"یمن کے خلاف جارحیت کے پہلؤوں کا جائزہ" سیمینار - 17

محترمہ دینا سلیمان: خلیج فارس کی ریاستوں نے یمن میں جاری جرائم پر آنکھیں بند کر لی ہیں

محترمہ دینا سلیمان: خلیج فارس کی ریاستوں نے یمن میں جاری جرائم پر آنکھیں بند کر لی ہیں

انڈونیشیا کے اسلامی انسٹی ٹیوٹ کی سربراہ نے کہا: بلاشبہ یمنی عوام سعودی مظالم کے مقابلے میں ثابت قدم اور با استقامت ہیں اور سعودی عرب جنگ میں شکست کھا چکا ہے چنانچہ وہ یمن میں افراتفری اور عدم استحکام پیدا کرنے کے درپے ہے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی - ابنا - کی رپورٹ کے مطابق، یمن کے مظلوم عوام پر عربی-مغربی-عبرانی جارحیت میں شدت آنے پر بین الاقوامی سیمینار بعنوان "یمن کے خلاف جارحیت کے پہلؤوں کا جائزہ" بروز ہفتہ 5 فروری 2022ع‍ کو اربعین انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام "عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی" اور ہم فکر اداروں کے تعاون سے منعقد ہؤا۔
انڈونیشیا کے اسلامی انسٹی ٹیوٹ کی سربراہ محترمہ ڈآکٹر دینا سلیمان نے سیمینار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے یمن پر امریکی-صہیونی-عربی جارحیت کو بدترین المیوں میں سے ایک، قرار دیا اور کہا: امریکہ اور سعودی عرب - پوری دنیا کے عوام کی عجیب خاموشی میں - یمن کے بے گناہ مردوں، عورتوں پر یلغار کرکے انہیں خاک و خون میں تڑپا رہے ہیں۔
انھوں نے کہا: رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقریبا ایک کروڑ 10 لاکھ یمنی خواتین اور بچوں کو جانی خطرہ لاحق ہے، اور وسائل اور اشیائے خورد و نوش کی قلت نے ان کی زندگی خطرے میں ڈال دی ہے۔
محترمہ ڈاکٹر دینا سلیمان نے مزید کہا: عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی ادارے حتی کہ ان اہم اور انسانی مسائل کو زیر بحث لانا ہی نہیں چاہتے چہ جائےکہ ان کے حل کا کوئی راستہ نکالنے کی کوشش کرے۔
ڈاکٹر دینا سلیمان نے سعودی نظریئے کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب یمن کے عوام کے درمیان فتنہ انگیزی اور تنازعات پیدا کرنا چاہتا ہے، تاکہ اس مظلوم ملک کو غیر مستحکم کرسکے؛ حالانکہ یمن کی انصار اللہ تحریک یمنی عوام کو مختلف قسم کی امداد فراہم کرتی ہے اور انہیں سعودی عرب کے ہاتھوں انسانی قواعد اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور معاندانہ اقدامات کے سامنے مقاومت کریں اور سعودی شرپسندیوں کا سدباب کریں۔
انڈونیشیائی اسلامی انسٹی ٹیوٹ کی سربراہ نے کہا: سعودی عرب یمن میں ایک ایسے آمر کی پشت پناہی کر رہا ہے اور اسے دوبارہ یمن میں مسند اقتدار پر بٹھانا چاہتا ہے جو عوامی انقلاب کے نتیجے میں اپنے عہدے سے استعفا دے کر ملک سے بھاگ چکا ہے اور ریاض کے کسی گمنام ہوٹل میں قیام پذير ہے۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ سعودی عرب یہ کام کس بنیاد پر کررہا ہے؟ سعودی ایک مستعفی آمر کو یمن کا قائد بنانا چاہتا ہے اور وہ خود بھی ظاہرا اپنے آپ کو قائد سمجھتا ہے لیکن کیا ایک قائد و زعیم عوام پر بمباری کروا کر مقبولیت حاصل کرے گا اور ملک کو تباہ کرے گا اور پھر ایک قائد کے طور پر وطن واپس آئے گا؟ یہ کیسی منطق ہے اور کیا جمہوریت اور آزادی کے معنی یہی ہیں؟
انھوں نے سعودیوں کے ہاتھوں یمن کے بنیادی معاشی اور سماجی ڈھانچوں کی تباہی پر تنقید کرتے ہوئے کہا: سعودی عرب اور مغربی ممالک یمن کے قدرتی وسائل کو غصب کرنا چاہتے ہیں اور اس عظیم خطا اور بین الاقوامی قوانین اور مسلمہ اخلاقی قواعد کی خلاف ورزی پر خلیج فارس کی ریاستوں نے بھی آنکھیں بند کرلی ہیں اور دنیا بھر کے ممالک نے بھی۔
انڈونیشیا کے اسلامی انسٹی ٹیوٹ کی سربراہ ڈاکٹر دینا سلیمان نے اپنی تقریر کے آخر میں کہا: انصار اللہ کی اسلامی اور مجاہد تحریک سعودی پالیسیوں سے بخوبی واقف ہے اور جب یمن کی مجاہد تنظیمیں سعودیوں کے حملوں کے پس پردہ حقائق سے آگاہ ہیں، تو وہ یقینا ہتھیار نہیں ڈالیں گی اور کبھی بھی سر تسلیم خم نہیں کریں گی اور باہمی اتحاد و یکجہتی سے سعودیوں کو شکست فاش سے دوچار کریں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*