی دعوت قبول کرکے کوفے کا ارادہ کیا اور کوفہ کے حاکم نعمان بن بشیر وہاں کے حالات کوحالت سنبھال نہ سکا تو یزید نے ابن زیاد کوبصرہ کےعلاوہ کوفہ کی حاکمیت بھی دیدی۔ اس مطلب کواہل سنت کے مایہ نازمورخ جناب طبری اس طرح بیان کرتے ہیں:”جب کوفہ کے بارہ ہزار افراد نے مسلم بن عقیل کی بیعت کی تو یزید کے ایک حامی نےکوفہ کی حالت اور نعمان کی ناتوانی کی اطلاع یزیدکو خط کے ذریعے دیدی اس نے اپنے مشاور سرجون غلام سے مشورہ کیاتو اس نے کہا کہ اس وقت اگرمعاویہ زندہ ہوجائے اور وہ تجھے کوئی حکم دیدے تو کیا تم اس کے حکم کو مان لوگے؟ جب اس نے اثبات میں جواب دیا تو سرجون نے معاویہ کا خط نکال کریزید کو دیا جس میں کوفہ پر ابن زیاد کی ولایت کا حکم لکھا ہوا تھا اور سرجون سے کہا ہوا تھا مناسب وقت پر اس حکم نامہ کو یزید کے حوالہ کردو۔ سرجون نے یزید سے کہا:”اس وقت کوفہ، ابن زیاد کے علاوہ کوئی اور نہیں سنبھال سکتا“تو یزیدنےابن زیاد کو بصرہ کے علاوہ کوفہ کا گورنر بھی مقرر کردیا اور اسے لکھا کہ مسلم بن عقیل کو قتل کردو۔“[13]
یہ تاریخی حقیقت ہے کہ یزید نے ابن زیاد کو کوفہ کا گورنر صرف امام حسین 7کا مقابلہ کرنے کے لئے بنایا تھا۔جب وہ ابن زیاد کوکوفہ کاحاکم بنارہاتھا تو اسےکس حیثیت کے ساتھ وہاں بھیجاتھا،تین قسم کےاحتمالات یہاں متصور ہیں:
یزید کا ابن زیاد کو کوفہ کے حاکم بناتے وقت ا سے کیا کیا احکامات دیئے تھے؟ تین قسم کے احتمالات دے سکتے ہیں:
الف: یزید نے ابن زیاد کو تمام امور کے بارے میں پورااختیار دے دیا تھا ان میں سے ایک امام حسین7 کا قتل بھی تھا۔
ب:اسے کہاگیا تھا کہ تمام مسائل میں یزید سے مشورہ کرلےچاہے وہ مسئلہ بڑا ہو یا چھوٹا،اس کی اجازت کے بغیرکوئی کام انجام نہ دیا جائے انہی مسائل میں سے ایک واقعہ عاشورا ہے۔
ج: یزید نے اس سے کہا تھا کہ بڑے مسائل کا فیصلہ اس کی اجازت اور مشورت کے بغیر انجام نہ دیا جائے۔
ان تینوں میں سے کسی بھی ایک احتمال کو قبول کرلینے کی صورت میں یزید اپنے آپ کو امام حسین 7کے قتل سے بری قرارنہیں دےسکتا ۔[14] اگر ہم پہلےاحتمال کو قبول کرلیں( اگرچہ یہ بعید ہے )اور کہیں کہ یزید نے تمام اختیارات ابن زیاد کے حوالے کردئے تھےاورانہی اختیارات میں سے ایک فرزند رسول کا قتل تھااس بناپر اگر یزید ابن زیاد کے اس کام سے بے خبر تھا تو بعد میں جب با خبر ہوگیا تھا اس وقت ابن زیاد کو سزا کیوں نہیں دی اورکم ازکم اسے اپنے منصب سے کیوں نہیں ہٹایا؟
اگر ہم دوسرے احتمال کو قبول کریں اور کہیں کہ یزید نے ابن زیاد کو تمام امور میں اس سے مشورہ کرنے کو کہا تھا تو اس صورت میں ابن زیاد نے قتل امام حسین 7کے بارے میں بھی یزید سے مشورہ کرکے اقدام کیا تھا اور یزید نے اس کے اقدام کی تائید کی تھی تب بھی ہمارا مدعا ثابت ہے۔ اور اگر اس کی مشورت کے خلاف اس نے قتل امام حسین 7 کا اقدام کیا اوریزید اس کے اس اقدام سے ناراض ہوا تھاتو اسےچاہیےتھا کہ ابن زیاد کے اس کام کے بارے میں اس سے بازپرس کرتا۔لیکن تاریخ اس بارے میں خاموش ہے۔
تیسرا احتمال جو زیادہ معقول معلوم ہوتا ہے وہ یہ کہ یزید نے جب ابن زیاد کوکوفہ کا گورنر بنایا تھاتو اسے حکم دیا تھا کہ امام حسین 7کے بارے میں ہر فیصلے کو اس کے مشورےکے مطابق انجام دو اورتمام حالات سے مطلع رکھو۔
اس بارے میں تاریخی شواہد ہیں ۔جیسا کہ طبری نے نقل کیاہے:”جب ابن زیاد نے مسلم بن عقیل اور ہانی کو قتل کیا اوران دونوں کے سروں کو ہانی بن ابی حیہ وادعی اور زبیر بن اروح تمیمی کے ساتھ یزید کے پاس شام بھیجااور لکھا:”بفضل خدا ،امیرکے حق کو واپس لیاہے اور دشمنوں کو ان کےاعمال کی سزا دیدی ہے۔ مسلم بن عقیل اور ہانی بن عروہ مرادی کو قتل کرکے ان کے سروں کو امیر کی خدمت میں ارسال کیا جارہا ہے اور یہ دونوں شخص،جو آپ کے پاس بھیجا جارہا ہے،اہل طاعت اور ہمراز ہیں،امیر،ان کی زبانی تمام واقعات سے باخبر ہوجاسکتے ہیں“۔ یزید نے ابن زیاد کے خط کے جواب میں اس کی تعریف کرنے کے بعد لکھا:”مجھے خبر ملی ہے کہ حسین بن علی7عراق کی طرف آئے ہیں…جاسوسوں اور مسلح افراد کو مختلف راستوں کی ڈیوٹی پرلگادو،جس جس پر شک گزرے ان کو گرفتار کرو اورتمام حالات سے مجھے باخبر رکھو“۔[15]
تما م تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یزید نہ صرف تمام حالات سے آگاہ تھابلکہ وہ براہ راست کوفہ میں پیش آنے والے حالات پردقت سےنظررکھاہوا تھا۔اور کربلا کا واقعہ اس کے حکم سے آخر تک پہنچا ہے لہذا وہ واقعہ کربلا کی ذمہ داری سے کسی صورت خود کو بری قرار نہیں دے سکتا۔
2۔ یزید کا ولید کو امام حسین 7شہید کرنے کا حکم
تاریخی شواہدکی روشنی میں یہ بات ثابت ہے کہ امام حسین7کا قتل یزید کی بیعت نہ کرنے کی صورت میں حتمی تھا چاہے آپ قیام کریں یا نہ کریں۔
یزید نے والی مدینہ کےنام خط میں لکھا کہ اگر حسین بن علی 7نے بیعت نہ کی تو انہیں قتل کردو اورسر کو میرے پاس بھیج دو۔
تاریخ یعقوبی میں ہے کہ یزید نے والی مدینہ ولید کو لکھاکہ:”حسین بن علی اور عبداللہ بن زبیر کو حاضر کرکے ان سے بیعت لے لو اور بیعت نہ کرنے کی صورت میں ان کوقتل کرکے سروں کومیرے پاس بھیج دو“۔[16]
تایخ طبری اور کامل التاریخ کی روایت میں قتل کے بجائے:”بالبيعة أخذا شديداً ليست فيه رخصة حتی يبايعوا”[17]ہےاس عبارت سے بھی یہی سمجھ میں آتا ہے کہ یا بیعت کرو یا قتل کروکوئی تیسری راہ محتمل نہیں ہے۔ اسی مطلب کو امام حسین 7 نے بھی سمجھا تھا یہی وجہ ہے کہ آپ بنی ہاشم کے جوانوں کو ساتھ لیکر دربار میں گئے۔ اس مطلب کا ایک قرینہ یہ ہے کہ یزید نے ولید کو معزول کیا اگر یزید کا مقصد امام حسین 7 کو قتل کرنا نہ ہوتا توولید کو امام سے بیعت نہ لے سکنے کے جرم میں مدینہ کی حاکمیت سے معزول کرنے کا کیا مقصدتھا؟
ابن اعثم کا کہنا ہے کہ جب مروان نے ولید کے ہاتھ پر امام حسین7 کےبیعت نہ کرنے کی خبر یزید کو دی تو اسے سخت غصہ آیا اور ولید کو دوبارہ خط لکھا جسکا مضمون یہ ہے:”جس وقت میرا خط تجھے پہنچےاہل مدینہ سے دوبارہ بیعت لی جائے۔ عبداللہ بن زبیر کو چھوڑ دو کیونکہ جب تک وہ زندہ ہے ہمارے ہاتھ سے فرار نہیں کرسکتا خط کے جواب کے ساتھ حسین بن علی 8 سر بھیج دو اگر ایسا کیا تو تیرے لئے نجیب گھوڑے اور دیگر انعامات ہمارے پاس محفوظ ہیں“۔[18]
3۔ امام حسین7کو یزید کی سازش کی خبر
تاریخ طبری اور الکامل کی نقل کےمطابق امام حسین 7 جب مکہ چھوڑ رہےتھےتو لوگوں کو اس کی علت بیان کرتے ہوئے فرمایا:”والله لانْ اقتل خارجاً منها بشبر أحب اليَّ من ان اقتل داخلا منها بشبر وأيم الله لو كنت في حجر هامَّة من هذه الهوام لاستخرجوني حتی يقضوا فيَّ حاجتهم؛خدا کی قسم مکہ سے باہر قتل ہونا ،اگرچہ ایک بالشت کے فاصلہ پرہو،میرے لئےمکہ میں قتل ہونے سے بہتر ہے۔ خدا کی قسم اگر میں حشرات کےبلوں میں بھی چھپ کے رہوں تب بھی وہ لوگ مجھے نکال کر قتل کردیں گے“۔[19]
امام حسین 7کویزیدیوں کے ہدف کا علم تھا لہذا آپ نے مکہ سے خارج نہ ہونے کی صورت میں یقینی طورپراپنے قتل اورکعبہ و مکہ کی حرمت پائمال ہونےسے لوگوں کو آگاہ کیا۔
4۔ ابن زیاد کو امام حسین7کے قتل کا حکم
تاریخ یعقوبی کی نقل کے مطابق جب امام حسین7 مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہورہے تھے تو یزید نے ابن زیاد کو خط لکھا:”مجھے خبر ملی ہے کہ کوفہ والوں نے حسین بن علی7 کو دعوت دی ہے اور وہ کوفہ کی طرف روانہ ہو چکا ہے یہ تمہارا امتحان ہے۔حسین7کوقتل کردیاتو ٹھیک وگرنہ میں تجھے سابقہ نسب(ولد الزنا ہے کیونکہ معاویہ نے زیاد بن ابیہ کو اپنا بھائی قرار دیا تھاجبکہ…) کی طرف پلٹادوں گا“۔[20]
اس خط میں یزیدنےامام حسین 7کو قتل نہ کرنے کی صورت میں ابن زیاد کو باقاعدہ دھمکی دی ہے۔ اس عبارت سے معلوم ہوتا ہےکہ یزید نےابن زیاد کےسامنے امام حسین 7کے قتل کےعلاوہ کوئی اور راستہ ہی نہیں رکھا تھا۔ [21]
اہل سنت کے مشہور دانشمند جلال الدین سیوطی نےتاریخ الخلفاءمیں لکھا ہے:”فكتب يزيد إلی واليه بالعراق عبيد الله بن زياد بقتله فوجه إليه جيشاً أربعة آلاف عليهم عمر بن سعد بن أبي وقاص؛ یزید نے کوفہ کے والی ابن زیاد کو حکم دیا کہ حسین بن علی7 کو قتل کردو اس نے عمُربن سعد کے ساتھ چار ہزار کا لشکر امام حسین7کوقتل کرنے کے لئے روانہ کیا“۔ [22]
اہل سنت کے معروف عالم و دانشور اخطب خوارزم لکھتے ہیں کہ جب حر نے امام حسین کےکربلاپہنچنے کی خبر ابن زیاد کو دی تو اس نے امام کو خط لکھا:“مجھے خبر پہنچی ہے کہ آپ کربلا وارد ہوئے ہیں لیکن مجھے یزید نے حکم دیا ہے کہ آپ کو کسی قسم کی رعایت نہ دوں مگر یہ کہ یا آپ یزید کی بیعت کریں یا آپ کو قتل کیا جائے“۔[23]
۵۔ اجماع امت
پوری تاریخ میں امت کا اجماع ہے کہ واقعہ کربلا کا ذمہ دار یزید ہی ہے کیونکہ اس زمانے میں زندگی کرنے والے لوگ یزیدکو اچھی طرح جانتے تھے اور اسے قاتل امام کےطور پر پہچانتے تھے اس بات کی تائید میں چند تاریخی شواہد کو ملاحظہ فرمائیں:
الف: یزید کےنام ابن عباس کا خط
جب امام حسین 7 مکہ سے نکلے ہوا تو ابن زبیر نے خلافت کا اعلان کردیا لیکن عبداللہ ابن عباس نے ابن زبیر کی بیعت نہیں کی ۔ یزید نے ابن عباس کا شکریہ ادا کرنے کےلئے ایک خط لکھا اور کہا کہ تم نے ابن زبیر کی بیعت نہ کرکے صلہ ارحام کا لحاظ رکھاہے میں اس نیکی کو فراموش نہیں کروں گا اور تیری محبت کا جبران کروں گا اور تجھ سے ایک تقاضا ہے کہ دوسرے لوگوں کو بھی ابن زبیر کی بیعت کرنے سے روکے کیونکہ لوگوں کے نزدیک تم ایک قابل اعتماد شخص ہو۔ان کلمات پرمشتمل خط کے جواب میں ابن عباس نے یزید کوجواب میں لکھا:”اے یزید، ابن زبیر کی بیعت نہ کرنا تیری محبت کی وجہ سے نہیں ہے خدا میری نیت سےآگاہ ہے تمہیں میرے ساتھ نیکی کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ میں تم سے کوئی نیکی نہیں دیکھو ں گا،میں کس طرح تیری حمایت کروں جبکہ تم نے حسین 7اور آل ابو طالب کے جوانوں کوقتل کردیا ہے تو میرے میں یہ نہ سوچے کہ حسین اور خاندان عبدالمطلب کے خاندان کے جوانوں کی کو بھول جاؤںگا:“…وانت قتلت حسيناً … لا تحسبني لا أباً لك نسيتُ قتلك حسيناً وفتيان بني عبد المطلب”۔[24]
ابن عباس نے یزید کو قاتل امام حسین7کےعنوان سےپہچنوایا ہے۔اور ابن عباس کی عظمت اور ان کامقام سب پر عیاں ہےوہ کوئی معمولی شخصیت نہیں ہیں کہ بلاوجہ کسی پر تہمت لگادے بلکہ ان کےتقویٰ اور عدالت پر امت مسلمہ کا اجماع قائم ہے۔
ب۔ اسرائے آل محمدکے ساتھ یزید کا سلوک
اہل سنت کے عظیم مورخ ابن اثیر نے الکامل فی التاریخ میں نقل کیاہےکہ جب اسرا ء،یزید کے دربار میں لائےگئے توامام کا سر مبارک یزیدکے سامنے تھا ، اس کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جس سے وہ امام کےدندان مبارک کی بے حرمتی کررہا تھا۔ ابو برزہ اسلمی سے رہا نہ گیا اور اعتراض کرتے ہوئے یزید سے کہا:”یزید جس دندان مبارک پر تم چھڑی مار رہےہو میں نے رسول خدا 9کوبارہا اس کابوسہ لیتے ہوئے دیکھا ہے!“۔[25]
یزید کی اس اسلام دشمنی پر مبنی حرکت سے پتہ چلتا ہے کہ امام حسین 7کے ساتھ اس کی کتنی دشمنی تھی اس لئےشہادت کے بعدبھی وہ فرزند رسول9کے ہتک حرمت سے باز نہیں آیا۔تو پھر کیسے انکار ممکن ہے کہ وہ قاتل امام حسین 7نہیں ہے جبکہ وہ نہ صرف ابن زیاد کے عمل سے راضی تھا بلکہ اس نے قتل حسین کا حکم دیا تھا اور اس پر فخر بھی کرتاتھا۔
ج۔ یزید کا امام حسین 7 کی شہادت پر اظہار خوشی
ابن اثیر لکھتے ہیں:جب امام حسین7کا سر مبارک دربار یزید میں پہنچا تو یزید نے ابن زیاد کے کام کو سراہا اورنہایت خوشی کا اظہار کرتےہوئے اس کی تعریف کی لیکن کچھ عرصےکے بعدجب لوگوں نے اس کی مخالفت میں آواز بلندکرنا شروع کیاتو اس نے اپنی سیاست میں تبدیلی لائی اوربظاہرناراضگی کااظہارکرنے لگا!“۔ [26]
ابن اثیرنے نقل کیا ہے کہ یزید نے شام کے با اثر لوگوں کو دربار میں جمع کرکے اہل بیت کو دربار میں داخل کرایا اور امام زین العابدین 7سے مخاطب ہوکر کہا:”تیرے باپ نے صلہ رحی کو قطع کیا اور میرے حق کا انکار کیا!تو خدا نے اس سے انتقام لیا!![27]
ان شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ یزید امام حسین7 کو قتل کامستحق جانتا تھااور اپنے اس جرم کو خدا کی طرف نسبت دے رہا تھا۔ یزید سے دفاع کرنے والے کس طرح ان تاریخی حقائق کا انکار یا توجیہ کرتے ہیں؟
د۔ یزید کے کفر آمیز اشعار
اہل سنت کی تاریخ نقل کرتی ہے کہ یزید نے اہل بیت :کو دربار میں حاضر کرکے کفر آمیز اشعار کہکر واقعہ کربلا کو اپنے لئے افتخار شمار کیا ہے۔
ليت أشياخي ببدر شهدوا * جزع الخزرج من وقع الاسل
قد قتلنا الكثير من أشياخهم * وعدلناه ببدر فاعتدل
لست من خندف إن لم أنتقم * من بنی أحمد ما كان فعل[28]
لعبت هاشم بالملك فلا * خبر جاء ولا وحی نزل[29]
اے کاش ہمارے وہ آباء واجداد جو بدر میں مارے گئے وہ زندہ ہوتے تو وہ دیکھ لیتے کہ آل احمد سے ہم نےکیسے انتقام لیا۔ہم نے ان کے بزرگوں کو قتل کرکے بدر کا بدلہ چکادیا ہے۔ اگر آل احمد سے بدلہ نہ لیا ،تومیں بنی خندف سے نہیں ہوں،بنی ہاشم نے حکومت کے ساتھ کھیل کھیلا ہے ان پر نہ کوئی وحی نازل ہوئی ہے اور نہ کوئی فرشتہ اتر آیا ہے!
ھ۔ یزید کا ابن زیادکو اپنے عہدے پر برقرار رکھنا
اگر یزید کی مرضی کے بغیر ابن زیاد نےامام حسین7کو قتل کیا ہے توکیا یزید نے اس کے خلاف کوئی قدم اُٹھایاہے؟ کیا اسے قتل امام حسین7کے جرم میں سزا دی گئی ؟کم از کم خلیفہ کی نافرمانی کرنے کی بناپر اسے عہدہ سے ہٹادیاگیا؟تاریخ نہ فقط اس کی تائید نہیں کرتی ہے بلکہ اس کے برخلاف گواہی دیتی ہے!
و: ابن زیاد مامور تھا نہ خود مختار
کچھ ایسے قرائن بیان کئے جائیں گے جن سے واضح ہوگا کہ یزید نہ صرف ابن زیاد کے کام سے ناراض نہیں تھا بلکہ ابن زیادکواس کی مکمل حمایت حاصل تھی اسی بناپرمعرکہ کربلا وجود میں آیا تھا۔
الف: ابن زیاد کو خود یزید نے کوفہ میں حضرت مسلم کے زیر قیادت وجود میں آنے والا انقلاب کو روکنے کے لئےبھیجا تھا ۔ اگر واقعہ کربلا یزید کی اطلاع کے بغیراور اس کی مرضی کے خلاف واقع ہوا تھا،خلیفہ کے حکم اور مرضی کے خلاف اقدام کرنے پرابن زیاد کومجرم قرار پانا چاہئےتھا۔
ب:اگر ابن زیاد نے امام حسین7کو شہید کیا ہے تو آل محمد شام کے کوچہ وبازار میں کس نے پھرایااور کس کی اجازت سے پھرایاگیا؟امام عالی مقام کے سر مبارک کو سامنے رکھ کر کس نے چھڑی سے دندان مبارک کی بے حرمتی کی؟ یزید کے دربار میں خاندان عصمت کو کس نے ستایا؟ قتل امام حسین7 پر فخرکرتے ہوئے کفر اور شرک آمیز اشعار کس نے کہے؟اسرائے آل محمدکو کس نے زندان میں بند کردیا؟ اس قسم کے بہت سے سوالات تاریخ کے سینے میں ضبط ہیں۔
ابن زیاد، یزید کی ہلاکت کے بعد بھی اپنے عہدہ پر برقرار تھا[30] اور وہ بصرہ اور کوفہ دونوں پر حکومت کررہا تھا اگراس نے یزید کی مرضی اورحکم کے خلاف امام حسین 7کو قتل کیا تھا تو اپنے منصب پر باقی رہنا کس بناپرتھا۔ جبکہ یزید نےمدینہ کےحاکم ولیدکو امام حسین 7سے بیعت نہ لے سکنے اور امام کو قتل نہ کرنے پر فورا ًمعزول کیا تھا۔
یزید، ابن زیاد سے نہ صرف ناراض نہیں تھا بلکہ اسے عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھتا تھا جیساکہ ابن اثیر نے نقل کیا ہے۔ جب امام کا سر مبارک شام پہنچا تو یزید نےخوشی کا اظہار کرتے ہوئے ابن زیاد کی تعریف کی ۔[31]
ج:قتل امام حسین 7پر ابن زیاد کی عزت اور احترام میں اضافہ کرنا:ابن زیاد کو یزیداپنا صاحب اسرار اور امین مانتا تھا جیساکہ اہل سنت کے مایہ ناز مورخ مسعودی مروج الذہب میں لکھتا ہے:”جب واقعہ کربلا کے بعد ابن زیاد شام آیا تو یزید نے ابن زیاد کو اپنے پہلو میں بٹھا یا اور اپنے خدمت گار سے کہا:
اسقني شربة تُروِّي مشاشي* ثم مل فاسقِ مثلها ابن زياد
صاحب السروالامانة عندي*ولتسديد مغنمي وجهادي [32]
مجھے شراب کا جام پلاؤ اور ایک جام ابن زیاد کے لئے بھر دو کیونکہ وہ میرا صاحب اسرار اور امین ہے اور جہاد وغنیمت کے جمع کرنے میں میرامدد گار ہے۔
ح۔معاویہ ابن یزید کا اعتراف
یزید کے بیٹے کا اعتراف اس بات پر اچھی طرح دلالت کرتا ہے کہ امام حسین 7کوقتل کرنے میں یزید کا ہاتھ تھا۔ یزید کی ہلاکت کے بعداس نے اپنی پہلی تقریر میں کہا کہ میرے باپ یزید، حسین 7کا قاتل ہے اور میرے دادا معاویہ نے علی سے خلافت کو غصب کیا ہے اور مجھے اس خلافت سے کوئی سروکار نہیں ہے۔
ابن حجر مکی صواعق محرقہ میں لکھتا ہے معاویہ ابن یزیدنے کہا:” إن هذه الخلافة حبل الله وإن جدي معاوية نازع الامر أهله ومن هو أحق به منه علي بن أبي طالب وركب بكم ما تعلمون حتی أتته منيته فصار في قبره رهينا بذنوبه ثم قلد أبي الامر وكان غير أهل له ونازع ابن بنت رسول الله ثم بكی وقال إن من أعظم الامور علينا علمنا بسوء مصرعه وبئيس منقلبه وقد قتل عترة رسول الله وأباح الحرم وخرب الكعبة؛خلافت خدا کی رسی ہے میرے دادا معاویہ نےاسے علی بن بی طالب7سے ناحق غصب کیا اور جو کچھ چاہا کردیا… پھر میرے باپ کی باری آئی اوروہ بھی خلافت کا اہل نہیں تھا ۔ فرزند رسول سے دشمنی کی!پھر وہ رویا اور کہا …،اس نے عترت رسول خدا 9کوقتل کیا، شراب کو حلال قرار دیا،کعبہ کوخراب کیااوروہ جہنمی ہے“۔[33]
ط۔ ابن زیاد کا اعتراف
ابن زیاد کویزید کی طرف سے حسین 7کے قتل کاحکم دئے جانے کا اعتراف خود ابن زیاد نے کیا ہے:“ أما قتلي الحسين فإنه أشار إليّ يزيد بقتله أو قتلي فاخترت قتله؛یزید نے مجھے دو کاموں میں مخیر کیاتھاکہ:یاتو حسین7کو قتل کردوں یا میں خود قتل ہوجاؤں، لہذا میں نےحسین7کے قتل کو انتخاب کیا!“۔[34]
یزید کےاظہار ندامت کی علت
بعض متعصب لوگ یزیدسے دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یزید نے ابن زیاد پر امام حسین7کو شہید کرنے کی وجہ سے لعنت کی ہے اور پشیمانی کا اظہارکیا ہے اور اہل بیت کو با عزت طورپرمدینہ پہنچایا ہے۔
یزیدکی رفتار میں تبدیلی،اسکے نیک ہونے اور واقعہ کربلا کی ذمہ داری سے بری الذمہ کی دلیل نہیں ہے یذید ی تبلیغی مشینری نے پروپیگنڈا کر رکھا تھاکہ اسلامی ریاست کے خلاف کسی غیر مسلم نے بغاوت کی ہے اور اسلامی لشکر نے اس بغاوت کو کچل دیا ہے لیکن جب اہل بیت شام پہنچے تو کچھ ایسے حالات واقع ہوئے اور شام کی فضا یزید کے خلاف اور آل رسول کے حق میں تبدیل ہونے لگی تو یزید بھی اپنی پالیسی میں تبدیلی لانے پر مجبور ہوا اور یزید اپنے اصل چہرہ پر پردہ ڈالنے اور لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کی۔وہ عوامل جن کی بناپر یزید نے اپنی سیاست بدل دی ان میں سے چند یہ ہیں:
الف۔ امام حسین 7 کے سر مبارک کا نیزے پر قرآن پڑھنا
امام حسین7کے معجزات میں سے ایک معجزہ جو آپ کےسر مبارک سے نمایاں ہواوہ نیزے پر قرآن پڑھنا ہے، اہل سنت کے مایہ ناز مورخ، ابن عساکرجو خود بھی شام سے ہے، لکھتا ہے:” امام حسین7 کے سر مبارک کو تین دن تک شہر میں ایک جگہ پر رکھا گیا اور سر مبارک سے اس آیت کی تلاوت کی آواز آرہی تھی:”أم حسبتم أن أصحاب الكهف والرقيم كانوا من آياتنا عجبا؛[35]کیا تم لوگ گمان کرتے ہیں کہ اصحاب کہف اور رقیم ہماری عجیب نشانیوں میں سے ہیں“۔ [36]
نوک سنان پر سورہ کہف کی تلاوت جہاں ایک طرف سے معجزہ تھا آپ کا وہاں لوگوں کو یہ بات سمجھا رہین تھی کہ حسین اور ان کے ساتھی اصحاب کہف کی طرح حق پرست ہیں جبکہ یزید اور اس کے پیروکار دقیانوس کی طرح کافر اور ظالم ہیں اس کی وجہ سے وہاں کے مسلمانوں کی ذہنیت میں تبدیلی آگئی تھی۔
ب۔ امام سجاد7 اور حضرت زینب 3کےخطبے
دوسرا عامل جس نے شام کے لوگوں کو بیدار اور یزید کو رسوا کیاامام سجاد7کا مسجد اموی میں خطبہ دیناہے۔ اسی طرح حضرت زینب3 نےدرباریزید میں بنی امیہ کے چہرےسے پردہ ہٹایا۔ امام سجاد7نےبازار شام میں خاندان رسالت کی صحیح معرفی کی۔ آپ نے کسی شامی کے جواب میں فرمایا :”کیا تم نے قرآن پڑھا ہے“ ؟ اس نے جب اثبات میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا” کیا تم نے اس آیت کو پڑھی ہے:”قل لا اسئلکم عليه اجرا الا المودة فی القربیٰٰ”[37] کہا :کیا آپ اس آیت کے مصداق ہیں؟ فرمایا: ہاں۔ [38]
جب اہل شام غفلت کی نیند سے بیدار ہوئے تو شہر کی حالت بدل گئی اور یزید کو خوف ہوا کہ کہیں لوگ اس کے خلاف بغاوت نہ کر جائیں لہذا یزید نے حکم دیا کہ اہل بیت:کو زندان سے رہا کیا جائے اور دربار کی عورتوں کو اسرا ئےآل محمد:کے استقبال کرنے کا حکم دیا۔ اور تین دن تک سید الشہدا کے لئے عزاداری کرنے کی اجازت دی گئی۔[39]
اب تک کے مطالب کے روشنی میں معلوم ہوا کہ امام حسین 7 کی شہادت اور آل رسول:کی اسارت کا ذمہ دار یزید اور اس کا والی ابن زیاد ہے۔ خدا ہم سب کو حقیقت سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین۔
منابع و ماخذ
[1]۔ ( ذیل کے تمام منابع، جو اہل سنت کے ہیں“المکتبۃ الشاملہ“نامی سی ڈی سے لئےگئے ہیں)
.[2] abidi1390@yahoo.coom
[3] ۔ شيخ جواد محدثي موسوعة عاشوراء ،ج 1،ص 359۔
[4] ۔ تاريخ الخلفاء ،ج 1،ص 84۔
[5] ۔ منبع سابق۔
[6] ۔ صلابي،الدولة الأموية،ج 2،ص 255-257۔
[7] ۔ تاريخ الخلفاء،ج 1،ص 84۔
[8] ۔ مروج الذهب ،ج 1،ص 377۔
[9] ۔ تاريخ الطبري ،ج 4،ص 368۔
[10] ۔ الادله علي تورط يزيد بدم الحسين ،ج 1،ص 62۔
[11] ۔ تاريخ الطبري ،ج 8،ص 187۔
[12]۔ابن تیمیہ رأس الحسين - ،ج 1 ،ص 207،
[13] ۔ تاريخ الطبري - ،ج 4 ،ص 258۔
[14] ۔ الادله علي تورط يزيد بدم الحسين - ،ج 1 ،ص 3-5۔
[15] ۔ الادله علي تورط يزيد بدم الحسين - ،ج 1 ،ص 3-5۔
[16] ۔ تاريخ اليعقوبي - ،ج 1 ،ص 205۔
[17] ۔ الكامل في التاريخ - ،ج 2 ،ص 151۔
[18]۔علی اصغر رضوانی،واقعه عاشورا، ص89 نقل از ابن اعثم،الفتوح،ج3،جز 5،ص18۔
[19] ۔ الكامل في التاريخ ،ج 2،ص 161؛تاريخ الطبري،ج4،ص 289 ۔
[20] ۔ تاريخ اليعقوبي ،ج 1،ص 206۔
[21].الادله علي تورط يزيد بدم الحسين - ،ج 1 ،ص 28۔
[22] ۔ تاريخ الخلفاء - ،ج 1 ،ص 84۔
[23] ۔ الادله علي تورط يزيد بدم الحسين،ج 1، ص 32،بنقل از کتاب، مقتل الحسين للخوارزمي ج1 ،340 ، ونقل نص الكتاب ابن أعثم في كتاب الفتوح وهو من أعلام القرن الرابع الهجري ج5/150 .
[24] ۔ تاريخ اليعقوبي،ج 1،ص 208۔
[25] ۔ الكامل في التاريخ ،ج 2 ،ص 180۔
[26] ۔ حوالہ سابق،ج 2 ،ص 181۔
[27] ۔ حوالہ سابق،ج 2 ،ص 181۔
[28] ۔ ابن جوزی،المنتظم ،ج 2،ص 199؛ابو الفرج اصبہانی، مقاتل الطالبيين ،ج 1 ،ص 34؛ابن المطهر ،البدء والتاريخ ،ج 1،ص 331؛ الدولة الأموية للصلابي ،ج 2،ص 256؛البداية والنهاية ،ج 8،ص 192؛ تاريخ الطبري ،ج 8،ص 187۔
[29] ۔ تاريخ الطبري - ،ج 8 ،ص 188۔
[30] ۔ الكامل في التاريخ ،ج 2،ص 195۔
[31] ۔ حوالہ سابق،ج 2،ص 181۔
[32] ۔ مروج الذهب،ج 1،ص 377۔
[33] ۔ الصواعق المحرقة - ،ج 2 ،ص 641۔
[34] ۔ الكامل في التاريخ - ،ج 2 ،ص 199۔
[35] ۔ الکہف،آیت 9۔
[36] ۔ مختصر تاريخ دمشق - ،ج 1 ،ص 3418۔۔
[37] ۔ شوری، آیت 23۔
[38] ۔ الدر المنثور ،ج 9 ،ص 66؛ تفسير الطبري - ،ج 21 ،ص 528۔
[39] ۔ سید علی میلانی، ناگفتہ ہای حقائق عاشورا، ص148۔
.....

/169


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
سینچری ڈیل، نہیں