ایک سوپر پاور کا زوال-18

فوکویاما کے مضمون راٹن ٹو دی کور Rotten to the Core پر تبصرہ (1)

فوکویاما کے مضمون راٹن ٹو دی کور Rotten to the Core پر تبصرہ (1)

ایک فاسد و بدعنوان، جؤاباز اور عورتوں کے رسیا شخص کے اقتدار کی چوٹی پر قابض ہونے کا انجام یہ شرمناک واقعات ہیں جنہیں دنیا کے باسیوں نے بالکل ننگی صورت میں دیکھ لیا اور اب حتی کہ فوکویاما بھی چیخنے لگنے گے ہیں۔ وہ چلّا چلّا کر کہہ رہے ہیں: "ٹرمپ نے امریکہ کے انحطاط و زوال کو حیران کن تیزی کے ساتھ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے زوال کی رفتار میں اضافہ کیا ہے"۔ اور "ہم ثقافتی دوشاخی چیرپھاڑ کے مرحلے پر پہنچ چکے ہیں"۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ [امریکی نظام] اندر سے بوسیدہ (Rotten to the Core) / فوکویاما کے مضمون پر تبصرہ
وائٹ ہاؤس کے سیاستدانوں، پینٹاگون کے فوجیوں اور سیکورٹی اداروں اور پولیس نیز نیشنل گارڈ کے کمانڈروں کے لئے مسلّم ہے کہ امریکہ کے سیاسی اور معاشی نظام میں تسلسل کے ساتھ غیظ و غضب او نفرت کی فصلیں تیار ہوتی ہیں، جس کا سد باب ہونا چاہئے۔
اندر سے بوسیدہ (Rotten to the Core) امریکی نظریہ پرداز فرانسس فوکویاما کے مضمون کا عنوان ہے جو امریکہ کی موجودہ "قابل دید صورت حال" صورت حال کے بارے میں لکھا گیا ہے اور امریکی جریدے "فارن پالیسی" نے اسے شائع کیا ہے۔  
وہ کہتے ہیں "امریکہ دو حصوں میں تقسیم ہوچکا ہے"، فوکویاما سیاسیات کے جاپانی نژاد امریکی استاد اور نظریہ پرداز ہیں جنہوں نے سوویت روس کے زوال کے بعد لبرل جمہوریت کے امریکی نسخے کو منفرد قرار دیا اور اس کو جمہوریت کے واحد معیار کے طور کے طور پر متعارف کرایا لیکن 2010ء کے بعد ان کے نظریات و افکار میں تبدیلی آئی اور امریکی نظام نیز لبرل جمہوریت سے ناامیدی کا اظہار کرنے لگے۔ فوکویاما نے بائڈن کی تقریب حلف برداری کے بعد لکھا:
ٹرمپ نے بالآخر وائٹ ہاؤس کو ترک کردیا لیکن انھوں نے بہت تلخ واقعات کے اسباب فراہم کیے اور اندرونی اور بیرونی سطح پر امریکی سیاسی نظام پر بہت بھاری اخراجات ٹھونس دیئے۔ تقریب حلف برداری نیزوں اور تلواروں کے سائے میں - مارشل لگا کر - منعقد ہوئی اور صرف واشنگٹن میں فوجی، نیشنل گارڈ اور پولیس کی 25000 سے زیادہ نفری تعینات کی گئی تاکہ 6 جنوری کو کیپیٹل ہل پر ہونے والی یلغار اور امریکہ کی عالمی رسوائی کو نہ دہرایا جاسکے۔
یہ فوجی اپریل 2021ء تک، دارالحکومت اور 50 ریاستوں میں چوکسی کی حالت میں تعینات رہیں گے۔ دنیا والے شاہد تھے، کہ امریکہ میں اقتدار کی منتقلی پرامن انداز میں انجام نہ پاسکی جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ امریکی سیاسی نظام میں جمہوریت اپنی افادیت کھو چکی ہے۔ امریکہ میں سیاسی فلاسفر مزید ذریعے انتظامی سسٹم میں اس ملک کے "دانائی کے نظام" کو سیاسی فیصلہ سازی سے نہيں جوڑ سکیں گے۔ جبکہ وہ کہا کرتے تھے: "عقلیتی انتظامات کے ذریعے حکمرانی کی کیفیت اہم ہے نہ کہ "کس شخص کو حکومت کرنا چاہئے"۔  لیکن وہ آج اس ادراک تک پہنچے ہوئے ہیں کہ یہ قضیہ بھی اہمیت رکھتا ہے کہ "کس کو حکومت کرنا چاہئے"۔ ایک فاسد و بدعنوان، جؤاباز اور عورتوں کے رسیا شخص کے اقتدار کی چوٹی پر قابض ہونے کا انجام یہ شرمناک واقعات ہیں جنہیں دنیا کے باسیوں نے بالکل ننگی صورت میں دیکھ لیا اور اب حتی کہ فوکویاما بھی چیخنے لگنے گے ہیں۔ وہ چلّا چلّا کر کہہ رہے ہیں: "ٹرمپ نے امریکہ کے انحطاط و زوال کو حیران کن تیزی کے ساتھ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے زوال کی رفتار میں اضافہ کیا ہے"۔ اور "ہم ثقافتی دوشاخی چیرپھاڑ کے مرحلے پر پہنچ چکے ہیں"۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*