ماہ مبارک رمضان؛ 30 دن، تیس پیغامات - 11

ماہ مبارک رمضان؛ 30 دن، تیس پیغامات - 11

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا: اپنی خواہشوں کو کم کرو اور موت کو نصب العین قرار دو (اور ہمیشہ مد نظر رکھو)، اور خداوند متعال سے اس طرح سے شرم و حیا کرو، جیسا کہ اس کا حق ہے۔
میں نے عرض کیا: ہم سب اللہ سے شرم و حیا کرتے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ رمضان کا گیارہواں نکتہ: حیا و پاکدامنی
پاکدامنی کی ضرورت اور اہمیت
1۔ مؤمنوں کی نشانی
خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
"وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ؛" (1)
[مؤ‎منین وہ ہیں] جو اپنے پوشیدہ اعضا کی حفاظت کرنے والے [اور پاکدامن] ہیں"۔  

2۔ عفت عامہ
خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
"وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاء بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاء بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُوْلِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاء وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ؛ (2)
اور مومنہ عورتوں سے بھی کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچے رکھیں اور اپنے پوشیدہ اعضاء کی حفاظت کریں اور اپنی زیبائش (اور بناؤ سنگھار) کو ظاہر نہ کریں سوا اس کے جو اوپر سے ظاہر (و آشکار) ہو اور اپنی اوڑھنیوں کو اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھیں اور اپنے بناؤ سنگھار کو ظاہر نہ ہونے دیں کسی پر سوا اپنے شوہروں، اپنے باپ داداؤں یا اپنے شوہروں کے باپ داداؤں، اپنی اولاد، اپنے شوہروں کی اولاد، اپنے بھائیوں، یا اپنے بھتیجوں، یا اپنے بھانجوں، یا اپنی عورتوں، یا اپنی کنیزوں، یا ایسے نوکر چاکروں کے، جن میں جنسی خواہش باقی نہیں رہی ہے، یا ان بچوں کے جو عورتوں کی پوشیدگیوں سے واقف نہ ہوں، اور مؤمن عورتوں کو چاہئے کہ (چلتے ہوئے) اپنے پاؤں زور سے زمین پر نہ ماریں کہ جس سے ان کی پوشیدہ زینت ظاہر ہو جائے"۔
3۔ غیر شادی شدہ نوجوانوں کے لئے پاکدامنی کی ضرورت
خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
"وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحاً حَتَّى يُغْنِيَهُمْ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ؛ (3)
اور عفت و پاکدامنی (اور ضبط نفس) سے کام لینا چاہئے ان لوگوں کو جن کے لئے شادی (کا وسیلہ فراہم نہ ہو) یہاں تک کہ اللہ اپنے فضل و کرم سے انہیں وسعت (اور خوشحالی) عطا فرمائے؛۔
حیا اور پاکدامنی کی حقیقت
حضرت ابوذر نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے مجھ سے مخاطب ہوکر فرمایا:
"يَا أَبَا ذَرٍّ أَ تُحِبُّ أَنْ تَدْخُلَ اَلْجَنَّةَ قُلْتُ نَعَمْ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي قَالَ أَقْصِرْ مِنَ اَلْأَمَلِ وَاِجْعَلِ اَلْمَوْتَى نُصْبَ عَيْنِكَ وَاِسْتَحْيِ مِنَ اَللَّهِ حَقَّ اَلْحَيَاءِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اَللَّهِ كُلُّنَا نَسْتَحِي مِنَ اَللَّهِ قَالَ لَيْسَ كَذَلِكَ اَلْحَيَاءُ وَلَكِنَّ اَلْحَيَاءَ مِنَ اَللَّهِ أَنْ لاَ تَنْسَى اَلْمَوْتَ وَاَلْمَقَابِرَ وَاَلْبِلَى وَتَحْفَظَ اَلْجَوْفَ وَمَا وَعَى وَاَلرَّأْسَ وَمَا حَوَى فَمَنْ أَرَادَ كَرَامَةَ اَلْآخِرَةِ فَلْيَدَعْ زِينَةَ اَلدُّنْيَا فَإِذَا كُنْتَ كَذَلِكَ أَصَبْتَ وَلاَيَةَ اَللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؛ (4)
اے ابوذر! کیا جنت میں داخل ہونا پسند کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، میرا باپ اور میری ماں آپ پر فدا ہوں۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا: اپنی خواہشوں کو کم کرو اور موت کو نصب العین قرار دو (اور ہمیشہ مد نظر رکھو)، اور خداوند متعال سے اس طرح سے شرم و حیا کرو، جیسا کہ اس کا حق ہے۔
میں نے عرض کیا: ہم سب اللہ سے شرم و حیا کرتے ہیں۔
آپ نے فرمایا: وہ حقیقی شرم و حیا نہیں ہے۔ خداوند متعال سے حقیقی حیا یہ ہے کہ: موت کو اور قبر کو [اور اس کے اندر جسم کی] کی فرسودگی اور پوسیدگی کو،  کو کبھی نہ بھولو، اور اپنے اندرون کی نگرانی کرو اور ہر اس چیز کو جو اس کے اندر جمع کرتے ہوں اور اپنے سر [اور دماغ] کا تحفظ کرو اور ہر اس چیز کا جو اس کے اندر گذرتی ہے۔ تو جو شخص آخرت کی عزت و کرامت چاہے، تو اسے دنیا کی چمک دمک کو ترک کردیا چاہئے، تو جب تم اس طرح ہوگے تو اس اللہ کی وَلایت پاؤگے جو عزت و جلال کا مالک ہے"۔  
...
بقول مولانا روم:
این نظر از دور چون تیرست و سم
عشقت افزون می‌شود صبر تو کم
چونکہ یہ نظر [جو تو ڈالتا ہے نامحرم پر] تیر ہے اور زہر
عشق میں تیرے اضافہ ہوگا اور صبر میں تیرے کمی آئے گی
...
مشہور شاعرہ "پروین اعتصامی" کے بقول:
دلت هرگز نمیگشت این چنین آلوده و تیره
اگر چشم تو میدانست شرط پاسبانی را
تیرا دل کبھی بھی اس قدر آلودہ اور سیاہ نہ ہوتا
اگر تیری آنکھ حفاظت و پاسبانی کی شرط سے واقف ہوتی
...
سیدہ فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) عفت و پاکدامنی کی ابدی مثال
ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ و آلہ) نے اصحاب سے پوچھا: "کہو کہ ایک خاتون کے لئے سب سے بہتر چیز کیا ہے جو اس کے لئے دنیاوی صلاح اور اخروی سعادت کا باعث ہو؟"؛ لیکن کسی نے جواب نہیں دیا۔ اجتماع منتشر ہؤا تو حضرت امیرالمؤمنین (علیہ السلام) جو احتماع میں حاضر تھے، گھر واپس آگئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا سوال سیدہ فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کے لئے بیان کیا۔ اور سیدہ نے فرمایا: "بہترین چیز ایک خاتون کے لئے یہ ہے کہ نامحرم مرد اسے نہ دیکھے اور وہ بھی نامحرم مرد کو نہ دیکھے"۔
امیرالمؤمنین (علیہ السلام) مسجد پہنچے اور سیدہ کا جواب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو بتایا؛ اور آنحضرت نے فرمایا:
" فاطِمَةُ بَضعَةٌ مِنِّي؛ (5)
فاطمہ (سلام اللہ علیہا) میرے وجود کا جزو ہے"۔
حیا اور پاکدامنی کی اقسام
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:
"اَلْحَيَاءُ خَمْسَةُ أنْوَاعٍ: حَيَاءُ ذَنْبٍ وَحَيَاءُ تَقْصِيرٍ وَحَيَاءُ كِرَامَةٍ وَحَيَاءُ حُبٍّ وَحَيَاءُ هَيْبَةٍ وَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْ ذَلِكَ أهْلٌ؛ (6)
شرم و حیا کی پانچ قسمیں ہیں: شرم بوقت گناہ، شرم و حیا بوقت خطا، بخشش و کرامت کے وقت کی حیا، محبت اور دوستی کے وقت کی حیا، شکوہ و عظمت کی حیا؛ اور ان میں سے ہر ایک کا اپنا حامل ہوتا ہے"۔
...................
تحریر: ابوالفضل ہادی مَنِش
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
...................
1۔ سورہ مؤمنون، آیت 5۔
2۔ سورہ نور، آیت 31۔
3۔ سورہ نور، آیت 33۔
4۔ شیخ صدوق، أعلام الدین فی صفات المؤمنین، ج1، ص189۔  میرزا حسین  نوری الطبرسی، مستدرک الوسائل، ج8، ص463.
5۔ أبو الحسن علی بن محمد الجلابی الواسطی المالکی، المعروف بابن المغازلی، مناقب أمیر المؤمنین علی بن أبی طالب (علیہ السلام)، ص446.
6۔ شیخ صدوق، من لا يحضرہ الفقیہ، ج3، ص468۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*