مختاری: میراث اہل بیت(ع) کا احیاء علامہ خرسان کا اہم ترین اقدام تھا

مختاری: میراث اہل بیت(ع) کا احیاء علامہ خرسان کا اہم ترین اقدام تھا

اس نشست میں رضا مختاری نے کہا: علامہ خرسان کی قابل توجہ فعالیتوں میں سے ایک میراث اہل بیت(ع) کا احیاء ہے یہ کام ایک بھاری اور طاقت فرسا علمی کام ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ "میراث اہل بیت(ع) کے احیاء میں علامہ خرسان کا کردار" کے عنوان سے علامہ خرسان کے اعزاز میں منعقد کئے جانے والے سیمینار کا پری سیشن ابناء الرسول کی علمی کمیٹی کی جانب اور اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے تعاون سے قم میں اسمبلی کے اجلاس ہال میں منعقد ہوا۔
اس نشست میں رضا مختاری نے کہا: علامہ خرسان کی قابل توجہ فعالیتوں میں سے ایک میراث اہل بیت(ع) کا احیاء ہے یہ کام ایک بھاری اور طاقت فرسا علمی کام ہے۔
شیعہ کتب شناسی انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ نے کہا: علمی میراث کو احیاء کرنے کی پہلی شرط ان متون کی تصحیح اور درست تفہیم ہے۔ خرسان خاندان اس سلسلے میں یدطولیٰ رکھتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا: بحار الانوار کی دس جلدوں میں سے ۹ جلدوں کی تصحیح علامہ خرسان کے عظیم کاموں میں سے ایک ہے۔
مختاری نے کہا: ابن ادریس کے مکمل دورے کی تصحیح علامہ خرسان کا دوسرا عظیم الشان کارنامہ ہے وہ بھی اس زمانے میں جب بالکل سہولیات نہیں تھیں یہاں تک کہ خطی کتابوں کی فہرست بندی تک موجود نہیں تھی۔
انہوں نے کہا: اس زمانے میں کتب خانوں تک رسائی انتہائی دشوار تھی، ان مشکلات کو پیش نظر رکھتے ہوئے علامہ خرسان کی زحمتوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا: بحار الانوار کی 9 جلدوں کے شروع میں انہوں نے تصحیح کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات کو بیان کیا ہے۔
مختاری نے آخر میں کہا: کتاب شیعہ افکار کے آرٹیکل 9 اور 10 میں علامہ خرسان کی سوانح حیات کو بیان کیا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*