غاصب صہیونی حکومت کی اشتعال انگیزیاں

غاصب صہیونی حکومت کی اشتعال انگیزیاں

عراق و شام سے امریکی فوج کے انخلاء کے پالیسی بظاہر جو بائیڈن انتظامیہ کے لیے قابل قبول نہیں، لیکن عراق میں مقامی مزاحمتی گروہ جس طرح میدان عمل میں فعال نظر آتے ہیں، وہ امریکہ کے وجود کو اتنی آسانی سے برداشت نہیں کریں گے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ غاصب صہیونی حکومت مدتوں سے ایران کے خلاف مختلف بے بنیاد پروپیگنڈے کرتی چلی آرہی ہے، لیکن آج تک نہ اس میں کوئی سچ ثابت ہوا اور نہ ہی اسے اس سازش میں کسی قسم کی کامیابی نصیب ہوئی۔ 25 فروری کو ایک مال بردار بحری جہاز جو صہیونی حکومت کا تھا لیکن اس پر برطانوی پرچم نصب تھا، یہ مشکوک بحری جہاز عمان سی میں مخصوص ہدف کے لیے موجود تھا، تاہم دھماکے کا شکار ہوگیا۔ غاصب صہیونی حکومت اس بحری جہاز کی اصل ملکیت کو خفیہ رکھ کر اسے مخصوص اہداف و مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتی تھی، لیکن دھماکے کے بعد مجبور ہوگئی کہ حقیقت کا اعتراف کرے۔ صہیونی ٹی وی نے ایک بریکنگ نیوز میں اعلان کیا کہ "ایم وی بلیوس زی" نامی بحری جہاد اسرائیلی خفیہ تنظیم کے سربراہ یو سی کوہن کے قریبی دوست کی ملکیت ہے۔ غاصب صہیونی حکومت کے وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی بغیر کسی تحقیق اور ثبوت کے ایران پر اس دھماکے کا الزام تھونپ دیا۔

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے مجید تخت روانچی نے اس تناظر میں یو این او کے سیکرٹری جنرل کے نام خط اور سلامتی کونسل کے نام مراسلے میں ایران کے خلاف اس الزام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کیا ہے۔ تخت روانچی نے اس خط میں تاکید کی ہے کہ حملے کے انداز اور طریقہ کار سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ان مشکوک عناصر کا کام ہے، جو اشتعال انگیز اور شیطانی پالیسیوں سے اپنے ناجائز مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ غاصب صہیونی حکومت اس وقت مختلف داخلی اور خارجی بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے۔ لہذا اس کا قوی امکان ہے کہ وہ بحری جہاز پر حملے کا ذمہ دار ایران کا ٹھہرا کر نہ صرف مظلوم بننا چاہتی ہے بلکہ ملکی اور عالمی رائے عامہ کی توجہ منحرف کرنے کی بھی خواہاں ہے۔ غاصب صہیونی حکومت بحری جہاز کے اس دھماکے کو بہانہ بنا کر خطے میں سلامتی کا بحران پیدا کر رہی ہے، حالانکہ قرائن اس بات کے شاہد ہیں کہ یہ دھماکہ موساد کی منصوبہ بندی سے انجام پایا ہے۔

غاصب صہیونی حکومت کی اس سازش کو دو زاویوں سے تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔ پہلا زاویہ تو وہی ہے جس کی طرف اقوام متحدہ میں موجود ایران کے مستقل مندوب تخت روانچی نے کہا ہے، یعنی اپنے آپ کو مظلوم بنا کر حقیقی مسائل سے رائے عامہ کی توجہ کو منحرف کرنا ہے۔ اس واقعہ کا دوسرا زاویہ یہ ہوسکتا ہے کہ اس وقت خطے میں مقاومت کے اسلامی ممالک کو مسلسل کامیابیاں نصیب ہو رہی ہیں اور خطے میں عدم استحکام کی خواہمشند مغربی، غبری اور عربی ممالک پر مشتمل شیطانی مثلث کو ناکامیاں مل رہی ہیں۔ شام و عراق کے بعد اب یمن میں اس شیطانی مثلث کو جس بحران کا سامنا ہے، اس نے امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کو سخت ترین چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔ غاصب اسرائیل اور اس کے حامی بحری جہاز پر حملے یا کسی اور بہانے سے خلیج فارس کو سلامتی کے بحران سے دوچار کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ اس حقیقت کو نظرانداز کر رہے ہیں کہ اسلامی مقاومت اب عوامی اور عوام میں وسیع اثرو نفوذ کی حامل ہو چکی ہے۔

دوسری جانب غاصب صہیونی حکومت اس وقت اپنی شناخت کے بحران سے بھی دوچار ہے۔ تین مسلسل انتخابات کے باوجود کوئی جماعت حکومت تشکیل دینے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ اسی طرح نیتن یاہو پر مالی بدعنوانی کے حوالے سے عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے، جس میں اس کی سزا یقینی ہے۔ غاصب اسرائیل اپنے سیاسی نیز اپنی شناخت کے بحران سے توجہ ہٹانے کے لیے ایران پر بے بنیاد الزامات لگا کر خلیج فارس میں کشیدگی پھیلانے کے درپے ہے، تاکہ اس بحرانی کیفیت سے سوئے استفادہ کرسکے۔ علاقے کی صورتحال پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ سعودی عرب کی روز افزاں گرتی ساکھ اور اقتصادی و سیاسی بحران خطے میں بعض نئی تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ نئی امریکی انتظامیہ سعودی عرب کے کیرٹ یعنی گاجر کی بجائے اسٹک یعنی چھڑی سے ہانکنا چاہتی ہے۔ اس صورتحال کے خطے کے ان عرب ممالک پر بھی اثرات مرتب ہوں گے، جو سعودی عرب کی پیروی میں مقاومت کے اسلامی بلاک کے خلاف سخت موقف اپنائے ہوئے ہیں۔

عراق و شام سے امریکی فوج کے انخلاء کے پالیسی بظاہر جو بائیڈن انتظامیہ کے لیے قابل قبول نہیں، لیکن عراق میں مقامی مزاحمتی گروہ جس طرح میدان عمل میں فعال نظر آتے ہیں، وہ امریکہ کے وجود کو اتنی آسانی سے برداشت نہیں کریں گے۔ غاصب اسرائیل نے ہمیشہ خطے میں منفی ماحول کو پروان چڑھایا ہے، وہ ایران پر حملے اور امریکہ کو ایران کے مقابلے میں لانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتا رہتا ہے، لیکن ایران کی استقامت اور مضبوط دفاع سامراجی منصوبوں کے راستے میں حائل ہو جاتا ہے۔ غاصب اسرائیل نے مال بردار بحری جہاز کے دھماکے کو ایک بار پھر کشیدگی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن ایران نے اپنے شفاف موقف سے عالمی برادری کو آگاہ کر دیا ہے۔ اب اگر اسرائیل کی طرف سے کوئی اشتعال انگیز کارروائی ہوتی ہے تو ایران اس کا منہ توڑ جواب دینے میں حق بجانب ہوگا اور یہ بھی طے شدہ ہے کہ ایران اپنے دفاع کے معاملے میں کوئی سجمھوتہ نہیں کرتا۔

تحریر؛ ڈاکٹر راشد عباس نقوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

All Content by AhlulBayt (a.s.) News Agency - ABNA is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License