بسلسلۂ شہادت امیر(ع)؛

عمار نے امیرالمؤمنین (علیہ السلام) سے کیا سنا تھا؟!

عمار نے امیرالمؤمنین (علیہ السلام) سے کیا سنا تھا؟!

مالک اشتر سے منقول ہے کہ انھوں نے جنگ صفین کے دوران گھمسان لڑائی کے دوران حسرت کے ساتھ کہا تھا: "کاش ہم علی (علیہ السلام) کو اس دور میں لے جاسکتے جہاں ان کی قدر و عظمت کا ادراک کریں اور ان کی سیرت و تعلیمات کو سر فہرست رکھیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مالک اشتر سے منقول ہے کہ انھوں نے جنگ صفین کے دوران گھمسان لڑائی کے دوران حسرت کے ساتھ کہا تھا: "کاش ہم علی (علیہ السلام) کو اس دور میں لے جاسکتے جہاں ان کی قدر و عظمت کا ادراک کریں اور ان کی سیرت و تعلیمات کو سر فہرست رکھیں"۔

ایران کے مشہور تاریخی اخبار کے ایڈیٹر انچیف نے ایام شہادت امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی مناسبت سے اپنے کالم بعنوان "عمار نے علی(ع) سے کیا سنا تھا" تحریر کیا ہے:

1۔ اس رات شب ایک ہِمّت شِکَن غم و حزن نہ صرف کوفہ کو آسمان پر حاوی تھا بلکہ مُلک و ملکوت کے دونوں جہانوں پر سایہ فگن ہو چکا تھا، ہمارے مولا بار بار آسمان کی طرف دیکھ کر زیر لب آیت کریمہ "إِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَیْهِ رَاجِعُونَ" کو دہراتے رہے تھے۔ اس شب کی سحر کو مسجد کوفہ کی طرف عزیمت کر چکے تھے، خاموشی پورے شہر پر چھائی ہوئی تھی۔ حتی ہوا بھی - اس ڈر سے کہ کہیں اس رات کی خاموشی نہ ٹوٹے - آہٹ پیدا کئے بغیر چل رہی تھی۔ واقعہ کی گھڑی جو آئی اور مولا کی پیشانی جب شکافتہ ہوئی تو منادی نے ندا دی کہ "قُتِلَ عَلِیٌّ فِی مِحْرَابِ عِبَادَتِهِ لِشِدَّةِ عَدْلِهِ؛ علی اپنے عدل کی شدت کی وجہ سے اپنی عبادت کی محراب میں قتل ہوئے"؛ یہ ندا بہت حکمت آمیز تھی۔

2۔ امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کو اپنی مختصر سی پانچ سالہ [ظاہری] خلافت کے دوران تین گروہوں کا سامنا تھا اور تینوں گروہ آپ کے عدل سے گریزاں اور روگردان تھے اور ہر گروہ کا اپنا کوئی بہانہ تھا: ناکثین (1)، جنہوں نے بیعت کرنے کے بعد بیعت توڑ دی اور عہدی شکنی کی۔ وہ علی (علیہ السلام) کو بطور خلیفہ چاہتے تھے لیکن آپ کا عدل نہیں چاہتے تھے۔ دوسرا گروہ قاسطین (2) کا تھا جو معاویہ کی سرکردگی میں، شام پر حکومت کرتے تھے یہ لوگ نہ علی (علیہ السلام) کو چاہتے تھے اور نہ ہی عدل و انصاف کو۔ اور تیسرا گروہ مارقین (3) کا تھا؛ یہ لوگ صفین میں امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کے لشکر سے الگ ہوئے۔ یہ لوگ عدل کو چاہتے تھے لیکن علی (علیہ السلام) کے بغیر۔ قاسطین ہر اس شخص اور گروہ کی حمایت کرتے تھے جو امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کے ساتھ دشمنی کرتا تھا اور ہر اس شخص کے ساتھ دشمنی کرتا تھا جو امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کے کیمپ میں ہوتا تھا۔ ناکثین اور مارقین اگرچہ ایک دوسرے کے خلاف تھے لیکن چونکہ پہلا گروہ علی(ع) کو عدل کے بغیر اور دوسرا گروہ عدل کو علی(ع) کے بغیر چاہتا تھا، لہذا یہ دونوں گروہ آخرکار ایک دوسرے سے جا ملتے تھے اور آخرکار قاسطین کے ملازم بن جاتے تھے۔ اور یہ ان تمام لوگوں کا حتمی مقدر تھا جو کسی بھی وجہ سے امیرالمؤمنین (علیہ السلام) سے دوری اختیار کئے ہوئے تھے۔

3۔ مالک اشتر سے منقول ہے کہ انھوں نے جنگ صفین کے دوران گھمسان لڑائی کے دوران حسرت کے ساتھ کہا تھا: "کاش ہم علی (علیہ السلام) کو اس دور میں لے جاسکتے جہاں ان کی قدر و عظمت کا ادراک کریں اور ان کی سیرت و تعلیمات کو سر فہرست رکھیں"؛ اور عمار نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا تھا کہ "وہ دن آنے ہی والے ہیں"، اور مالک اشتر کو ایسے لوگوں کی آمد کی خوشخبری سنائی تھی جو اپنی ماؤں کی کھوکھوں اور باپوں کی صلبوں میں ہیں اور جب وہ دور آئے گا - جس کی مالک اشتر نے آرزو کی تھی - تو وہ لبیک کہتے ہوئے آئیں گے، وہ لوگ جو "میں" اور "ہم" (اور انانیتوں) کی قید سے آزاد ہوکر خدا تک پہنچے ہونگے۔ نہ تو انہیں نفع و نقصان کی فکر ہوگی نہ ہی ان کے "بود" و "نبود (اور ہونے اور نہ ہونے) کا غم ہوگا۔ وہ خالص محمدی(ص) اسلام کو ہی پورا دل دے بیٹھے ہیں، علی (علیہ السلام) کو اپنا امام، مولا اور مقتدیٰ سمجھتے ہیں [اور اپنے اس اعتقاد میں اس قدر راسخ ہیں کہ کبھی بھی لیت و لعل نہیں کرتے اور کبھی بھی "لیکن"، "مگر"، "کاش"، "افسوس" کی قیدیں لگا کر اپنی پیروی کو مشروط نہیں کرتے]؛ وہ دنیا پر مسلط تسلط پسند نظام کی چھت میں دراڑ ڈالتے ہیں اور نئی طرح ڈالتے ہیں۔ اس زمانے میں - جو آنے والا ہے اور رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے اس کے آنے کی بشارت دی ہے - اسلام اور شرع مبین کے وہ دشمن، جو امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کی دنیاوی حیات کے اختتام کو اسلام کا اختتام سمجھتے تھے، خوف و دہشت میں مبتلا ہو کر امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کے آخرالزمانی اصحاب کا مقابلہ کرنے کے لئے اٹھیں گے اور "الْكُفْرُ أُمَّةً وَاحِدَةً" (4) کی رو سے اپنے تمام اعوان و انصار کو بلائیں گے اور ہر طرف سے یلغار کرتے ہیں۔ ایک بار پھر جمل، صفین اور نہروان دہرائے جائیں گے، لیکن اس بار نہ تو ناکثین جم کر کھڑے ہونے کے قابل ہیں، نہ ان کا عقیدہ عمرو عاص اور معاویہ کے مکارانہ نیزوں کا زخم اٹھائیں گے اور نہ ہی نہروانیوں کا فتنہ انہیں روک سکے گا۔ منافق بوکھلاہٹ اور سراسیمگی حالت میں کہیں گے: "یہ کیا ہؤا کہ اسلام ایک بار پھر - اور اس بار 1400 سال بعد - تاریخ کا حصار توڑ کر میدان میں آیا ہے؟"۔۔۔

"عصر خمینی" اس طرح شروع ہوتا ہے، جو شروع ہؤا۔ وہی عصر جس آرزو مالک نے کی تھی اور عمار نے اس کی بشارت دی تھی اور حضرت روح اللہ نے اس عصر کے لوگوں کے بارے میں فرمایا تھا: "میں جرات کے ساتھ دعویٰ کرتا ہوں کہ ملت ایران اور اس کی کروڑوں کی آبادی موجودہ زمانے میں عہد رسالت کے قوم حجاز سے بہتر اور عہد علوی میں اہلیان کوفہ سے بہتر ہے"۔

۔۔۔ اور ہاں! عمار نے امیرالمؤمنین (علیہ السلام) سے کیا سنا تھا؟ کیا انھوں نے آج کو دیکھا تھا کہ جب ہمارے مولا کے آخرالزمانی اصحاب اُس دن کے گرے ہوئے پرچم کو اٹھائیں گے اور خمینی اور خامنہ کے لشکر میں تسلط پسندوں کی ظلمت زدہ دنیا کی چھتوں میں شگاف ڈالیں گے اور نئی طرح ڈالیں گے؟ ۔۔۔

4۔ حضرت امیر (علیہ السلام) کی شہادت، رہزنوں اور جرائم پیشہ رہزنوں کے زعم اور خواہش کے برعکس، آپ کی فکر و کردار اور سیرت و بصیرت کا اختتام نہ تھی۔ اور زیارت "امین اللہ" کے یہ جملے گویا معصوم (علیہ السلام) کی زبان سے آج کے دور کے لئے صادر ہوئے ہیں:

"أَشْهَدُ أَنَّكَ جاهَدْتَ فِي الله حَقَّ جِهادِهِ وَعَمِلْتَ بِكِتابِهِ وَاتَّبَعْتَ سُنَنَ نَبِيِّهِ صَلّى الله عَلَيْهِ وَآلِهِ  حَتّى دَعاكَ الله إِلى جِوارِهِ فَقَبَضَكَ إِلَيْهِ بِاخْتِيارِهِ وَأَلْزَمَ أَعْدائَكَ الحُجَّةَ مَعَ ما لَكَ مِنَ الحُجَجِ البالِغَةِ عَلى جَمِيعِ خَلْقِهِ؛

گواہی دیتاہوں کہ آپ نے خدا کی راہ میں جہاد کا حق ادا کیا، اس کی کتاب پر عمل کیا اور اس کے نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی سنتوں کی پیروی کی؛ یہاں تک کہ خدا نے آپ کو اپنے پاس بلا لیا اپنے اختیار سے آپ کی روح قبض کرلی اور آپ [کی شہادت کے ذریعے آپ] کے دشمنوں پر حجت قائم کی جبکہ تمام مخلوقات کے لئے، تمام تر حُجَجِ بالغہ براہین کاملہ آپ کے ہاتھ میں ہیں"۔ (5)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ ناکثین یا عہدشکن وہ جنہوں نے ام المؤمنین عائشہ اور طلحہ اور زبیر کی سرکردگی میں جنگ جمل بپا کی تھی۔

2۔ قاسطین یا ظالمین - حق سے روگردانی کرنے والے، جابر، ستم گار، وہ تھے جنہوں نے معاویہ کی سرکردگی میں جنگ صفین بپا کی تھی۔

3۔ مارقین- گمراہ فرقہ، خوارج۔ جنہوں نے جنگ نہروان بپا کی تھی۔

4۔ "کفر کے پیرو ایک ہی امت ہیں" رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے منسوب حدیث۔

5۔ زیارت امین اللہ، مفاتیح الجنان۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*