علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کو اگلے تین سال کے لیے بھاری اکثریت سے جماعت کا چیئرمین منتخب

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کو اگلے تین سال کے لیے بھاری اکثریت سے جماعت کا چیئرمین منتخب

مجلس وحدت مسلمین کے چیئرمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے وحدت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شوری عالی و دیگر عہدیداروں کا اس اعتماد پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اعلی مقاصد کا حصول، ظالموں سے نجات، عدل کے پرچم کی بلندی اور ظلم کی سیاہ رات کے خاتمے کے لیے بنیادی ہتھیار وحدت ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے انٹراپارٹی الیکشن میں علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کو اگلے تین سال کے لیے بھاری اکثریت سے جماعت کا چیئرمین منتخب کر لیا گیا ہے۔انتخابات میں مرکزی، صوبائی اور ضلعی مسﺅلین نے حق رائے دہی استعمال کیا۔ علامہ احمد اقبال رضوی اور علامہ باقر عباس زیدی چیئرمین کے عہدے کے لیے مدمقابل امیدوار تھے۔ ایم ڈبلیو ایم اور دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کے رہنماو ¿ں نے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کو مجلس وحدت مسلمین کا چیئرمین منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ نومنتخب چیئرمین کی کامیابی کا اعلان شوری عالی کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین علامہ صلاح الدین نے وحدت کانفرنس کے استقبالیہ خطاب کے دوران کیا اور قائد وحدت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سے چیئرمین کے عہدے کا حلف لیا۔

مجلس وحدت مسلمین کے چیئرمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے وحدت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شوری عالی و دیگر عہدیداروں کا اس اعتماد پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اعلی مقاصد کا حصول، ظالموں سے نجات، عدل کے پرچم کی بلندی اور ظلم کی سیاہ رات کے خاتمے کے لیے بنیادی ہتھیار وحدت ہے۔دشمن ہماری تحقیر و تذلیل کے لیے ہمیں تفرقوں میں تقسیم کرتا ہے۔امام خمینی رحمتہ اللہ نے تفرقہ پھیلانے والوں کو استعمار کا ایجنٹ قرار دے کر ساری حقیقت واضح کر دی ہے۔ وحدت و اخوت کا راستہ ہی عزت کا راستہ ہے۔ہمارے مجتہدین عظام نے اہلسنت برادران کو اپنا نفس اپنی جان قرار دے کر مذہبی منافرت کا راستہ بند کیا ہے۔ شہید قائد ہمارے رہبر ہیں وہ کہا کرتے تھے کہ پاکستان کے فیصلے واشنگٹن میں نہیں پاکستان میں ہونے جاہیئے۔ وہ ان پست فطرت لوگوں سے نالاں تھے جو امریکی غلامی میں فخر محسوس کرتے۔ملت تشیع اپنے رہبروں سے رہنمائی لیتی ہے۔ہم امریکی نظام کو شیطانی نظام سمجھتے ہیں۔اس نظام کے اندر ظلم ہے۔ہم اس اسلام دشمن نظام سے نفرت کرتے ہیں۔اسرائیل ہمارا دشمن ہے۔ اسرائیل کی غاصب و ظالم ریاست کا خاتمہ ناگزیر ہے۔لیاقت علی خان سے دورعصر تک کی قتل و غارت اور تکفیریت میں امریکہ ملوث رہا ہے۔پاکستان اس وقت مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔اس ملک میں معاشی بحران پیدا کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کو تباہ کرنے والوں کے سامنے ہم نیوٹرل نہیں رہ سکتے۔ہم اس ملک کے باوفا اور جرات مند بیٹے ہیں۔ہر اس چہرے کو بےنقاب کیا جائے گا جو ملک دشمنوں کا خیر خواہ ہے۔کوئی بھی ذی شعور اپنی فوج کو کمزور نہیں دیکھنا چاہتا۔ بیرونی طاقتیں فوج کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔ پاک فوج کے ذمہ داروں کو فیصلہ سازی میں محتاط انداز اپنانا ہو گا۔ہم پاکستان میں بنگال کی تاریخ نہیں دہرانے دیں گے۔ہم مر جائیں گے لیکن وطن کی سالمیت پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ بحران کا واحد حل فوری انتخابات ہے۔خدانخواستہ کسی بڑے جانی نقصان کی صورت میں لگنے والی آگ بجھانی مشکل ہو جائے گی۔تمام مکاتب فکر نے مل کر ان ملک دشمنوِں کا راستہ روکنا ہے جو پوری قوت کے ساتھ ملک کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ہم کسی نئے ایڈونچر کے متحمل نہیں ہیں۔اس ملک کے ساتھ کھلواڑ بند کیا جائے۔ہم نے وطن اور اس کی محافظ فوج کو مضبوط کرنا ہے۔یہ وقت ابلیسی قوتوں کے مقابلے کے لیے بیدار رہنے کا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے لاپتہ نوجوان ایک مہذب اور محب وطن قوم کے بیٹے ہیں۔آج قاتل اقتدار کی کرسی ہر بیٹھے ہوئے ہیں اور محب وطنوں کو جبری لاپتا کیا جا رہا ہے۔ہمارے لاپتہ نوجوانوں کو عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ کیا ریاستی اداروں کو اپنی عدالتوں پر اعتماد نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی کو بحرانوں میں جکڑ کر ایٹمی اثاثوں سے محروم کرنے کا اگر کوئی خواب دیکھ رہا ہے تو وہ احمق ہے۔شیعہ سنی برادران ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گےجماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے مجلس وحدت مسلمین کی دستوری ترامیم کو وقت کے تقاضوں کے مطابق اہم اور خوش آئند قرار دیا۔انہوں نے کہا علامہ ناصر عباس جعفری کا انتخاب دانشمندانہ اور بابصیرت فیصلہ ہے۔مذہبی منافرت کے خاتمے کے لیے معتدل دینی جماعتوں نے عوام میں شعور اور بالغ نظری پیداکی۔پاکستان کو استکباری غلامی سے نجات دلانے کے لیے بھی یہی دینی نظریاتی قائدین کردار ادا کریں گے۔وحدت کانفرنس اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ہم سب کے دل آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ملی یکجہتی کونسل کے رہنما صاحبزادہ ابوالخیر زبیرنے کہا کہ اپنی بے پناہ صلاحیتوں سے ملک کی دینی جماعتوں کو مجتمع کیا۔?ج حقیقی معنوں میں ایسی ہی دانشمند قیادت کی ضرورت ہے۔جماعت اہل حرم کے سربراہ مفتی گلزار نعیمی نے کہا کہ قوم کا حقیقی درد رکھنے والے ہی رہبری کا حق رکھتے ہیں۔

علامہ ناصر عباس جعفری کا اپنی قوم اور دیگر مکاتب فکر کے لیے اخلاص قابل تقلید ہے۔ایسے شخص کو تاحیات سربراہ ہونا چاہیئے۔جماعت اہلحدیث کے امیرضیا اللہ شاہ بخاری نے کہا کہ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا درک کرتے ہوئے فکری ہم آہنگی کے لیے مکمل طور پر بیدار رہنا ہو گا۔فکری انتشار کا خاتمہ حکم ربی ہے۔آج ایک سٹیج پر مختلف مکاتب فکر کے علمائ کی موجودگی وحدت و اخوت کا عملی اظہار ہے۔شیعہ علمائ پاکستان کے صدر سید حسنین گردیزی نے کہا کہ مسلمانوں کے درمیان وحدت کی بنیاد دین ہے۔شیعہ علمائ اتحاد و اخوت کو اپنا شرعی فریضہ سمجھتے ہوئے اس کے لیے کوشاں ہیں۔مسلمان جتنے ایک دوسرے کے قریب ہوں گے ان کامستقبل اتنا ہی زیادہ روشن ہو گا۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر شیرازی نے کہا کہ شیعہ سنی اتحاد کو حقیقی شکل دینے کے لیے ایم ڈبلیو ایم نے انتھک جدوجہد کی۔ یہ مجلس وحدت مسلمین کی کامیابی ہے کہ آج تکفیری گروہوں اور عالم استعمار کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے امام بارگاہ جامع الصادق میں تمام مکاتب فکر کے علماء ہم فکر و ہم آواز ہیں۔انہوں نے کہا کہ جہاں بھی دشمن نے مذہبی منافرت کی آگ لگانے کی کوشش کی شیعہ سنی علمائ نے مل کر اسے ناکام بنایا۔ہم پاکستان کی اساس پر متحد ہیں۔ ہم اپنے اتحاد کی طاقت سے استکباری قوتوں کو شکست دیں گے۔گلگت بلتستان کے وزیر زراعت میثم کاظم نے کہا کہ مجھے مجلس وحدت مسلمین کا ادنی سا کارکن ہونے پر فخر ہے۔انہوں نے کہا کہ نظریہ اسلام پر معرض وجود میں آنے والی ریاست میں مذہبی جماعتوں کا سیاسی کردار محدود کر دیا گیا ہے۔ملت تشیع نے ہمیشہ وحدت اور مذہبی رواداری کی بات کی۔ وطن عزیز میں بیرونی مداخلت کو ملک وقوم کی عزت و حمیت کے منافی قرار دیا۔مجلس وحدت مسلمین اس خود مختار پاکستان کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی جس کا خواب قائد و اقبال نے دیکھا تھا۔پارا چنار کے تحصیل ناظم آغا مزمل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملت تشیع کا سیاسی استحکام وقت کا اہم تقاضا ہے۔سیاسی نظام سے لاتعلق رہنا کسی بھی اعتبار سے درست نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*