ماہ مبارک رمضان؛ 30 دن، تیس پیغامات - 7

ماہ مبارک رمضان؛ 30 دن، تیس پیغامات - 7

جو بھی گروہ اللہ کی یاد کے لئے مجلس بپا کرے ایک منادی آسمان سے ندا دیتا ہے کہ [اے مجلس کے شرکاء] اٹھو، میں نے تمہارے گناہوں کو حسنات (نیکیوں) میں تبدیل کیا اور تم سب کو بخش دیا"۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔
رمضان کا ساتواں نکتہ: ذکر خدا
ذکر خدا کی اہمیت اور ضرورت
1۔ ذکر و یاد خدا میں زیادہ روی قابل تعریف
دنیا کے زیادہ تر اعمال میں زیادہ روی اور افراط سے منع کیا گیا ہے لیکن خدا کی یاد اور اس کے ذکر میں افراط قابل تعریف ہے۔ خدائے متعال ارشادہ فرماتا ہے:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْراً كَثِيراً؛ (37)
اے ایمان لانے والو! اللہ کو بہت یاد کرو"۔
2۔ ذکر خدا ہر قسم کے حالات میں
"وَاذْكُر رَّبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعاً وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالآصَالِ وَلاَ تَكُن مِّنَ الْغَافِلِينَ؛ (38)
اور اپنے پروردگار کو یاد کرو اپنے دل میں بھی گڑ گڑاہٹ کے ساتھ اور ڈری سہمی حالت میں اور زبان سے بھی ایسی آواز سے جو زیادہ اونچی نہ ہو صبح اور شام اور غفلت کرنے والوں میں سے نہ ہو"۔
3۔ ذکر خدا ہر صورت میں
"الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللّهَ قِيَاماً وَقُعُوداً وَعَلَىَ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذا بَاطِلاً سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ؛ (39)
جو اللہ کو کھڑے، بیٹھے اور کروٹ میں یاد کرتے رہتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرتے رہتے ہیں۔ اے ہمارے پالنے والے!تو نے اس سب کو بے کار نہیں پیدا کیا ہے۔ تیری ذات ہر برائی سے بری، اب تو ہمیں دوزخ کے عذا ب سے بچا"۔
ذکر خدا کے آثار
1۔ دلوں کا سکون:
"الَّذِينَ آمَنُواْ وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللّهِ أَلاَ بِذِكْرِ اللّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ؛ (40)
جو لوگ ایمان لائیں اور ان کے دل یاد الٰہی سے سکون پائیں؛ آگاہ رہنا کہ اللہ کی یاد سے دلوں کو سکون ہوتا ہے"۔
2۔ اعمال کا نیک ہوجانا
امیرالمؤمنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں:
"مَنْ عَمَرَ قَلبَهُ بِدَوامِ ذِكْرِهِ حَسُنَتْ أفْعالُهُ فِي السِرِّ وَالجَهْرِ؛ (41)
جو اپنے دل کو یاد خدا کے دوام سے آباد کرے، اس کا عمل - پوشیدہ اور علانیہ - نیک ہوجاتا ہے"۔
3۔ شیطان کے مقابلے میں مستحکم قلعہ
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:
"ذِكْرُ اللهِ عَلَمُ الإيمَانِ وَبُرْءٌ مِنَ النِّفاقِ وَحِصْنٌ مِنَ الشَّيطانِ وَحِرزٌ مِنَ النَّارِ؛ (42)
یادِ خدا ایمان کی نشانی، نفاق [منافقت] سے بیزاری، شیطان کے مقابلے میں مضبوط قلعہ اور [دوزخ کی] آگ سے حفاظت کرنے والی ہے"۔
4۔ مغفرت اور حسنات
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:
"مَن ذَكَرَ اللهَ فِي السُّوقِ مُخلِصاً عِندَ غَفلَةِ النّاسِ وَشُغْلِهِم بِما فِيهِ كَتَبَ اللهُ لَهُ ألفَ حَسَنَةٍ وَيَغفِرُ اللهُ لَهُ يَومَ القِيامَةِ مَغْفِرَةً لَمْ تَخطُرْ عَلَی قَلبِ بَشَرٍ؛ (43)
جو شخص بازار [اور منڈی] میں خدا کو اخلاص کے ساتھ یاد کرے جبکہ دوسرے لوگ [خدا کی یاد سے] غافل ہوتے ہیں اور بازار کے کاموں میں مصروف ہوتے ہیں، خدا اس کے لئے ہزار نیکیاں لکھتا ہے اور روز قیامت اس کو اس طرح سے بخشتا ہے کہ جسے بنی نوع انسان نے تصور تک نہ کیا ہو"
5۔ گناہوں کا نیکیاں میں بدل جانا
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:
"مَا جَلَسَ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اَللَّهَ اِلاّ ناداهُمْ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ قُومُوا فَقَدْ بَدَّلْتُ سَيِّئَاتِكُمْ حَسَنَاتٍ وغَفَرْتُ لَكُمْ جَمِيعاً؛ (44)
جو بھی گروہ اللہ کی یاد کے لئے مجلس بپا کرے ایک منادی آسمان سے ندا دیتا ہے کہ [اے مجلس کے شرکاء] اٹھو، میں نے تمہارے گناہوں کو حسنات (نیکیوں) میں تبدیل کیا اور تم سب کو بخش دیا"۔
قدر کی راتوں کی مجالس، ہر روز تلاوت قرآن کی محافل وہی مجالس ہیں جو یاد خدا کے لئے بپا ہؤا کرتی ہیں، گو کہ شاید ہم ان مجالس میں شریک ہوکر بھی اس حقیقت کی طرف متوجہ نہ ہوں!۔
...
بقول سعدی شیرازی:
دوش مرغی به صبح می­نالید
عقل و صبرم ببرد و طاقت و هوش
یکی از دوستان مخلص را
مگر آواز من رسید به گوش
گفت باور نداشتم که تو را
بانگ مرغی چنین کند مدهوش
گفتم این شرط آدمیت نیست
مرغ تسبیح گوی و من خاموش
ترجمہ:
کل رات کو صبح کے وقت ایک پرندہ فریاد کررہا تھا
جس نے میری عقل و صبر اور طاقت و ہوش کو چھین لیا
ایک مخلص دوست کو
مگر پہنچی میری فریاد
کہنے لگا مجھے یقین نہ تھا کہ تمہیں
ایک پرندے کی آواز اس قدر مدہوش کرے گی میں نے کہا یہ آدمیت کی شرط نہیں ہے کہ
ایک پرندہ تسبیح میں مصروف رہے اور میں خاموش رہوں
...
 بہشتی قصر اور تسبیحات اربعہ
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:
[شب معراج] جب عرش پروردگار پر پہنچا، خُلدِ بریں میں داخل ہؤا۔ وہاں میں نے بعض فرشتوں کو دیکھا جو سونے اور چاندی کی اینٹوں سے ایک بڑی عمارت تعمیر کررہے ہیں، لیکن کبھی اچانک کام کاج چھوڑ دیتے ہیں۔
میں نے ان سے سبب پوچھا تو کہنے لگے: جب بھی یہ اینٹیں ہم تک پہنچتی ہیں ہم اپنے کام میں مصروف ہوجاتے ہیں اور جب اینٹیں نہیں ملتی تو کام چھوڑ دیتے ہیں۔
میں نے پوچھا: یہ اینٹیں ہیں کیا؟
فرشتوں نے عرض کیا: جب مؤمن "سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ،" کو پڑھتا ہے، ہم اس کے لئے عمارت تعمیر کرتے ہیں اور جب خاموش ہوجاتا ہے، ہم بھی کام چھوڑ دیتے ہیں"۔ (45)
...................
تحریر: ابوالفضل ہادی مَنِش
ترجمہ: فرحت حسین مہدودی
...................
1۔ سورہ احزاب، آیت 41.
2۔ سورہ اعراف، آیت 205.
3۔ سورہ آل عمران، آیت 191.
4۔ سورہ رعد، آیت 28.
5۔ عبد الواحد بن محمد تميمى آمدى، غرر الحکم، ص 690 (یک جلدی).
6۔ مستدرک الوسائل، ج5، ص285.
7۔ شیخ حر عاملی، وسائل الشیعہ، قم، مؤسسۃ آل البیت علیہم السلام، ج7، ص166۔
8۔ احمد بن فہد الحلی، عدۃ الداعی، ص238؛ وسائل الشیعہ، (آل البیت علیہم السلام) ج7، ص153۔
9۔ علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج18، صص 292 و 409؛ ج73، ص 346۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*