ماہ مبارک رمضان؛ 30 دن، تیس پیغامات - 2

ماہ مبارک رمضان؛ 30 دن، تیس پیغامات - 2

امام خمینی (رضوان اللہ تعالی علیہ) قرآن کے ساتھ دائمی طور پر مانوس تھے اور آپ کا بنیادی مطالعہ ہی تلاوت قرآن پر مشتمل تھا اور شب و روز کے دوران سات مرتبہ قرآن کی تلاوت کرتے تھے اور یہ سنت حسنہ آپ کی حیات طیبہ کے آخری دنوں تک جاری رہی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔
رمضان کا دوسرا نکتہ: قرآن کے ساتھ اُنسیت
1- قران کی امامت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا:
"عَلَيكُمْ بِالْقُرآنِ فَاتَّخِذُوهُ إماماً وَقَائِداً؛ (1)
تم پر قرآن کی معیت لازم ہے، پس اس کو اپنا امام اور قائد و زعیم سمجھو"۔
2۔ قرآن کی برتری:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا:
"فَضْلُ الْقُرْآنِ عَلَى سَائِرِ الْكَلَامِ كَفَضْلِ اللَّهِ عَلَى خَلْقِهِ؛ (2)
قرآن کی برتری دوسرے کلاموں پر خدا کی برتری کی طرح ہے اس کی مخلوقات پر"۔
3۔ کلام قرآن کی مٹھاس:
امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا:
"تَعَلَّمُوا کتابَ اللّه تباركَ وتعالی فإنّهُ أحسَنُ الحَديثِ وأبلَغُ المَوعِظَةِ وتَفَقَّهُوا فيه فإنّهُ رَبيعُ القُلوبِ واستَشفُوا بنُورِهِ فإنّه شِفاءٌ لِما في الصُّدورِ وأحسِنُوا تِلاوَتَهُ فإنّهُ أحسَنُ القَصصِ؛ (3)
اللہ تبارک و تعالی کی کتاب کو سیکھ لو کہ وہ بہترین کلام ہے اور آشکار ترین وعظ و نصیحت ہے؛ اور تم اس میں سمجھ بوجھ حاصل کرو، کہ وہ دلوں کی بہار ہے اور اس کی نورانیت سے شفا طلب کرو کیونکہ یقینا اس میں شفا ہے ہر اس چیز کے لئے جو دلوں میں ہے؛ اور بہترین انداز سے اس کی تلاوت کرو؛ کیونکہ وہ بہترین سرگذشت ہے"۔
4۔ قرآن کی جامعیت:
امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:
"مَنْ أرادَ عِلْمَ الاوَّلينَ وَالاخِرِينَ فَلْيثَوِّرِ القُرآنَ؛ (4)
جو شخص اولین و آخرین (گذرے ہؤوں اور آنے والوں) کا علم سیکھنا چاہے، لازم ہے کہ قرآن میں غور و فکر کرے"۔
ابن اثیر الجزری کہتے ہیں کہ "فلیثور القرآن سے مراد یہ ہے کہ اس کے معانی، تفسیر اور قرائت پر غورو فکر کرے۔
قرآن کی مصاحبت کے کے ثمرات
1۔ گناہوں کا کفارہ اور عذاب سے امان:
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:
"عَلَيكَ بِقِرَاءَةِ القُرآنِ فَإنَّ قِرائَتَهُ كَفّارَةٌ لِلذُّنوبِ وَسِتْرٌ مِنَ النَّارِ وَأمَانٌ مِنَ العَذابِ؛ (5)
تجھ پر لازم ہے قرآن پڑھنا، کیونکہ قرآن کی قرائت گناہوں کا کفارہ اور جہنم  کی آگ سے [بچاؤ کا]  پردہ اور عذاب سے امان، ہے"۔
2. اِحیائے قُلوب اور بدکاری اور برائی سے دوری:
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:
"يا بُنَيَّ! لاتَغْفُلْ عَن قِراءَةِ القُرآنِ فَإنَّ القُرآنَ يُحيي القُلُوبَ وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاء وَالْمُنكَرِ؛ (6)
اے میرے فرزند! قرآن کی قرائت سے غفلت مت برتو، کیونکہ قرآن دلوں کو زندہ کرتا ہے اور [انسان کو] بدکاری اور برائی سے باز رکھتا ہے"۔
فتنوں میں راہنما
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:
"فَإِذَا الْتَبَسَتْ عَلَيْكُمُ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ فَعَلَيْكُمْ بِالْقُرْآنِ فَإِنَّهُ شَافِعٌ مُشَفَّعٌ وَمَاحِلٌ مُصَدَّقٌ‏ وَمَنْ جَعَلَهُ أَمَامَهُ قَادَهُ إِلَى الْجَنَّةِ وَمَنْ جَعَلَهُ خَلْفَهُ سَاقَهُ إِلَى النَّارِ وَهُوَ الدَّلِيلُ يَدُلُّ عَلَى خَيْرِ سَبِيلٍ...؛ (7)
جب فتنے اندھیری رات کی طرح تم پر چھا جائیں، تم پر لازم ہے کہ قرآن کی طرف رجوع کرو، کیونکہ قرآن ایسا شفیع [اور شفاعت کرنے والا] ہے کہ اس کی شفاعت مقبول ہے اور ایسا خبر دینے والا ہے جس کی تصدیق ہوئی ہے، جو اسے اپنے آگے رکھے [اور اپنا راہنما بنائے]، اس کو جنت میں لے جائے گا اور جو اس کو اپنے پیچھے رکھے، اس کو دوزخ میں ہانک دے گا۔ اور قرآن ایسا راہنما ہے جو بہترین راستوں پر راہنمائی فراہم کرتا ہے"۔
قرآن کریم کے ساتھ عملی مؤانست (لگاؤ)
"امام خمینی (رضوان اللہ تعالی علیہ) قرآن کے ساتھ دائمی طور پر مانوس تھے اور آپ کا بنیادی مطالعہ ہی تلاوت قرآن پر مشتمل تھا اور شب و روز کے دوران سات مرتبہ قرآن کی تلاوت کرتے تھے اور یہ سنت حسنہ آپ کی حیات طیبہ کے آخری دنوں تک جاری رہی۔ امام (رضوان اللہ تعالی علیہ) ماہ مبارک رمضان میں ہر روز 10 پاروں کی تلاوت کرتے تھے اور ہر تین دنوں میں ایک قرآن ختم کرتے تھے۔ زندگی کے آخری مہینوں میں آپ نے قرآن کریم کو تین مرتبہ ختم کیا۔ جن دنوں آپ نجف اشرف میں مقیم تھے تو آپ ماہ رمضان میں 10 قرآن ختم کیا کرتے تھے، ایک دفعہ نجف اشرف میں آپ کو آنکھوں کی تکلیف ہوئی؛ ڈاکٹر نے معائنہ کرکے آپ کو آرام کرنے کا مشورہ دیا اور کہا: "قرآن پڑھنا چھوڑ دیجئے!'، امام (رضوان اللہ تعالی علیہ) نے فرمایا: "مجھے آنکھیں قرآن پڑھنے کے لئے درکار ہیں، کیا فائدہ کہ میری آنکھیں ہوں لیکن قرآن نہ پڑھ سکوں"۔ (8)
...................
تحریر: ابوالفضل ہادی مَنِش
ترجمہ: فرحت حسین مہدودی
...................
1۔ متقی الهندی، کنز العمّال،  کنز العمال، ج 1، ص 515، ح 3300۔
2۔ بحار الانوار، ج89، ص19.
3۔ تحف العقول، ص 150.
4۔ متقی ہندی، کنز العمّال، ج1، ص548، ح2454۔ فليُثَوِّر القرآن  سے مراد یہ ہے کہ : أي لينقّر عنه و يفكّر في معانيه وتفسيره وقراءته۔ (ابن اثیر، النہایۃ فی غریب القرآن، ج1، ص223۔
5۔ بحار الانوار، ج89، ص 17.
6۔ کنز العمال، ح 2768.
7۔ علامہ کلینی، ج‏2، ص599؛ شیخ حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج6، ص171؛ علامہ مجلسی، بحار الأنوار، ج74، ص134۔
8۔ یک ساغر از ہزار، ص542۔ [امام خمینی(رح) کی بہو خانم طباطبائی کی یادیں]۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*