ماہ مبارک رمضان؛ 30 دن، تیس پیغامات - 3

ماہ مبارک رمضان؛ 30 دن، تیس پیغامات - 3

ایمان کے چار ارکان (ستون) ہیں: 1۔ رضا به قضائے الہی (یعنی خدا کے فیصلوں پر راضی ہونا)؛ 2۔ خدا پر توکل (اور بھروسہ) کرنا؛ 3۔ اپنے امور (معاملات) خدا کے سپرد کردا اور 4۔ اللہ کے فرمان کے سامنے سر تسلیم خم کرنا"۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ رمضان کا تیسرا نکتہ: رضا بہ قضاء ہونا (اللہ کی مرضی اور فیصلوں پر رضامندی)
1۔ معاشرے کا عالم ترین شخص
امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:
"إِنَّ أعْلَمَ النّاسِ بِاللهِ أرضاهُم بقَضاءِ اللهِ؛ (1)
یقینا خداشناس ترین وہ ہے جو اللہ کے فیصلوں پر راضی ترین (اور خوشنودترین) ہو"۔
2۔ ایمان کا رکن (ستون)
امیر المؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:
"لِلايمانِ أربَعَةُ أرْکانٍ: الرِّضا بِقَضاءِ اللهِ وَالتّوكُلُ عَلَی اللهِ وَتَفويضُ الأمْرِ إلَی اللهِ وَالتَّسليمُ لامْرِ اللهِ؛ (2)
ایمان کے چار ارکان (ستون) ہیں: 1۔ رضا به قضائے الہی (یعنی خدا کے فیصلوں پر راضی ہونا)؛ 2۔ خدا پر توکل (اور بھروسہ) کرنا؛ 3۔ اپنے امور (معاملات) خدا کے سپرد کردا اور 4۔ اللہ کے فرمان کے سامنے سر تسلیم خم کرنا"۔
3۔ شناخت کامل خدا
ابوالحسن اول حضرت امام علی بن موسی الرضا (علیہ السلام) نے فرمایا:
"يَنْبَغي لِمَن عَقَلَ عَنِ اللهِ أنْ لايَستَبْطِئَهُ في رِزْقِهِ وَلا يَتَّهِمَهُ في قَضَاءِهِ؛ (3)
لازم ہے کہ جس نے خدا کو پہچانا ہے وہ اس (خدا) پر روزی رسانی میں سستی کا الزام نہ لگائے اور اس کو اس کی مرضی اور فیصلوں میں ملزم نہ ٹہرائے"۔
4۔ راضی بہ قضاء صدیقین کے زمرے میں
امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:
"قالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَبدِيَ المُؤمِنَ لا أُصَرِّفُهُ في شَيءٍ إلاّ جَعَلْتُهُ خَيراً لَهُ فَلْيَرْضِ بِقَضائِي وَلْيصْبِرْ عَلَی بَلائي وَلْيَشْكُر نَعْمائي أکتُبُهُ يا مُحَمَّدُ مِنَ الصِّدِّيقِينَ عِنْدي؛ (4)
خدائے بلند مرتبہ نے ارشاد فرمایا ہے: یقینا میں اپنے مؤمن بندے کو کسی چیز کی طرف نہیں بلٹاتا مگر یہ کہ اس چیز کو اس کے لئے خیر و نیکی بنا دیتا ہوں؛ تو اس کو میری قضاء اور میرے فیصلے پر راضی ہونا چاہئے اور میری طرف کی بلاؤں پر صبر کرنا چاہئے اور میری نعمتوں کا شکرگزار ہونا چاہئے۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ)! میں اس [انسان کے نام] کو اپنے پاس صدیقین کے زمرے میں درج کرتا ہوں"۔
5۔ راضی بہ قضاء ہونا ایمان کی نشانی
ابن سنان کہتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا: مؤمن کس طرح جان لے کہ وہ مؤمن ہے؟، امام نے فرمایا:
"بِالتَّسلیمِ لِلّهِ وَالرِّضا فِيمَا وَرَدَ عَلَيهِ مِنْ سُرُورٍ أوْ سَخَطٍ؛ (5)
اللہ کے سامنے تسلیم اور خوشی یا غم کی صورت میں راضی ہونے کے وارد ہونے کے ذریعے [سمجھ لیتا ہے کہ مؤمن ہے]"۔

رضائے الہی کا مقدم ہونا
ایک روز کچھ شیعیان اہل بیت، امام محمد باقر (علیہ السلام) کے گھر میں جمع ہوئے۔ اس دن امام کا ایک فرزند شدید بیماری میں مبتلا اور بستر پر پڑا تھا اور یہ مسئلہ امام کے لئے تکلیف دہ بن گیا تھا؛ یہاں تک کہ مہمان امام کے لئے فکرمند ہوئے اور آپس میں کہنے لگے کہ اگر آپ کے فرزند کو کچھ ہوجائے تو، یقینا آپ کو دکھ کی شدت کی وجہ سے کوئی ناگوار صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تھوڑی دیر بعد اندرونی کمرے سے خواتین کے رونے کی صدا بلند ہوئی، اور امام تیزی سے کمرے میں داخل ہوئے۔ حاضرین سمجھ گئے کہ امام کا فرزند دنیا سے رخصت ہؤا ہے چنانچہ وہ امام کے لئے پہلے سے بھی زیادہ فکرمند ہوئے؛ لیکن اتنے امام باقر (علیہ السلام) کمرے سے باہر تشریف لائے اور حاضرین کی توقع کے برعکس، آپ کو دکھی اور پریشان نہیں پایا اور انھوں نے امام کے اس طرز عمل کا سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا: «ہم بھی پسند کرتے ہیں کہ ہمارے پیارے سالم و تندرست ہوں، لیکن جب اللہ کا امر آ جائے، تو اس کی رضا کو زیادہ پسند کرتے ہیں اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں»"۔ (6)
...................
تحریر: ابوالفضل ہادی مَنِش
ترجمہ: فرحت حسین مہدودی
...................
1۔ الکليني، الكافي، ج2، ص60۔
2۔ وہی ماخذ، ص 180۔
3۔ وہی ماخذ، ص 194۔
4۔ وہی ماخذ، ص194۔
5۔ وہی ماخذ، ص 196۔
6۔ وہی ماخذ، ج3، ص14۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*