ماہ مبارک رمضان؛ 30 دن، تیس پیغامات - 12

ماہ مبارک رمضان؛ 30 دن، تیس پیغامات - 12

عاجز و بےبس وہ ہے جس نے ہر مصیبت کے لئے صبر اور ہر نعمت کے لئے شکر اور ہر مشکل سے نکلنے کے لئے راستہ، آمادہ [مہیا] نہ کیا ہو

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ رمضان کا بارہواں نکتہ: صبر اور بردباری
صبر اور بردباری کی ضرورت اور اہمیت
1۔ خاشعین کا عظیم سرمایہ:
خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
"وَاسْتَعِينُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلاَّ عَلَى الْخَاشِعِينَ؛ (1)
اور سہارا لو صبر اور نماز کا اور یقیناً [یا کام] وہ گراں [اور بھاری] ہے مگر [عظمت الہی سے] خشوع رکھنے والوں کے لئے"۔
2۔ مؤمن انسان کی صلاحیت کی نشانی
امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:
"قَدْ عَجَزَ مَنْ لَمْ يُعِدَّ لِكُلِّ بَلاَءٍ صَبْراً وَلِكُلِّ نِعْمَةٍ شُكْراً وَلِكُلِّ عُسْرٍ يُسْراً أَصْبِرْ نَفْسَكَ عِنْدَ كُلِّ بَلِيَّةٍ وَرَزِيَّةٍ فِي وَلَدٍ أَوْ فِي مَالٍ فَإِنَّ اَللَّهَ إِنَّمَا يَقْبِضُ عَارِيَّتَهُ وَهِبَتَهُ لِيَبْلُوَ شُكْرَكَ وَصَبْرَكَ؛ (2)
عاجز و بےبس وہ ہے جس نے ہر مصیبت کے لئے صبر اور ہر نعمت کے لئے شکر اور ہر مشکل سے نکلنے کے لئے راستہ، آمادہ [مہیا] نہ کیا ہو۔ جو بھی آزمائش اور بلا میں - جو فرزند اور مال کے لئے پیش آتی ہے، - اپنے آپ کو صبر پر آمادہ کرو؛ کیونکہ اللہ تعالی اپنی عاریت اور بخشش [تم سے] واپس لے رہا ہے، تاکہ تمہارے شکر و صبر کو آزما لے"۔
امام خمینی (رضوان اللہ تعالی علیہ) صبر و بردباری کا معاصر نمونہ
"... مشکلات و مسائل میں امام خمینی (رضوان اللہ تعالی علیہ) کا صبر و حلم شہرہ آفاق ہے۔ آپ کے عظیم الشان فرزند آیت اللہ سید مصطفی خمینی (رحمۃ اللہ علیہ) کی شہادت کو مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے؛ جو ایک معمولی فرزند نہ تھے بلکہ امام کی پوری عمر کی عبادت، تہجد اور تہذیب نفس کا ثمرہ تھے اور بذات خود علم و معرفت اور بصیرت و بیداری کا ستون سمجھے جاتے تھے۔
امام کو جب اس فرزند ارجمند کی شہادت کی خبر ملی تو آپ نے اسے نہایت صبر و شکر کے ساتھ قبول کیا اور اپنے درس تک کو ملتوی نہیں کیا... یا حتی جب شہید مطہری، شہید بہشتی اور ان کے 72 رفقائے کار (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) کی شہادت پر، ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے کہا جاتا ہے کہ شہادت کی خبر کو پہلی رات نشر نہ کرے، کیونکہ امام رات کے پچھلے پہر کی خبریں ریڈیو سے سنتے ہیں، اور طے پاتا ہے کہ مرحوم سید احمد خمینی اور جناب ہاشمی رفسنجانی (رحمہما اللہ) دوسرے دن امام کی خدمت میں حاضر ہوکر اس واقعے سے آپ کو آگاہ کریں؛ آپ کے گھر والوں سے بھی کہا جاتا ہے کہ ریڈیو کو آپ کے کمرے سے اٹھا دیں۔ لیکن قبل اس کے، کہ کمرے سے ریڈیو کو اٹھایا جائے، امام فرماتے ہيں: "ریڈیو کو اپنی جگہ رکھ دو، میں نے کل کے واقعے کی خبر بیرونی ذرائع ابلاغ سے سن لی ہے"۔ اور وہ اس بڑے نقصان پر نہایت اعلی حوصلے اور ثابت قدمی کے ساتھ جناب ہاشمی رفسنجانی سے فرماتے ہیں: "تقارب آجال شده است"؛ اجلیں قریب ہوچکی ہیں"۔ (3)
صابرین اور بردباروں کی نشانیاں
1۔ مصائب میں اللہ کی پناہ حاصل کرنا
خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
"وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ * الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُواْ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ * أُولَـئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَـئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ؛ (4)
اور آپ خوشخبری دیجئے ان صبر کرنے والوں کو ٭ کہ جب ان کے سامنے کوئی تکلیف دہ بات آئے، تو ان کا قول یہ ہو کہ بلاشبہ ہم اللہ کے ہیں اور بلاشبہ ہمیں اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے ٭ یہ وہ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی طرف سے صلواتیں (اور خاص عنایتیں) ہیں اور رحمت بھی، اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں"۔
2۔ بردباروں کی تین بڑی نشانیاں
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:
"عَلاَمَةُ اَلصَّابِرِ فِي ثَلاَثٍ أَوَّلُهَا أَنْ لاَ يَكْسَلَ وَ اَلثَّانِيَةُ أَنْ لاَ يَضْجَرَ وَاَلثَّالِثَةُ أَنْ لاَ يَشْكُوَ مِنْ رَبِّهِ تَعَالَى لِأَنَّهُ إِذَا كَسِلَ فَقَدْ ضَيَّعَ اَلْحَقَّ وَإِذَا ضَجِرَ لَمْ يُؤَدِّ اَلشُّكْرَ وَإِذَا شَكَا مِنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَدْ عَصَاهُ؛ (5)
صابر کی نشانیاں تین ہیں: اول یہ کہ کسل مندی (سُستی اور کاہلی) سے دوچار نہیں ہوتا؛ دوئم یہ کہ بےچینی کا شکار نہیں ہوتا (اور ہمت و حوصلہ نہیں ہارتا)؛ سوئم یہ کہ اپنے پروردگار کی شکایت نہیں کرتا؛ کیونکہ اگر سست اور کاہل ہوجائے تو حق کو ضائع کرے گا؛ اور اگر ہمت ہار کر بےچین ہوجائے تو اللہ کا شکر بجا نہیں لائے گا اور اگر خدائے عزیز و جلیل کی شکایت کرے تو نافرمانی کا مرتکب ہوجاتا ہے"۔
فرید الدین عطار کے بقول:
روی خود گر ترش سازی از بلا
خویش را از صابران کردی جدا
در بلا وقتی که صابر نیستی
نزد اهل صدق شاکر نیستی
بی شکایت صبر تو باشد جمیل
با کسی کم کن شکایت ای خلیل!
اگر تو آزمائش سے ترش روئی اور شکوہ کرے تو
تو نے اپنے آپ کو صابرین سے الگ کردیا ہے
بلاؤں جب تو صابر نہیں ہے
اہل صدق کے ہاں تو شاکر نہیں ہے
شکوے کے بغیر تیرا صبر ہے جمیل
کسی کے ساتھ بھی کم شکوہ کیا کرو اے خلیل!
...................
تحریر: ابوالفضل ہادی مَنِش
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
...................
1۔ سورہ بقرہ، آیت 45۔
2۔ حسن ابن شعبۃ الحرّانی، تُحَفُ العقول، ص379۔
3۔ رضا مختاری، سیمای فرزانگان، چاپ چهاردهم، 1377 ش، ص381۔
4۔ سورہ بقرہ، آیات 155 تا 157۔
5۔ شیخ صدوق، علل الشرائع، ص498۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*