ماہ مبارک رمضان؛ 30 دن، تیس پیغامات - 6

ماہ مبارک رمضان؛ 30 دن، تیس پیغامات - 6

منقول ہے کہ ایک دن چار افراد نے ایک تابوت کو اپنے کندھوں پر اٹھایا ہؤا تھا اور اسے لوگوں کی بھیڑ میں سے گذار رہے تھے اور لوگ بھی اس تابوت کی طرف تھوکتے اور گندگی پھینکتے تھے۔ کسی نے پوچھا کہ "ماجرا کیا ہے؟"

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ثقافتی صفحات؛

رمضان کا چھٹا نکتہ: غفلت
غفلت کے دنیاوی اثرات
1۔ پرمشقت زندگی
خداوند متعال قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
"وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكاً؛ (1)
اور جو میرے ذکر (یاد اور نصیحت) سے روگردانی کرے گا تو اس کے لئے سخت زندگی ہوگی"۔
2۔ شیطان کے ساتھ ہم نشینی
خداوند متعال قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
"وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَاناً فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ؛ ()
اور جو خدا کے ذکر (یاد) سے اندھا رہتا ہے، اس پر ہم ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں تو وہ اس کے ساتھ ساتھ رہتا ہے"۔
3۔ شیطان وسوسہ ڈالنے کی طاقت کیونکر پا لیتا ہے؟
امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:
"لا يَتَمَكَنُ الشَّيْطانُ بِالوَسْوَسَةِ عَنِ العَبْدِ إلاّ وَقَدْ أعْرَضَ عَن ذِكْرِ اللهِ وَاسْتَهَانَ بِأَمْرِهِ وَسَكَنَ اِلی نَهيِهِ وَنَسِیَ إطِّلاعَهُ عَلَی سِرِّهِ؛ (3)
شیطان بندے کے وسوسے کے حوالے سے طاقت نہیں پاتا، سوا اس کے کہ وہ (بندہ) خدا کی یاد سے روگردان ہوجائے، اللہ کے حکم کو لائق اعتنا نہ سمجھے، اور ان امور سے لاپروائی اختیار کرے جن سے اللہ نے باز رکھا ہے [یعنی نافرمانی سے خائف نہیں ہوتا]، اور بھول ہی جائے کہ اللہ اس کے رازوں سے واقف ہے"۔  
4۔ قسی القلبی یا سنگدلی
امام محمد باقر (علیہ السلام) نے فرمایا:
"إیَّاكَ وَالغَفلَةَ فَفیها تَكُونُ قَساوَةُ القَلبِ؛ (4)
غفلت سے پرہیز کرو کیونکہ اس میں سنگدلی اور قسی القلبی ہے [یعنی غفلت سنگدلی کا سبب بنتی ہے]"۔
5۔ اعمال کا تباہ ہوجانا
امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:
"إیَّاكَ وَالغَفْلَةَ فَإِنَّ الْغَفْلَةَ تُفسِدُ الاعْمالَ؛ (5)
غفلت سے پرہیز (اور دوری) کرو کیونکہ غفلت اعمال کو فاسد اور تباہ کردیتی ہے"۔
6۔ نادالی اور جہل
امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:
"مَن غَفَلَ جَهِلَ؛ (6)
جو بھی غفلت کرے نادان رہے گا"۔
غفلت کے اخروی اثرات
1۔ روز محشر کی نابینائی
خدائے متعال ارشاد فرماتا ہے:
"... وَنَحشُرُهُ یَومَ القِیامَةِ أعْمَی؛ (7)
(اور جو میرے ذکر (یاد اور نصیحت) سے روگردانی کرے گا اس کی دنیاوی زندگی سخت ہوگی) اور اور ہم اسے روز قیامت اندھا اٹھائیں گے"۔  
2۔ حسرت و اندوہ بروز قیامت
ابوبصیر نقل کرتے ہیں کہ امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:
"مَا اجْتَمَعَ قَومٌ فی مَجْلِسٍ لَمْ یَذْكُرُوا اللهَ وَلَم یَذكُرُونَا إلاّ کانَ ذلكَ المَجلِسُ حَسرَةً عَلَیهِم یَومَ القِیامَةِ؛ (8)
کوئی بھی گروہ نہیں ہے ایسا کہ کسی مجلس میں اکٹھا ہوجائے اور خدا کو یاد نہ کرے اور ہمیں یاد نہ کرے، مگر یہ کہ وہ مجلس روز قیامت اس [گروہ] کے لئے حسرت اور غم کا سبب ہوگی"۔
3۔ انہیں قیامت میں بھلا دیا جائے گا
ارشاد ربانی ہے:
"نَسُواْ اللّهَ فَنَسِيَهُمْ؛ (9)
وہ اللہ کو بھول گئے تو اس نے انہیں بھلا دیا"۔
4۔ اللہ کا دردناک عذاب
خدائے بزرگ و برتر کا ارشاد ہے:
"وَالَّذِينَ هُمْ عَنْ آيَاتِنَا غَافِلُونَ * أُوْلَـئِكَ مَأْوَاهُمُ النُّارُ بِمَا كَانُواْ يَكْسِبُونَ؛ (10)
اور وہ جو ہماری آیتوں (اور نشانیوں) سے بے پرواہ ہیں * یہ وہ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ میں ہے ان اعمال کی سزا کے طور پر جو وہ کرتے تھے"۔
شیطان کی پیروی کا انجام
منقول ہے کہ ایک دن چار افراد نے ایک تابوت کو اپنے کندھوں پر اٹھایا ہؤا تھا اور اسے لوگوں کی بھیڑ میں سے گذار رہے تھے اور لوگ بھی اس تابوت کی طرف تھوکتے اور گندگی پھینکتے تھے۔ کسی نے پوچھا کہ "ماجرا کیا ہے؟"۔  
جواب ملا: یہ شخص طویل عرصے سے شہر کی جامع مسجد کا مؤذن تھا۔ مسجد کے اطراف میں ایک عیسائی عورت اپنے گھر میں تنہا، رہتی تھی۔ ایک دن اذان دیتے وقت اس کی آنکھ عیسائی عورت پر پڑی، اور شیطان نے اس کے دل میں وسوسہ ڈال دیا چنانچہ یہ مؤذن عیسائی عورت کے پاس گیا اور اس کو شادی کی پیشکش کردی؛ لیکن عورت نے جواب دیا اور کہا: "صرف اس صورت میں تجھ سے شادی کروں گی کہ توسلام سے ہاتھ کھینچ لے اور زُنّار (11) باندھ لے۔ مؤذن اس کی شرط قبول کرلیتا ہے؛ زنار باندھ لیتا ہے اور شراب نوشی کرتا ہے لیکن جس دن اس عورت کے پاس جانے کا ارادہ کرتا ہے تو عورت اپنے وعدے پر عمل نہیں کرتی اور اس سے بھاگ جاتی ہے۔ مؤذن اس عورت کے گھر کی دیوار سے اوپر چڑھ کر گھر میں داخل ہونے کی کوشش میں، دیوار سے گرتا ہے اور اس کی گردن ٹوٹ جاتی ہے اور مر جاتا ہے؛ اور اب لوگ اس انداز سے اس کے جنازے کی خاطر مدارت کررہے ہیں"۔  (12)
...................
تحریر: ابوالفضل ہادی مَنِش
ترجمہ: فرحت حسین مہدودی
...................
1۔ سورہ طٰہٰ، آیت 124۔
2۔ سورہ زخرف، آیت 36۔
3۔ مصباح الشریعۂ امام صادق (علیہ السلام)، ج1، ص 178۔
4۔ علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج78، ص164۔
5۔ تمیمی الامدی، غرر الحکم و درر الکلم، باب الغفلہ۔
6۔ وہی ماخذ۔
7۔ سورہ طٰہٰ، آیت 124۔
8۔ علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج75، ص468۔
9۔ سورہ توبہ، ص67۔
10۔ سورہ یونس، آیات 7-8
11۔ زُنّار وہ دھاگا یا زنجیر جو عیسائی اور یہودی کمر میں باندھتے ہیں۔ [urdulughat[.]info]
12۔ مصابیح القلوب امام صادق (علیہ السلام)، ص71۔


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*