عرب امارات کے آلۂ کاروں کے انخلا کے بعد جنوبی یمن کی ابتر صورتحال عیاں ہو گئی

عرب امارات کے آلۂ کاروں کے انخلا کے بعد جنوبی یمن کی ابتر صورتحال عیاں ہو گئی

جنوبی یمن سے عرب امارات کے آلہ کاروں کی پسپائی کے بعد اب وہاں کی ابتر اور غیر انسانی صورتحال عیاں ہوتی جا رہی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ الحدیدہ صوبے کے جنوبی علاقوں سے عرب امارات کے فوجیوں اور آلہ کاروں کی پسپائی کے بعد یمن کی قومی حکومت کی فورسز نے ان علاقوں میں اپنی پوزیشن سنبھال لی ہے۔

عرب امارات سے وابستہ جارح عناصر کے انخلا کے بعد سامنے آنے والی تصاویر وہاں ہوئی بڑے پیمانے پر تباہی کی المناک داستان سنا رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جن علاقوں میں امارات کے نمکخواروں کا کنٹرول تھا ان علاقوں میں رہائشی مکانات، عمومی مراکز، سرکاری ادارات، طبی مراکز اور پیٹرول پمپ مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔

الحدیدہ کے مغربی ساحلی علاقوں میں یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورسز کے جوانوں کے پہنچنے کا وہاں کے مقامی لوگوں نے خیر مقدم کیا ہے۔ یمنی فورسز کی پیش قدمی کے بعد وہاں طارق صالح کی سرکردگی میں موجود اماراتی ایجنٹوں نے فرار کرنے میں ہی عافیت سمجھی اور علاقے سے پسپائی اختیار کی۔

موصول رپورٹ بتاتی ہے کہ الحیمہ بندرگاہ سے یمنی فورسز کا فاصلہ چند ہی کلومیٹر رہ گیا ہے۔اس وقت یمنی فورسز کا مقصد الحدیدہ کے جنوبی ضلع الخوخہ میں واقع الحیمہ بندرگاہ کو آزاد کرانا ہے۔

یاد رہے کہ چھبیس مارچ دوہزار پندرہ سے سعودی عرب کی سرکردگی میں قائم جارح اتحاد کے حملوں میں اب تک ایک لاکھ سے زائد یمن کے عام شہری شہید جبکہ لاکھوں زخمی ہو چکے ہیں۔ اسکے علاوہ چالیس لاکھ سے زائد یمنی شہریوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر دربدری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ ساتھ ہی یہ کہ جارح سعودی اتحاد نے یمن کی پچاسی فیصد سے زائد بنیادی تنصیبات مکمل طور پر تباہ کر دی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*