?>

لکھنو؛ بڑے امام باڑے میں مجلس پر پابندی کی صورت میں سیاحوں کو بھی نہ آنے دیا جائے: کلب جواد

لکھنو؛ بڑے امام باڑے میں مجلس پر پابندی کی صورت میں سیاحوں کو بھی نہ آنے دیا جائے: کلب جواد

مولانانے کہاکہ ہم ایک بار پھر انتظامیہ سے کہنا چاہتے ہیں کہ بڑا امام باڑہ مذہبی مقام ہے ،یہاں ہمیشہ کی طرح مجلسیں منعقد ہوتی رہیں گی ۔اگر مجلسوں پر پابندی لگائی گئی تو ہم اس کے خلاف تحریک شروع کریںگے اور کسی بھی طرح کے انجام کی پرواہ نہیں کریں گے

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امام جمعہ مولانا سید کلب جواد نقوی نے ماہ محرم الحرام میں بڑے امام باڑے میں منعقد کی گئی مجلسوں کو لیکر انتظامیہ کی طرف سے درج کی گئی ایف آئی آر اور عدالت میں داخل چارج شیٹ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امام باڑے میں مجلسیں کرنا کب سے جرم ہوگیا ہے؟ اس ایف آئی آر نے یہ ثابت کردیا کہ انتظامیہ کی نیت کیاہے ۔اگر وہ امام باڑے کی مذہبی حیثیت تسلیم کرتے تو مجلسیں برپا کرنے کے خلاف ہم پر ایف آئی آر درج نہیں کی جاتی ۔مولانا نے کہاکہ محرم میں جب ہم نے بڑے امام باڑے میں مجلسیں کرنے کا اعلان کیا تھا اسی وقت انتظامیہ نے کہا تھا کہ ہم ابھی تحقیق کررہے ہیں کہ آیا بڑا امام باڑہ مذہبی مقام ہے بھی یا نہیں !ان کا یہ بیان انڈین ایکسپریس میں نمایاں طورپر شائع ہوا تھا مگر بعض مولوی انتظامیہ کی حمایت میں کہہ رہے تھے کہ انتظامیہ کی طرف سے ایسا کوئی بیان نہیں دیا گیا ،یہ سب جھوٹ ہے ۔مگر آج یہ ثابت ہوگیاکہ انتظامیہ امام باڑوں کی مذہبی حیثیت تسلیم نہیں کرتی ہے ۔پولیس چارج شیٹ میں میرا نام ہے ساتھ ہی مولانا رضا حسین صاحب ،مولانا حبیب حیدر صاحب ،مولانا فیروز حسین صاحب اور دوسرے لوگوں کے نام شامل ہیں ۔اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ انتظامیہ کی نیت کیاہے ۔وہ ہمارے امام باڑوں پر قبضہ کرکے انہیں ’ٹورسٹ پلیس‘ بنانا چاہتی ہے ۔
مولانانے کہاکہ ہم ایک بار پھر انتظامیہ سے کہنا چاہتے ہیں کہ بڑا امام باڑہ مذہبی مقام ہے ،یہاں ہمیشہ کی طرح مجلسیں منعقد ہوتی رہیں گی ۔اگر مجلسوں پر پابندی لگائی گئی تو ہم اس کے خلاف تحریک شروع کریںگے اور کسی بھی طرح کے انجام کی پرواہ نہیں کریں گے ۔اگر یہاں مجلسوں پر پابندی لگے گی تو امام باڑے اور بھول بھلیاں میں ٹورسٹ بھی نہیں آئیں گے۔مولانانے کہاکہ ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں کہ جو غیر ملکی ٹورسٹ امام باڑے میں آتے ہیں ان میں بڑی تعداد ایسی ہوتی ہے جن کے پاس ٹکٹ نہیں ہوتا ،آخر اس بدعنوانی پر ایف آئی آر درج کیوں نہیں کرائی جاتی؟۔ مولانانے کہاکہ جب سے امام باڑوں میں سیاحوں کو آنے کی اجازت ملی ہے اس وقت سے اب تک بڑے اور چھوٹے امام باڑے میں ۹۰ فیصد سیّاح کووڈ کے ضابطوں کی خلاف ورزی کررہے ہیں جس کی تصویریں موجود ہیں ،اس کی ذمہ داری کس کی ہے ؟ اور اس سلسلے میں ایف آئی آر درج کیوں نہیں کی جاتی؟ مولانانے کہاکہ کورونا وبا کے دوران سیاسی و غیر سیاسی ایسی ان گنت ریلیاں ہوئی ہیں جن میں کووڈ پروٹوکول کی خلاف ورزی کی گئی ہے ،ان ریلیوں پر انتظامیہ نے کیوں ایف آئی آر درج نہیں کی؟ صرف بڑے امام باڑے میں مجلسیں منعقد کرنے پر ایف آئی آر درج کرنا یہ واضح کرتاہے کہ انتظامیہ انتقامی کاروائی کررہی ہے ۔
مولانانے کہاکہ ضلع انتظامیہ نے محرم میں برپا کی گئی مجلسوں کو لیکر ہمارے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے اور عدالت میں چارج شیٹ داخل کردی گئی ہے مگر ہم واضح طورپر کہنا چاہتے ہیں کہ ہم نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ محرم میں امام باڑے میں مجلسیں منعقد کی ہیں ۔اگر انتظامیہ کو لگتاہے کہ یہ جرم ہے تو ہمیں گرفتا رکرے۔ مولانانے بتایا کہ علماء نے فیصلہ لیاہے کہ ہم اس کے لیے عدالت ضمانت لینے نہیں جائیں گے ،بلکہ گرفتاری کو ترجیح دیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

مغربی ممالک میں پیغمبر اکرم (ص) کی توہین کی مذمّت
ویژه‌نامه ارتحال آیت‌الله تسخیری
پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی