ماہ مبارک رمضان؛ 30 دن، تیس پیغامات - 4

ماہ مبارک رمضان؛ 30 دن، تیس پیغامات - 4

مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) ایک پاگل کے پاس سے گذرے تو فرمایا: "اس شخص کو کیا ہؤا ہے؟"، کہا گیا کہ "وہ مجنون (دیوانہ یا پاگل) ہے۔ آپ نے فرمایا: [نہیں!] بلکہ وہ مریض ہے، مجنون تو وہ ہے جو دنیا کو آخرت پر مقدم رکھے"

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ رمضان کا چوتھا نکتہ: نادانی سے پرہیز
عقل و تفکر کی اہمیت اور ضرورت
1۔ غلط افکار سے دوری کی ضرورت
امام علی بن الحسین زین العابدین (علیہ السلام) نے فرمایا:
"عَجِبتُ لِمَن یَتَفَكَرُ فی مَأکولِهِ كَیفَ لایَتَفَكَرُ فی مَعقولِهِ فَیُجَنِّبُ بَطنَهُ مَا یُؤْذیهِ وَیودِعُ صَدرَهُ ما یُریدُ؛ (1)
مجھے حیرت ہے اس شخص سے کہ اپنے کھانے پینے کی اشیاء کے بارے میں تو سوچ بچار سے کام لیتا ہے، لیکن اپنے افکار میں غور و تفکر سے کام نہیں لیتا؛ اپنے پیٹ کو غیر صحتمند غذاؤں سے محفوظ رکھتا ہے، لیکن اپنی سوچ کو اس کی چاہتوں اور خواہشوں میں چھوڑ دیتا ہے"۔
2۔ عقلمندی نیکیوں کی طرف راہنما
امام علی بن الحسین زین العابدین (علیہ السلام) نے فرمایا:
"اَلْعَقْلُ دَلیلُ الخَیرِ وَالهَوی مَركَبُ المَعاصِی وَالفِقْهُ وِعاءُ العَمَلِ وَالدُّنیا سُوقُ الآخِرَة؛ (2)
عقل کی پیروی [عقلمندی] نیکیوں کی طرف کا راہنما ہے اور ہوائے نفس گناہوں کی سواری ہے، فہم [اور سمجھ بوجھ] عمل کا ظرف [برتن] ہے اور دنیا آخرت کا بازار ہے"۔
عقلمندی کے اثرات
1۔ عقل جزائے الہی کا معیار  
امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:
"إذَا عَلِمْتُمْ مِنْ رَجُلٍ حَسُنَ حالُهُ فَانْظُروا فِي حُسْنِ عَقلِهِ فَإنَّما یُجْزَی الرَّجُلُ بِعَقْلِهِ؛ (3)
ہرگاہ تم ایک شخص کی نیک حالی سے مطلع ہوجاتے ہو، تو اس کی عقل کی نیکی [حسن عقل] پر نظر ڈالو، پس انسان کو اس کی عقل کے مطابق، جزا (اور پاداش] دی جاتی ہے"۔
2۔ ہر بات کی تصدیق نہ کرنا
امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:
"إذَا أرَدتَ أنْ تَختَبِرَ عَقلَ الرَّجُلِ فِي المَجلِسِ الواحِدِ فَحَدِّثْهُ في خِلالِ حَدیثِكَ بِما لَا تَكُونُ فَإنْ أنكَرَهُ فَهُوَ عاقِلٌ وَإنْ صَدَّقَهُ فَهُوَ أحمَقٌ؛ (4)
ہرگاہ ایک ہی مجلس میں، کسی شخص کو عقل و خِرَد کے لحاظ سے، آزمانا چاہو، تو اپنی بات چیت کے دوران ایسے واقعے کی خبر دو جس کو رونما نہيں ہونا چاہئے، اگر اس نے اس کا انکار کیا تو عقلمند ہے اور اگر اس کی تصدیق کی تو احمق است"۔
3. دیوانہ / عقل سے محروم، کون ہے؟
"رُوِيَ أنَّ رَسُولَ اللهِ (صَلَّى اللهُ عَلَيهِ وَآلِهِ) مَرَّ بِمَجنُونٍ، فَقَالَ: مَا لَهُ؟ فَقِيلَ: إِنَّهُ مَجنُونٌ فَقَالَ: بَل هُوَ مُصَابٌ، إِنَّمَا المَجنُونُ مَن آثَرَ الدُّنيَا عَلَى الآخِرَةِ (أَي اِختَارَ الدُّنيَا وَفَضَّلَهُ عَلَى الآخِرَةِ)؛ (5)
مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) ایک پاگل کے پاس سے گذرے تو فرمایا: "اس شخص کو کیا ہؤا ہے؟"، کہا گیا کہ "وہ مجنون (دیوانہ یا پاگل) ہے۔ آپ نے فرمایا: [نہیں!] بلکہ وہ مریض ہے، مجنون تو وہ ہے جو دنیا کو آخرت پر مقدم رکھے"۔ (یعنی دنیا اور آخرت میں سے دنیا کا انتخاب کرے اور اس کو آخرت پر مقدم رکھے اور آخرت سے افضل سمجھے)۔
...................
تحریر: ابوالفضل ہادی مَنِش
ترجمہ: فرحت حسین مہدودی
...................
1۔ علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج1، ص218۔
2۔ حسن بن الحسن دیلمی، ارشاد القلوب، ج1، ص59، ح54۔
3۔ علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج1، ص130۔
4۔ علامہ مجلسی، وہی ماخذ۔
5۔ علامہ مجلسی، وہی ماخذ، ص131۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*