مسجد الاقصیٰ پر صہیونیوں کے تازہ ترین حملوں کے خلاف اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا ردعمل

مسجد الاقصیٰ پر صہیونیوں کے تازہ ترین حملوں کے خلاف اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا ردعمل

ایسے حال میں کہ صہیونی حکومت مظلوم فلسطینیوں اور مسلمانوں کے قبلہ اول کو مسلسل اپنے بہیمانہ حملوں کا نشانہ بنا رہی ہے لیکن اسلامی حکومتوں کی طرف سے نہ صرف کوئی آواز نہیں اٹھ رہی بلکہ بعض عرب رہنما اب بھی اس سرطانی پھوڑے سے تعلقات کو معمول پر لانے کا سوچ رہے ہیں؟!

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کے مطابق، مقبوضہ علاقوں میں صیہونیوں کے نئے جرائم اور مسجد الاقصی کی بے حرمتی کے خلاف اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی نے ایک بیان جاری کیا۔ 

اس بیان کا مکمل متن حسب ذیل ہے:

بسم الله الرحمن الرحیم

«سُبحَانَ الَّذِي أسْرىٰ بِعَبدِهِ لَيلًا مِنَ المَسجِدِ الحَرَامِ إِلَى المَسجِدِ الأقصَى الَّذي بارَكنا حَولَه...».

رمضان ایک ایسا مہینہ ہے جس میں دنیا کے مسلمان مساجد، عبادت، قرآن کی تلاوت اور دعاؤں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ دوسرے مذاہب کے ماننے والے بھی اس مہینے میں مسلمانوں کی مذہبی رسومات سے وابستگی کو سراہتے ہیں جبکہ ان میں سے کچھ تو مسلمانوں کے ساتھ روزے بھی رکھتے ہیں۔

لیکن مجرم صیہونی حکومت جس نے احکام الٰہی سے دور ہونے کے ساتھ ساتھ انسانیت اور ہمدردی کی خوشبو بھی نہیں سونگھی، غاصب آباد کاروں کے ہمدست ہو کر ہر سال اس الہی مہینے میں مقدس ترین مذہبی مقامات کی بے حرمتی کرتی ہے۔

قدس شریف نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ دیگر ابراہیمی مذاہب کے پیروکاروں کے لیے بھی مقدس مقام ہے، اور مسجد اقصیٰ - مسلمانوں کا قبلہ اول اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی معراج کے طور پر – اس مقدس شہر کی زینت ہے ۔

اب یہ کیسے ممکن ہے کہ غاصب صیہونی حکومت اس مقدس مقام کی بے حرمتی کرتی ہے جہاں فرشتے نازل ہوتے رہے ہیں؟ اور نہ صرف اسلامی حکومتوں کی طرف سے کوئی آواز نہیں اٹھ رہی بلکہ بعض عرب رہنما اب بھی اس سرطانی پھوڑے سے تعلقات کو معمول پر لا رہے ہیں؟! اور عالمی ادارے جو خود کو پامال شدہ انسانی حقوق کا محافظ سمجھتے ہیں، انسانیت کے خلاف ہونے والے ان جرائم کے سامنے اپنا فرض کیوں ادا نہیں کرتے؟!

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی - ایک بین الاقوامی تنظیم کے طور پر جس میں عالم اسلام کے سینکڑوں معزز افراد ممبر ہیں - مسجد الاقصی میں ہونے والے حالیہ واقعات کی مذمت کرتے ہوئے مظلوم فلسطینی عوام کی مکمل حمایت کا اظہار کرتی ہے۔ 

اسمبلی اپنے اراکین سمیت دیگر مذاہب کی اہم شخصیات، اسلامی ممالک کے علماء اور مفکرین، عالمی حریت پسندوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور امن کی حامی تنظیموں سے بھی مطالبہ کرتی ہے کہ وہ غاصبوں کے ظلم کی مذمت کرتے ہوئے مقدس مقامات کی حرمت کا دفاع کریں اور بے دفاع فلسطینی عوام کی حمایت کریں۔

بلاشبہ مزاحمت کا سرانجام فتح ہے اور آخر میں ظلم و زیادتی ایک دردناک عذاب الٰہی ہے۔

«تِلْكَ الدَّارُ الآخِرَةُ نَجعَلُهَا لِلَّذِينَ لا يُريدونَ عُلُوًّا في الأرضِ وَلا فَسادًا وَالعاقِبَةُ لِلمُتَّقين».

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی
۲۰/۰۴/۲۰۲۲

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*