ماہ مبارک رمضان؛ 30 دن، تیس پیغامات - 10

ماہ مبارک رمضان؛ 30 دن، تیس پیغامات - 10

ایک دن انس امام حسن مجتبی (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر تھے، کہ اسی اثناء میں امام کی کنیزوں میں سے ایک کنیز داخل ہوئی اور پھولوں کی ڈالی آپ کی خدمت میں پیش کی۔ امام پھولوں کی ڈالی وصول کرکے مسکرائے اور فرمایا: "تم آزد ہو"۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ رمضان کا دسواں نکتہ: نیکی اور احسان
احسان کی ضرورت
1۔ ضرورت نیکوکاری
خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
"وَأَنفِقُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَلاَ تُلْقُواْ بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوَاْ إِنَّ اللّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ؛ (1)  
اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں سے اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور احسان کیا کرو، یقینا اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے"۔

2۔ احسان کرو جیسا کہ...
خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
"وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَأَحْسِن كَمَا أَحْسَنَ اللَّهُ إِلَيْكَ؛ (2)
اور دنیا میں سے اپنا حصہ مت بھولو اور احسان (نیکی) کرو جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے"۔
3۔ عدل اور احسان اور قرابتداروں کا حق
خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
"إِنَّ اللّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ وَإِيتَاء ذِي الْقُرْبَى؛ (3)
یقیناً اللہ عدل اور احسان اور قرابتداروں کو (ان کا حق) دینے کا حکم دیتا ہے"۔
احسان کی پاداش
1۔ خدا کی دوستی
خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
"فَآتَاهُمُ اللّهُ ثَوَابَ الدُّنْيَا وَحُسْنَ ثَوَابِ الآخِرَةِ وَاللّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ؛ (4)
چنانچہ اللہ نے انہیں دنیا کا ثواب (صلہ) بھی دیا اور آخرت کے ثواب کی بہتری؛ اور اللہ احسان (اور نیکی) کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے"۔
2۔ دنیاوی پاداش
خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
"وَقِيلَ لِلَّذِينَ اتَّقَوْاْ مَاذَا أَنزَلَ رَبُّكُمْ قَالُواْ خَيْراً لِّلَّذِينَ أَحْسَنُواْ فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ؛ (5)
اور متقین سے پوچھا گیا: تمہارے کیا تھا جو تمہارے پروردگار نے [تمہارے لئے] اتارا ب نے کیا نازل کیا؟ انھوں نے کہا: اچھا ہی اچھا ان لوگوں کے لئے جنہوں نے اس دنیا میں بھلائی ہے"۔
3۔ اللہ کی پشت پناہی
خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
"إِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ؛ (6)
بتحقیق اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے"۔
احسان کی شرائط
1۔ زیادہ احسان کے ساتھ جواب دیں
خدائے تعالی نے ارشاد فرمایا:
"وَإِذَا حُيِّيْتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّواْ بِأَحْسَنَ مِنْهَا؛ (7)
اور جب تمہیں سلام کیا جائے تو تم اس سے بہتر طریقے سے سلام کرو"۔
2۔ احسان جتانے سے پرہیز
خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تُبْطِلُواْ صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالأذَى كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاء النَّاسِ وَلاَ يُؤْمِنُ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ؛ (8)
اے ایمان لانے والو! اپنی خیرات کو - احسان جتا کر اور ایذا پہنچا کر - اکارت نہ کرو، اس شخص کی طرح جو اپنے مال کو خیرات کرتا ہے لوگوں لوگوں کے دکھاوے کے لئے اور اللہ اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا"۔
امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:
"تَمامُ الإحْسَانِ تَرْكُ المَنِّ بِهِ؛ (9)
احسان جتانے سے پرہیز ہی نیکی اور احسان کی تکمیل ہے"۔
3۔ عدم تفریق
امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:
"المُحسِنُ مَنْ عَمَّ النَّاسَ بِالْاِحْسانِ؛ (10)
محسن (بھلائی کرنے والا یا مخیر انسان) وہ ہے جس کے احسان سے سب (بلا امتیاز) مستفید ہوں"۔
بقول سعدی:
تو نیکویی کن و در دجله انداز
که ایزد در بیابانت دهد باز
تو نیکی کر اور (دریائے] دجلہ میں پھینک
تو خدائے متعال بیاباں میں تجھے پلٹا دے گا
*
کسی نیک بیند به هر دو سرای
که نیکی رساند به خلق خدای
خدا را بر آن بنده بخشایش است
که خلق از وجودش در آسایش است
دونوں جہانوں کو وہی اچھی طرح دیکھ رہا ہے
جو اللہ کی مخلوق کے ساتھ بھلائی کرتا ہے
خدا کی بخشش اس بندے پر ہے
جس کے وجود [اور ہاتھ اور زبان] سے مخلوقات کو سکون اور فائدہ ہو۔

احسان کا ایک احسن نمونہ
ایک دن انس امام حسن مجتبی (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر تھے، کہ اسی اثناء میں امام کی کنیزوں میں سے ایک کنیز داخل ہوئی اور پھولوں کی ڈالی آپ کی خدمت میں پیش کی۔ امام پھولوں کی ڈالی وصول کرکے مسکرائے اور فرمایا: "تم آزد ہو"۔
انس نے عرض کیا: "اے فرزند رسول خدا! اس کنیز نے آپ کو محض پھولوں کی ایک ڈالی کا تحفہ دیا اور آپ نے اس کو آزاد کیا!"۔  
امام حسن (علیہ السلام) نے فرمایا: خداوند متعال کا ارشاد ہے: "وَإِذَا حُيِّيْتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّواْ بِأَحْسَنَ مِنْهَا؛ اور جب تمہیں سلام کیا جائے (اور ایک احسان کے ساتھ تم پر لطف کیا جائے) تو تم اس سے بہتر طریقے سے سلام کرو (اور بہتر احسان سے اس کا جواب دو)"۔ یہ کنیز مجھ پر احسان کرنا چاہتی تھی اور میں نے بھی اس پر احسان کیا اور بہترین احسان یہ تھا کہ میں آزاد کر دیتا (سو میں نے اس کو آزاد کردیا)۔ (11)
بقول سعدی شیرازی؛
به روزگار سلامت شکستگان دریاب
که خیر خاطر مسکین بلا بگرداند
چو سائل از تو به زاری طلب کند چیزی
بده وگر نه ستمگر به زور بستاند
ترجمہ:
سلامتی کے دنوں میں ٹوٹے ہؤوں کی مدد کو جاؤ
کیونکہ مسکین کی خاطر خیر و احسان کرنا، بلاؤں کو دفع کردیتا ہے
جب سائل منت و زاری کرکے تم سے کچھ مانگتا ہے کوئی چیز
دے دو اسے ورنہ تو ظالم جبر کے ساتھ چھین لے گا۔
...................
تحریر: ابوالفضل ہادی مَنِش
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
...................
1۔ سورہ بقره، آیت 195۔
2۔ سورہ القصص، آیت 77۔
3۔ سورہ نحل،  ص90۔
4۔ سورہ آل عمران، آیت 148۔
5۔ سورہ زمر، آیت 10۔
6۔ سورہ عنکبوت، آیت 69۔
7۔ سورہ نساء، آیت 86۔
8۔ سورہ بقرہ، آیت 264۔
9۔ عبد الواحد بن محمد تميمى آمدى، غرر الحکم، باب صدقہ، حدیث 2241۔
10۔ آمدی، وہی ماخذ، بابِ حسن۔
11۔ ابن شہرآشوب مازندرانی، مناقب آل ابی طالب علیہم السلام، بیروت، ج4، ص18۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*