ماہ مبارک رمضان؛ 30 دن، تیس پیغامات - 13

ماہ مبارک رمضان؛ 30 دن، تیس پیغامات - 13

خداوند متعال احمقوں (اور نادان لوگوں) کے رزق میں وسعت عطا کرتا ہے تاکہ عقلمند لوگ عبرت [یعنی پند و نصیحت] حاصل کریں کہ [رزق صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے اور] جان لیں کہ دنیا میں محنت اور چارہ گری سے ہی سب کچھ حاصل نہیں ہوتا

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ رمضان کا تیرہواں نکتہ: اللہ کی بندہ نوازی اور درگذر
بندہ نوازی کی عمومیت
خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
1۔ اللہ کی رحمت حاوی ہے
وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ؛ (1)
اور میری رحمت ہر شے کو گھیرے ہوئے ہے"۔
2۔ اللہ نے رحمت کو اپنے اوپر واجب کیا
ارشاد ربانی ہے:
"كَتَبَ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ؛ (2)
اس [اللہ] نے اپنے اوپر رحمت کرنا واجب کر لیا ہے"۔
3۔ کریم جب (انتقام کی) طاقت پائے معاف کرتا ہے
"قالَ اَعْرابيٌ: يَا رَسُوْلَ اللهِ! مَنْ يُحَاسِبُ الخَلْقَ يَوْمَ القِيَامَةِ؟ قَالَ: اللّهُ عزَّوَجَلَّ، قَالَ: نَجَوْنَا وَرَبِّ الكَعْبَةِ! قالَ: وَكَيْفَ ذَاكَ يَا أَعْرَابِيُّ؟! قالَ: لأِنَّ الكَريْمَ إذا قَدَرَ عَفا؛ (3)
ایک اعرابی شخص (بادیہ نشین) نے کہا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) قیامت کے روز مخلوقات کا حساب و کتاب کس کے ہاتھ میں ہوگا؟
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا: خدائے صاحب عزّ و جلال۔  
اعرابی نے کہا: پروردگارِ کعبہ کی قسم! ہم نجات پا گئے۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے پوچھا: وہ کیسے اے اعرابی!
اعرابی نے عرض کیا: کریم کو جب [انتقام لینے کا موقع اور] طاقت ملتی ہے معاف کردیتا ہے"۔
بندہ نوازترین مولا
قوم بنی اسرائیل میں خشک سالی واقع ہوئی اور حضرت موسی (علیہ السلام) نے بنی اسرائیلیوں کو دعائے باران کی غرض سے کوہ طور میں جمع ہونے کی ہدایت کی۔ بہت سے عوام، عرفاء اور درگاہ الہی کے حق شناس لوگ آپ کے ساتھ ہو لئے اور دعا و مناجات میں مصروف ہوئے۔ لیکن طویل دعا و استغفار کے باوجود، ایک قطرہ برابر بارش بھی نہیں آئی۔
موسی (علیہ السلام) نے خدائے حکیم سے پوچھا کہ "دعا کی عدم استجابت کا سبب کیا ہے؟"؛ اور خدا کی طرف سے جواب آیا کہ "تمہارے اس اجتماع میں ایک گنہگار نوجوان ہے جو تمہاری دعاؤں کو بارگاہ حق میں پہنچ جانے کی راہ میں رکاوٹ ہے"۔  
موسی (علیہ السلام) لوگوں کے اجتماع کی طرف آئے اور فرمایا: "وہ گنہگار نوجوان، جو خود جانتا ہے، ہمارے اس اجتماع کو ترک کرکے چلا جائے تا کہ ہماری دعائیں مستجاب ہوجائیں"۔ مگر کوئی نہیں اٹھا؛ ادھر اسی اثناء میں بارش کا آغاز ہؤا ۔
موسی (علیہ السلام) نے التجا کی: اے پروردگار! وہ نوجوان تو ابھی ہمارے اجتماع سے نہیں نکلا ہے [پھر یہ بارش کیونکر شروع ہوئی؟]۔
جواب آیا: اے موسی (علیہ السلام)! جب تم نے ان لوگوں سے خطاب کیا [اور کہا کہ گنہگار نوجوان اٹھ کر چلا جائے تو] وہ نوجوان بہت شرمندہ ہؤا اور لوگوں کے اجتماع میں بےعزتی اور رسوائی سے خوفزدہ ہؤا۔ اور ہم بھی تو اپنے بندے کی شرمندگی نہیں دیکھ سکتے، چنانچہ ہم نے [اس کی قلبی توبہ قبول کرلی اور] اس کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیا اور تم پر باران رحمت نازل کردی۔ (4)
بقول سعدی شیرازی:
ای کریمی که از خزانة غیب
گبر و ترسا وظیفه خور داری
دوستان را کجا کنی محروم
تو که با دشمنان نظر داری
ترجمہ:
اے کریم، جو خزانۂ غیب سے
مجوسی اور نصرانی تیرے وظیفہ خوار ہیں
تو دوستوں کو کب محروم کرتا ہے
تو جو دشمنوں پر بھی نظر رکھتا ہے
بندہ نوازی کی الہی سنت
1۔ گناہوں سے چشم پوشی
امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:
"مَا مِنْ عَبْدٍ يَخْطُو خُطُوَاتٍ فِي طَاعَةِ اللَّهِ إِلَّا رَفَعَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةً؛ (5)
کوئی بھی بندہ نہیں ہے ایسا کہ اللہ کی فرمانبرداری کی راہ میں، متعدد قدم اٹھائے، سوا اس کے، خدائے متعال ہر قدم کے صلے میں اس کے رتبے کی بلندی میں ایک درجے کا اضافہ کرتا ہے، اور اس کے ذریعے اس کا ایک گناہ بخش دیتا ہے"۔
2۔ بندہ نوازی برائے عبرت پذیری
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
"إِنَّ اَللَّهَ وَسَّعَ فِي أَرْزَاقِ اَلْحَمْقَى لِيَعْتَبِرَ اَلْعُقَلاَءُ وَيَعْلَمُوا أَنَّ اَلدُّنْيَا لَيْسَ يُنَالُ مَا فِيهَا بِعَمَلٍ وَلاَ حِيلَةٍ؛ (6)
خداوند متعال احمقوں (اور نادان لوگوں) کے رزق میں وسعت عطا کرتا ہے تاکہ عقلمند لوگ عبرت [یعنی پند و نصیحت] حاصل کریں کہ [رزق صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے اور] جان لیں کہ دنیا میں محنت اور چارہ گری سے ہی سب کچھ حاصل نہیں ہوتا [جب تک کہ اللہ نے ارادہ نہ فرمایا ہو]۔
3۔ درگذر انتقام کے وقت
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
"العَفْوُ عِندَ القُدْرَةِ مِن سُنَنِ المَرْسَلیْنَ وَاَسْرارِ المُتَّقِیْنَ وَتَفسِیْرُ العَفْوِ أنْ لَا تَلْزَمَ صَاحِبَكَ فِیْمَا أجْرَمَ ظَاهِراً وَتَنْسَی مِنَ الأَصْلِ مَا اُصِبْتَ مِنْهُ بَاطِناً وَتَزیْدَ عَلَی الإحْسَانِ إحْسَانَاً وَلَنْ يَجِدَ إلَی ذَلِكَ سَبِیْلاً إلاّ مَنْ قَدْ عَفَا الله ُ وَغَفَرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَزیْنَهُ بِكِرَامَتِهِ وَألبَسَهُ مِنْ نُوْرِ بَهَائِهِ لِأَنَّ العَفْوَ وَالغُفْرَانَ صِفّةٌ مِنْ صِفَاتِ اللهِ تَعَالَی فِيْ أسْرَارِ أصْفيَائِهِ؛ (7)
طاقت کے وقت عفو (درگذر) کرنا انبیاء (علیہم السلام) کی سنتوں اور پرہیزگاروں کے رازوں میں سے ایک ہے اور عفو کے معنی یہ ہیں کہ ظاہری طور پر فریق مقابل کو یہ نہ جتاؤ کہ وہ خطا کا مرتکب ہؤا تھا اور باطنی طور پر اس غلط کام کو سرے سے بھول جاؤ جس کا اس نے ارتکاب کیا تھا اور اس پر اپنے احسان اور نیکی میں مزید اضافہ کرو؛ اور کوئی بھی اس مہم کو سر نہیں کرسکتا مگر یہ کہ اللہ اس کو اپنے عفو و درگذر سے نوازتا ہے اور اس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے، اس کے سابقہ گناہوں کو معاف کرتا ہے، اور اسے اپنی کرامت سے مزیّن کرتا ہے، اور اس کو اپنے نور  اپنی عظمت و کرامت کی روشنی سے مزین کرتا ہے اور اسے اپنے جلال کی روشنی کا لباس پہناتا ہے؛ کیونکہ عفو و بخشش اللہ کی صفات میں سے ایک صفت ہے جو اس [اللہ] نے اپنے برگزیدہ اولیاء کے اسرار میں ودیعت رکھا ہے"۔
...
بقول شاعر "صامت بروجردی"
ای پرده پوش معصیت عاصیان تمام
بر درگه تو دیدة امید خاص و عام
کار تو عفو و بخشش و انعام روز و شب
شغل تو فضل و رحمت و اکرام صبح و شام
جز معصیت نکرده و خواهم ز تو بهشت
ای خاک بر سر من و این آرزوی خام
ترجمہ:
اے نافرمانوں کے گناہوں کے پردہ پوش
خاص و عام کی امیدوں کا مرکز تیری درگاہ ہے
کام تیرا عفو و بخشش اور انعام ہے شب و روز
پیشہ تیرا فضل و رحمت و اکرام ہے صبح و شام
میں نے گناہ کے سوا کچھ بھی نہیں کیا ہے مگر تجھ سے بہشت چاہتا ہوں
خاک ہو میرے سر پر اور اس کچی آرزو پر
...................
تحریر: ابوالفضل ہادی مَنِش
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
...................
1۔ سورہ اعراف، ص156۔
2۔ سورہ انعام، ص54۔
3۔ ورام ابن ابی فراس، تنبیہ الخواطر ونزہۃ النواظر (مجموعۂ ورام)، ج1، ص9۔
4۔ واعظ بیہقی، مصابیح القلوب، ص 212.
5۔ میرزا حسین  نوری الطبرسی، مستدرک الوسائل، ج11، ص258۔
6۔ علامہ الکلینی، الکافی، ج5، ص82۔
7۔ میرزا حسین  نوری الطبرسی، مستدرک الوسائل، ج9، ص5۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*