عصام العماد: جناب ابوطالب نہ ایک معمولی مومن بلکہ اولیائے الہی میں سے ہیں

عصام العماد: جناب ابوطالب نہ ایک معمولی مومن بلکہ اولیائے الہی میں سے ہیں

یمن کے ممتاز مستبصر ڈاکٹر عصام العماد نے ائمہ طاہرین علیہم السلام کے کلام کا حوالہ دیتے ہوئے اس نشست میں کہا: جناب ابوطالب کے حوالے سے بہت ساری احادیث ائمہ طاہرین سے نقل ہوئی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل بیت(ع) جناب ابوطالب کے فضائل پر بہت تاکید کرتے تھے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جناب ابوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار کے تیسرے روز ۱۱ مارچ ۲۰۲۱ کو قم کے مدرسہ امام خمینی (رہ) میں "جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی مفکرین کی نگاہ میں" کے زیر عنوان ایک نشست کا انعقاد کیا گیا۔
یمن کے ممتاز مستبصر ڈاکٹر عصام العماد نے ائمہ طاہرین علیہم السلام کے کلام کا حوالہ دیتے ہوئے اس نشست میں کہا: جناب ابوطالب کے حوالے سے بہت ساری احادیث ائمہ طاہرین سے نقل ہوئی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل بیت(ع) جناب ابوطالب کے فضائل پر بہت تاکید کرتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا: بنی امیہ نے جناب ابوطالب کے عدم ایمان پر حدیث جعل کر کے انہیں نبی کریم کی طرف منسوب کر دیا اور اس بات کا دعویٰ کیا کہ ان احادیث کی بنا پر جناب ابوطالب گویا جہنمی ہیں اور بنی امیہ نے ان جعلی حدیثوں کو اتنا زیادہ پھیلا دیا کہ مسلمانوں کو یقین ہو گیا کہ جناب ابوطالب معاذ اللہ کافر تھے۔
اس دینی محقق نے کہا: اگر ائمہ طاہرین جناب ابوطالب کی فضیلت میں گفتگو نہ کرتے اور ان کی شان میں احادیث بیان نہ کرتے تو جناب ابوطالب کے کفر کا مسئلہ مسلمانوں میں ایک یقینی مسئلہ ہو جاتا، لیکن ائمہ معصومین نے اپنی حدیثوں میں انہیں نہ صرف ایک معمولی مسلمان قرار دیا بلکہ انہیں اولیائے الہی میں سے قرار دیا ہے۔
انہوں نے اہل بیت(ع) کی مظلومیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اہل بیت(ع) اس کے باوجود کہ خود مظلوم واقع ہوئے انہوں نے کوشش کی کہ جناب ابوطالب کی یاد کو باقی رکھیں، اور آپ کے بارے میں پیدا کئے جانے والے شکوک و شبہات کا دفاع کریں۔ اور ائمہ طاہرین کی یہی روایات سبب بنی ہیں کہ بعض اہل سنت بھی جناب ابوطالب کے دفاع میں کتابیں تحریر کریں۔
انہوں نے آخر میں کہا: یہ جناب ابوطالب ہی تھے جو بنی ہاشم اور کافروں کو اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوئے اور ان سے کہا کہ ہمارے درمیان نقطہ مشترک حضرت محمد ہیں جناب ابوطالب کی حکیمانہ پالیسی اس بات کا باعث بنی کہ حتیٰ کافر بھی رسول خدا کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*