متحدہ عرب امارات کے جنگی اسرار یمنی فورسز کے ہاتھ لگے

متحدہ عرب امارات کے جنگی اسرار یمنی فورسز کے ہاتھ لگے

یمن کی مسلح افواج نے، غیرقانونی طور سے اپنی سمندری حدود میں داخل ہونے والے متحدہ عرب امارات کے بحری جنگی جہاز کو ضبط کرنے کے بعد اس کے بارے میں مزید نفصیلات جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحی السریع نے اپنے ایک ٹوئٹ میں بتایا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے مال بردار بحری جنگی جہاز کے ذریعے اسلحہ اور فوجی سازوسامان کی منتقلی سے متعلق، نیشنل نیٹ ورک میں موجود ڈیٹا اور فوٹیج کے علاوہ یمن پر جارحیت کرنے والے ملکوں کی بندرگاہوں سے انجام پانے والے فوجی نوعیت کی پروازوں کی مکمل تفصیلات ان کے پاس موجود ہیں جہنیں بہت جلد منظر عام پر لایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یمن کی مسلح افواج نے پہلی بار ایک فوجی اقدام کے ذریعے، اسحلہ اور گولہ بارود لے جانے والے غیر ملکی بحری جہاز کو اس وقت ضبط کیا ہے جب وہ ہمارے ملک کے خلاف مخاصمانہ آپریشن انجام دے رہا تھا۔ یمن کی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے بحری جہاز پر فوجی گاڑیاں، عسکری آلات اور اسلحہ لدا ہوا تھا، جو یمنی عوام کے خلاف استعمال کی غرض سے بھیجا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مذکورہ بحری جہاز اس سے پہلے بھی کئی بار ہماری سمندری حدود میں مخاصمانہ اقدامات انجام دیتا آیا ہے اور ہم اس پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے۔ یمنی فوج کے ترجمان نے کہا کہ بحریہ ملک کی آبی سرحدوں کے دفاع کی ذمہ داریوں پر عمل کرتے ہوئے، دشمن کے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کر رہی ہے۔

دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ سعودی عرب کی سرکردگی میں قائم جارح اتحاد نے، پچھلے چوبیس گھنٹے کے دوران مغربی یمن میں ایک سو اکتالیس بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے شمالی صوبے صعدہ پر بھی پچھلے چوبیس گھنٹے کے دوران کئی بار بمباری کی ہے۔

درایں اثنا یمنی عوام نے صوبہ الحدیدہ کے مختلف شہروں میں جارح سعودی اتحاد کے مجرمانہ اقدامات اور حملوں کے خلاف مظاہرے کیے ہیں۔ مظاہروں میں شریک یمنی شہری اپنے ملک پر سعودی اتحاد کی جارحیت کی مذمت میں نعرے لگا رہے تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ یمن کی سمندری حدود اور ہماری سرزمین، جارح فوجیوں کے لیے قبرستان ثابت ہوگی۔ مظاہرے میں شریک یمنی شہریوں نے ملکی دفاع کا عزم ظاہر کیا اور یہ بات زور دے کر کہی کہ ، وہ پوری قوت کے ساتھ سعودی جارحیت کا مقابلہ کرتے رہیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*